جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو ملک بھر میں آپریشن بنیانٌ مرصوص یعنی معرکۂ حق کا ایک سال پورا ہونے کا جشن منایا جا رہا ہو گا۔ ہمارا جشن منانا بنتا بھی ہے کیونکہ ایک سال پہلے ہم نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی ناک خاک میں رگڑ دی تھی اور مودی کی ہندوتوا کے منہ پر ایسا زوردار طمانچہ رسید کیا تھا کہ اس کا درد اب بھی ہمارے اُسے پوری شدت کے ساتھ محسوس ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معرکے کو ایک سال گزر جانے کے باوجود گاہے ایسے بیانات سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا اور یہ کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے گا‘لیکن یہ محض بیان ہی ہیں۔ آپریشن سندور برسات کے موسم میں بنی کسی دلدل میں ایسا دھنسا اور پھنسا پڑا ہے کہ ہلنے کا نام نہیں لیتا۔ مجھے تو اندیشہ ہے کہ کہیں آپریشن سندور نے بھارتی جارحیت کو وِدوا ہی نہ کر دیا ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ ایسے بیانات بھی مسلسل آ رہے ہیں جن میں پاکستان کی فضائی برتری کا اعتراف کیا گیا ہوتا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں جب آپریشن بنیانٌ مرصوص کو سات ماہ ہو چکے تھے‘ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) وید پرکاش ملک نے اعتراف کیا کہ پاکستان جدید عسکری ٹیکنالوجی میں بھارت سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ رافیل طیاروں اور ایس400دفاعی نظام کی تباہی پاکستان کی عسکری برتری کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی ہے مگر پاکستان کے پاس بہتر ہتھیار اور جدید ساز و سامان موجود ہے جس سے پاکستان کی عسکری برتری واضح ہے۔
ترکیہ ٹوڈے کی گزشتہ روز کی اشاعت میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق آپریشن بنیانٌ مرصوص میں تقریباً 72 بھارتی لڑاکا طیاروں پر مشتمل سٹرائیک پیکیج کے مقابلے میں پاکستان ایئر فورس کے 42 طیاروں نے ایک منظم گھات لگا کر کارروائی کی جس کے نتیجے میں بھارتی فارمیشنز جن میں ڈیسالٹ رافیل (رافیل) طیارے بھی شامل تھے‘ ایک مہلک 'کِل چین‘ (Kill Chain)کے اندر آ گئے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کے چھ طیارے مار گرائے گئے۔ اور بھارت کے ان چھ مار گرائے جانے والے طیاروں کا امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ایک سال میں جتنا مذاق اڑایا شاید کسی نے نہ اڑایا ہو گا۔ ان کی جانب سے دیے گئے ہر بیان میں طیاروں کی تعداد بڑھ جاتی تھی۔ کبھی کہا کہ پاکستان کی فضائیہ نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے‘ کبھی کہا آٹھ طیارے مار گرائے اور ایک بار تو ٹرمپ طیاروں کی تعداد 11 تک لے گئے تھے۔ 29 اکتوبر 2025ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ رواں سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپ میں سات بالکل نئے اور خوبصورت طیارے (Seven brand new, beautiful planes) مار گرائے گئے تھے۔ انہوں نے بھارت کے مار گرائے جانے والے طیاروں کا اتنی بار اور اتنی روانی سے ذکر کیا کہ رافیل طیارے ایک محاورے کے طور پر استعمال ہونے لگے۔ میچز کے دوران گرتے طیاروں کی تمثیلیں پیش کی گئیں اور اپنے دوست ملک چین میں تو اس حوالے سے ایک گروپ نے ایک وڈیو بھی بنا ڈالی تھی جو بہت وائرل ہوئی ۔
میرے خیال میں گرائے گئے رافیل طیارے ہی نہیں پورا معرکۂ حق ایک محاورہ بن چکا ہے۔ آپ بیرونِ ملک کسی سے بھی پاکستان اور بھارت کے مابین تقابل کا کہیں تو وہ فوراً سِکس زیرو کا اشارہ کرے گا یعنی جنگ میں پاکستان کا ایک بھی طیارہ نہیں گرا تھا جبکہ بھارت کے چھ طیارے مار گرائے گئے تھے۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص اس حوالے سے بھی انفرادیت رکھتا ہے کہ اس نے جنگوں کی تاریخ ہی نہیں جنگیں لڑنے کے تمام تر اسلوب بھی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ کہاں وہ زمانہ تھا جب فوجیں ایک دوسرے کے مقابل آتی تھیں جن میں کچھ پا پیادہ اور کچھ گھڑ سوار ہوا کرتے تھے۔ کچھ فیل سوار بھی ہوتے تھے۔ کچھ کے پاس نیزے‘ کچھ کے پاس تیر کمان اور کچھ کے پاس تلواریں ہوا کرتی تھیں اور وہ ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے لڑتے تھے۔ دو بدو! وَن آن ون۔ معرکۂ حق نے دنیا کو بتایا کہ اب جنگیں ڈرونز‘ میزائلوں اور سائبر ٹیکنالوجی پر عبور کا کھیل بن چکی ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے۔ معرکۂ حق کے بعد امریکہ ایران اور اسرائیل ایران جنگ نے بھی یہ حقیقت ثابت کی اور اب جو جنگ ایران اور امریکہ کے مابین لڑی جا رہی ہے‘ جس میں اب کچھ وقفہ آیا ہے‘ اس سے بھی یہ واضح ہوا کہ جنگیں اب میزائلوں سے لڑی جائیں گی۔ دیکھ لیں امریکہ کا کوئی فوجی ایران کی سرزمین پر نہیں اترا۔ اسرائیل کا بھی کوئی فوجی ایران نہیں پہنچا‘ ایران کا بھی کوئی فوجی اسرائیل یا امریکہ نہیں گیا‘ اس کے باوجود تینوں ملکوں نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے ایک دوسرے کے علاقوں میں بے تحاشا تباہی مچائی ہے۔
آپریشن بنیانٌ مرصوص کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی قوم سے اپنے خطاب میں پاکستان کو خبردار کیا کہ اگر انڈیا پر مستقبل میں حملے ہوئے تو وہ اپنے پڑوسی کو سزا دے گا۔ انڈین وزیر اعظم نے کہا کہ انڈیا نے ایک 'نیو نارمل‘ کی بنیاد رکھی ہے جس میں دہشت گردوں اور دہشت گردی کی سہولت کاری کرنے والوں میں فرق نہیں کیا جاتا۔ ہاں یاد آیا آپریشن بنیانٌ مرصوص نے ایک نیو نارمل ضرور قائم کیا تھا لیکن یہ اصلی والا نیو نارمل بھارتی وزیراعظم کے نیو نارمل سے بالکل مختلف ہے۔ اور وہ نیو نارمل یہ ہے کہ اب خطے کے ممالک پر بھارت کی دھونس نہیں چلے گی‘ بھارت اگر تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بڑا بھائی بن کر امن اور سکون کے ساتھ رہے تو فبہا‘ بصورت دیگر خطے کے ممالک مل کر اس کی وہ حالت کر دیں گے جیسی پاکستان نے معرکۂ حق میں کی تھی۔ ایک نیو نارمل چین نے گلوان کی وادیوں میں قلمبند کیا تھا۔ دوسرا نیو نارمل پاکستان کے معرکۂ حق نے طے کر دیا اور تیسرا نیو نارمل بنگلہ دیش میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں نے تحریر کر دیا ہے۔ بھارت کے لیے ان نیو نارملز سے نکلنا ناممکن ہو چکا ہے۔ یقین نہیں آتا تو بھارت سے کہیں کہ کوئی مِس ایڈونچر کر کے دیکھ لے۔
معرکۂ حق کے ایک سال بعد اب صورتحال یہ ہے کہ دنیا پاکستان کی قیادت اور اس ملک کی صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہے اور پاکستان کے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ کئی ممالک پاکستان سے اسلحہ خریدنا چاہتے ہیں جبکہ مزید کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اور اب پاکستان نے ایران امریکہ جنگ ختم کرانے کے سلسلے میں ثالثی کا جو کردار ادا کیا ہے اس نے پاکستان کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے مزید اجاگر کر دیا ہے۔ آگے مواقع ہی مواقع ہیں۔ ایسے مواقع کہ پاکستان قرضے اتار کر اقتصادی لحاظ سے اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکتا ہے اور عالمی لیڈر بھی بن سکتا ہے۔ لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ہم بحیثیت قوم ان مواقع سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved