تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     06-05-2026

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے…

اسلام آباد کے طاقت کے مرکز میں واقع ایک پُرتعیش عمارت‘ رات کے اندھیرے میں پولیس کی بھاری نفری‘ دروازوں پر دستک‘ اور چند گھنٹوں میں گھر خالی کرنے کا حکم یہ منظر کسی فلم کا نہیں بلکہ حالیہ کارروائی کا ہے جس نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا پاکستان میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا اس کا اطلاق بھی حیثیت دیکھ کر بدل جاتا ہے؟ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا معاملہ بظاہر ایک قانونی تنازع ہے مگر اس کے گرد اٹھنے والی بحث محض ایک عمارت تک محدود نہیں رہی۔ یہ بحث ریاست‘ قانون‘ سرمایہ کاری‘ شہری حقوق اور طبقاتی تقسیم جیسے بڑے سوالات کو چھیڑتی ہے۔ اس منصوبے کی بنیاد 2004ء میں رکھی گئی تھی جب سی ڈی اے نے ایک نجی گروپ کو تقریباً 13.5 ایکڑ اراضی 99 سالہ لیز پر دی‘ مقصد ایک فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر تھا مگر چند برسوں میں اس منصوبے نے شکل بدل لی اور ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس اور کمرشل یونٹس تعمیر ہو گئے۔ یہاں پہلا سوال پیدا ہوتا ہے اگر یہ تبدیلی قواعد کے خلاف تھی تو ابتدائی سات آٹھ سالوں میں متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ تعمیرات آنکھوں کے سامنے ہوتی رہیں‘ سرمایہ کار آتے رہے‘ اپارٹمنٹس فروخت ہوتے رہے اور حکومتیں خاموش رہیں۔ پھر اچانک 2016ء میں لیز منسوخ کر دی گئی۔ معاملہ عدالتوں میں گیا اور 2019ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کچھ شرائط کے ساتھ منصوبے کو ریلیف دے دیا جس میں اربوں روپے کی ادائیگی شامل تھی مگر یہ ادائیگیاں مکمل نہ ہو سکیں اور بالآخر 2023ء میں دوبارہ لیز منسوخی کی کارروائی شروع ہوگئی۔ یہ کہانی پاکستان میں پہلی بار نہیں دہرائی جا رہی۔ ماضی میں بھی ایسے کئی کیسز سامنے آئے جہاں ریاستی اداروں کی غفلت‘ تاخیر یا مفادات کے ٹکراؤ نے عام شہریوں کو نقصان پہنچایا۔ کراچی میں نسلہ ٹاور کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں سپریم کورٹ کے حکم پر ایک مکمل رہائشی عمارت مسمار کر دی گئی۔ وہاں بھی سینکڑوں افراد نے قانونی دستاویزات کے ساتھ گھر خریدے تھے مگر آخرکار نقصان انہی کو اٹھانا پڑا۔ اسی طرح اسلام آباد میں ایک ریسٹورنٹ کا کیس بھی اہم ہے جہاں مارگلہ ہلز میں قائم معروف ریسٹورنٹ کو ماحولیاتی اور قانونی وجوہات کی بنیاد پر بند کیا گیا۔ اس سے پہلے بری امام نوری باغ کے علاقے میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوا جہاں غریب آبادیوں کو مسمار کیا گیا۔ ان تمام مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے‘ قانون کا نفاذ‘ مگر مختلف طبقات پر اس کا اثر مختلف ہے۔ اعداد و شمار اس تضاد کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پاکستان میں شہری زمینوں سے متعلق تنازعات کے ہزاروں کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ وہ صرف عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا قانون کا نفاذ صرف آخری مرحلے پر ہونا چاہیے؟ کیا ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ خلاف ورزی ہونے دیں اور پھر برسوں بعد سخت ایکشن لے لیں؟ اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو سرمایہ کاری کا ماحول ہے۔ ملک پہلے ہی معاشی دباؤ‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور کمزور سرمایہ کاری کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں جب اربوں روپے کی پراپرٹی کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو تو یہ بیرونی اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں پراپرٹی رائٹس اور کنٹریکٹ انفورسمنٹ پہلے ہی کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے واقعات اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
مگر اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر واقعی کسی منصوبے میں قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے‘ زمین کا غلط استعمال ہوا ہے یا ریاستی وسائل کو نقصان پہنچا ہے تو کیا اسے صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جائے کہ اس میں طاقتور افراد شامل ہیں؟ اگر قانون صرف غریب بستیوں تک محدود رہے اور اشرافیہ کے منصوبوں کو استثنیٰ ملتا رہے تو یہ خود ریاست کی ساکھ کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اسی تضاد نے سوشل میڈیا پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ 'غریبوں کے لیے قانون‘ اشرافیہ کے لیے استثنیٰ‘۔ مگر حقیقت شاید اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ کئی بار ریاستی ادارے سیاسی دباؤ‘ بیوروکریٹک کمزوری یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث بروقت فیصلے نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب کارروائی ہوتی ہے تو وہ اچانک‘ سخت اور متنازع بن جاتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی اصلاح کی ضرورت سامنے آتی ہے: پیشگی نگرانی اور شفافیت۔ اگر کسی منصوبے کو ایک مخصوص مقصد کے لیے لیز دی گئی ہے تو اس کی باقاعدہ مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔ اگر خلاف ورزی ہو تو ابتدائی مرحلے پر ہی کارروائی کی جائے نہ کہ اربوں کی سرمایہ کاری کے بعد۔ اسی طرح خریداروں کے تحفظ کے لیے واضح قوانین اور انشورنس میکانزم ہونا چاہیے تاکہ وہ ایسے تنازعات کا شکار نہ ہوں۔
دنیا کے دیگر ممالک میں اس مسئلے کا حل مختلف طریقوں سے نکالا گیا ہے۔ مثال کے طور پر دبئی میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (RERA) ہر منصوبے کی سخت نگرانی کرتی ہے اور خریداروں کے پیسے مخصوص اکاؤنٹس میں رکھے جاتے ہیں تا کہ ان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سنگاپور میں بھی پراپرٹی قوانین انتہائی سخت اور شفاف ہیں جس کی وجہ سے وہاں ایسے تنازعات کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر شہری منصوبہ بندی‘ قانون کے نفاذ اور ادارہ جاتی شفافیت کو بہتر بنایا جائے تو ایسے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف عدالتوں یا ایک ادارے کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں بلکہ ایک مربوط نظام کی ضرورت ہے جس میں منصوبہ بندی سے لے کر عمل درآمد تک ہر مرحلہ واضح اور قابل احتساب ہو۔شاہراہ دستور پر کھڑی وہ عمارت صرف کنکریٹ اور شیشے کا ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے قانونی‘ معاشی اور سماجی نظام کا آئینہ ہے۔ یہ ہمیں دکھاتی ہے کہ ہمارے قوانین کیسے بنتے ہیں‘ کیسے نافذ ہوتے ہیں اور کس طرح ان کا اثر مختلف طبقات پر مختلف انداز میں پڑتا ہے۔ اگر اس واقعے سے کوئی مثبت نتیجہ نکل سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ ریاست‘ ادارے اور عوام سب مل کر اس سوال کا سنجیدگی سے جواب تلاش کریں۔ کیا ہم ایک ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہونہ صرف کاغذ پر بلکہ عملی طور پر بھی؟ اس صورتحال میں ایک پہلو جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا وہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا مؤقف اور طرزِ عمل ہے۔ ان کے بیانات میں مسلسل یہ بات دہرائی گئی ہے کہ ریاستی رِٹ کا قیام اور عدالتوں کے احکامات پر بلا امتیاز عمل درآمد ہی ان کی اولین ترجیح ہے‘ خواہ معاملہ کسی طاقتور طبقے سے ہی کیوں نہ جڑا ہو۔ اگر اس کارروائی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسے رجحان کی نشاندہی بھی کرتی ہے جہاں کم از کم پالیسی سطح پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قانون کا اطلاق صرف کمزور طبقات تک محدود نہیں رہے گا۔ ناقدین اپنی جگہ سوال اٹھا سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے حساس اور متنازع معاملات میں فیصلہ کن عملدرآمد اکثر سیاسی قیمت مانگتا ہے اور اس کے باوجود کارروائی کرنا اس بات کی علامت سمجھا جا سکتا ہے کہ ریاستی ادارے‘ کم از کم اس مرحلے پر‘ قانونی عملداری کو ترجیح دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved