مولانا حسن جان‘ ڈاکٹر محمد فاروق خان‘ مولانا نور محمد‘ مفتی سرفراز نعیمی اور اب مولانا محمد ادریس۔ ریاست‘ علما‘ صحافی‘ عوام... ہم سب کے اجتماعی گناہ کا کفارہ کتنے لوگوں کو ادا کرنا ہے؟ اس فہرست میں اُن گمنام شہدا کو بھی شامل کر لیجیے جو بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں مارے گئے۔
میں علما سے نیازمندی کا تعلق رکھتا ہوں مگر مولانا محمد ادریس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کی شہادت پر خلقِ خدا نے جس ردِعمل کا اظہار کیا اس سے اندازہ ہوا کہ ان کا شمار اُن علما میں ہوتا تھا جو اپنے علم اور اخلاق سے عوام کے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ جسے حق سمجھتے ہیں اس کا اظہار کرتے ہیں اور اگر اس کیلئے جان سے گزرنا پڑے تو گریز نہیں کرتے۔ وہ خود تلوار نہیں اٹھاتے مگر تیغ برداروں سے مرعوب بھی نہیں ہوتے۔ وہ عالم کی حدود سے واقف ہوتے اور اِنذار کی ذمہ داری پوری جرأت اور شان سے ادا کرتے ہیں۔
میسر معلومات کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ یہ ایک مظلومانہ شہادت ہے‘ مولانا حسن جان کی طرح‘ جو اُن کے خسر بھی تھے۔ ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے تھا مگر یہ وابستگی حق گوئی میں مانع نہیں ہوئی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشرقِ وسطیٰ میں ثالث بالخیر کا کردار ادا کیا ہے تو انہوں نے برسرِ منبر اس کو سراہا۔ ان کی چند تقاریر کے منتخب حصے سنے تو یہ بھی معلوم ہوا کہ پاکستان کی محبت میں سر شار تھے۔ اسے فتنوں سے محفوظ دیکھنا چاہتے تھے۔ ان فتنوں میں دین کی وہ تعبیر بھی شامل ہے جو انسانی قتل جیسے قبیح عمل کو بھی روا رکھتی ہے۔ دین کے ایک جید عالم کی طرح وہ واقف تھے کہ اللہ کے دین میں انسانی جان کی کیا حرمت ہے اور فساد کتنا بڑا جرم ہے۔
وہ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ حدیث کی تعلیم میں جب وہ روایات سامنے آئیں جن میں رسالت مآبﷺ کی دنیا سے رخصتی کا بیان ہے تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے‘ درآں حالیکہ اَن گنت بار یہ روایات پڑھا چکے۔ خود بھی روئے اور طالب علموں کو بھی رلایا۔ جس تعبیرِ دین میں ایسے لوگ بھی واجب القتل ٹھیریں وہ بلاشبہ دین میں تحریف ہے۔ وہ ایک نیا دین ہے جس کو اس دین سے کوئی نسبت نہیں جو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے۔
وہ دیوبند کی علمی روایت کے امانت داروں میں سے تھے۔ ایسی سعادت مند زندگی تھی کہ تیس سال سے حدیث پڑھا رہے تھے۔ عوام نے انہیں اپنے اعتماد سے نوازا اور صوبائی اسمبلی تک پہنچا دیا۔ ان کا دل مگر مدرسے میں لگتا تھا جہاں قال اللہ اور قال رسول اللہﷺ جیسے ملکوتی نغمے گونجتے ہیں۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے خاص تعلق تھا۔ گیارہ برس سے یہاں بخاری شریف اور ترمذی شریف پڑھا رہے تھے۔ خطرات میں گھرے تھے۔ مولانا حامد الحق کے بعد‘ وہ اہلِ علم خیبر پختونخوا میں بطورِ خاص ہدف ہیں جو ریاست کے وفادار ہیں اور انتہا پسندانہ تعبیرات سے اعلانِ برأت کرتے ہیں۔ انہیں افغانستان سے دھمکی آمیز فون کال بھی آئی۔ مولانا ادریس کو احباب نے اس جانب متوجہ کیا تو یہی کہا کہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ایسے لوگوں کے بارے میں ریاست‘ علما اور عوام کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟
سب سے پہلے ریاست۔ پے درپے واقعات کی گواہی یہ ہے کہ یہاں ان علما کے تحفظ کا کوئی اہتمام نہیں جو ریاست کے بیانیے سے متفق ہیں‘ اگرچہ اس کی بعض پالیسیوں کے ناقد ہیں۔ وہ انتہا پسند گروہوں کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ ان میں مولانا فضل الرحمن بھی شامل ہیں جن پر کئی بار قاتلانہ حملے ہو چکے۔ مولانا حامد الحق کی شہادت ابھی کل کا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے مولانا حسن جان اور ڈاکٹر فاروق خان جیسی شخصیات کو شہید کیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو بیانیے اور تعبیرِ دین کے حوالے سے ریاست کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ کے پی میں اس نقطہ نظر کے ساتھ عوامی زندگی گزارنا کتنا مشکل کام ہے۔ ریاست کو بھی یقینا اس کی اطلاع ہو گی۔ ان واقعات کا تسلسل یہ بتاتا ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
بنیادی طور پر یہ کام صوبائی حکومت کا ہے۔ دہشت گردی مگر ایک قومی مسئلہ ہے جس کے حل کی ذمہ داری ریاست نے ا ٹھا رکھی ہے۔ سلامتی کے اداروں سے وابستہ ہمارے اَن گنت جوان شہید ہو چکے۔ علما کی جانیں گئیں۔ عام شہری مارے گئے۔ سب کی حفاظت ریاست کے ذمے ہے مگر جو لوگ نمایاں ہوں وہ دہشت گردی کا خا ص ہدف ہوتے ہیں۔ لازم ہے کہ ریاست اس کیلئے خصوصی سیل بنائے اور ان لوگوں کا دفاع کرے جو جان ہتھیلی پر رکھ کر محراب ومنبر سے ایسی دینی تعبیرات کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔ یہ مجاہد جو قلم اور زبان سے فتنوں سے لڑتے ہیں‘ ان کیلئے تلوار اٹھانا ریاست کا کام ہے۔
ایک ذمہ داری عوام کی بھی ہے۔ مولانا ادریس کو بھرے بازار میں شہید کیا گیا۔ وڈیو موجود ہے کہ قاتلوں نے پورے اطمینان کے ساتھ اپنا کام کیا۔ مجھے حیرت ہے کہ کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک ایسے سماج میں‘ جس میں ہر آدمی ہتھیار بردار رہتا ہے‘ وہاں کوئی ایک گولی نہیں چلی جو قاتلوں کو روکتی۔ اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ دینی انتہا پسندی کے ساتھ یہاں سیاسی انتہا پسندی کو جس طرح فروغ دیا گیا ہے‘ وہ بھی باعثِ تشویش ہے۔ مولانا ادریس نے کلمۂ حق کہا تو ان کے خلاف صرف قاتلوں نے ہتھیار نہیں اٹھایا‘ سوشل میڈیا کے مجاہد بھی میدان میں نکلے اور مولانا پر تیروں کی بارش کر دی ۔ یہی کلٹ کی نفسیات ہے۔ میں برسوں سے متنبہ کر رہا ہوں کہ یہ انتہا پسندی بھی سماج کیلئے اسی طرح زہرِ قاتل ہے جس طرح مذہبی انتہا پسندی۔ عوام کو اس کی شناخت سے بھی خبردار رہنا ہے۔ معاشرے کی بربادی میں دونوں کا حصہ برابر ہے۔
بڑی ذمہ داری علما کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ چند عشروں پہلے جب یہ انتہا پسندانہ تعبیر سامنے آئی تو ہمارے دینی حلقوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ بعض اہلِ بصیرت نے اس وقت بھی متنبہ کیا مگر انہیں امریکہ اور سامراج کا ایجنٹ کہا گیا۔ اب وقت نے ان کے مؤقف کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ یہ آگ ہمارے سارے اثاثے کو راکھ بنا رہی ہے۔ اب علما کو اس آگ کو خود بجھانا ہے۔ علما کو سوچنا ہے کہ ہم کب تک مولانا ادریس جیسے نفوسِ قدسیہ کے لہو سے یہ آگ بجھاتے رہیں گے؟ ہمیں اگر اپنے معاشرے کو بچانا ہے تو یہاں سماجی و معاشی استحکام کیلئے کام کرنا ہے۔ امن کو اپنی ترجیح بنانا ہے۔ جذبات کی سوداگری‘ مذہب کے نام پر ہو یا سیاست کے عنوان سے‘ اسے بالجماعت مسترد کر دینا چاہیے۔ قوم کو احتجاجی موڈ سے نکال کر تعبیر کی راہ دکھانی چاہیے۔ اسی سے ان لوگوں کیلئے بھی راستے کھلیں گے جن کو ریاست سے جائز شکایات ہیں۔
مولانا محمد ادریس کی شہادت ایک بڑا واقعہ ہے۔ اسے الارم سمجھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اثاثوں کی حفاظت کرنی ہے‘ ان اثاثوں میں وہ علما اور دانشور بھی شامل ہیں جو گالی کھا کر بھی‘ خطرات مول لے کر بھی سماج کیلئے تذکیر کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ یہ ہمارا سماجی اثاثہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہمیں اپنے ریاستی اثاثے کو بھی محفوظ بنانا ہے‘ ان قوتوں سے جو اسے کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا محمد ادریس کی مغفرت فرمائے اور ان کی شہادت ہمیں حقیقی دشمن کے خلاف یکسو کر دے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved