بھارت کی ریاستوں آسام‘ مغربی بنگال‘ پونڈی چری‘ کیرالا اور تامل ناڈو میں حالیہ ریاستی انتخابات کے نتائج نے دنیا بھر میں فسطائی جمہوریت اور پاپولزم کی بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر انتخابی نتائج بی جے پی کیلئے کامیابی کی خبر لائے ہیں مگر یہ کامیابی ریاستی ہتھکنڈوں کی مرہونِ منت ہے۔ تامل ناڈو میں تو مشہور فلمی اداکار وں کا سیاسی راج ہوا کرتا ہے۔ اس بار بھی مشہور فلمی اداکار جوزف وِجے کی جماعت نے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ آسام میں بی جے پی مسلسل تیسری بار جیت گئی۔ پونڈی چری میں مخلوط اتحاد میں بی جے پی موجود رہی۔ کیرالا میں مدتوں کے بعد بائیں بازو کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ کانگریس کے سیاسی اتحاد‘ یو ڈی ایف نے کامیابی حاصل کی۔ لیکن سب سے توجہ خیز نتائج مغربی بنگال کے ہیں جہاں بی جے پی نے غیر متوقع فتح حاصل کی ہے۔ 15سال کے طویل انتظار کے بعد وہاں ٹی ایم سی یعنی آل انڈیا ترنمول کانگریس کا راج ختم ہوا اور ساتھ ہی بھارت میں آخری بائیں بازو کی ریاستی حکومت کا انہدام بھی ہو گیا۔ وہاں کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی جو 15 سال سے بی جے پی کیلئے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی تھیں‘ اقتدار سے باہر ہو گئیں۔ وہاں 294 نشستوں میں سے 207 بی جے پی نے حاصل کرکے دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔
دنیا بھر میں کروڑوں لوگ مودی کو سخت ناپسند کرتے ہیں‘ خود بھارت میں بھی ان کے خلاف بہت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے اور اب ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ انتخابات میں جیت کیلئے یہ انتہاپسند جماعت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ بی جے پی نے اس الیکشن میں مسلم دشمن کارڈ بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور لاکھوں ووٹروں کو الیکشن کمیشن کے ذریعے ووٹر ز کی فہرستوں سے نکلوا دیا۔ ہندوتوا تحریک کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا اور کچھ فائدہ مخالف جماعت کے انتشار سے اٹھا لیا۔ اس الیکشن سے دو نتائج نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ جمہوری نظام جو برصغیر اور نسبتاً کم ترقی یافتہ خطوں میں ایک مقدس گائے سمجھا جانے لگا ہے‘ اس نظام میں اتنی کمزوریاں‘ شگاف موجود ہیں اور وہ ہتھکنڈے سیاستدانوں کے ہاتھ آچکے ہیں جن کی بدولت کوئی جماعت مقبولیت حاصل کر سکتی اور ایوانِ اقتدار تک پہنچ سکتی ہے۔ بی جے پی اس مرتبہ بھی انہی ہتھکنڈوں کے سہارے فتح تک پہنچی ہے۔ دوسرا نتیجہ صرف کم ترقی یافتہ ملکوں سے متعلق نہیں بلکہ امریکہ سمیت مغربی ممالک بھی اس کے شکار ہوئے ہیں۔ اور وہ یہ کہ اقبال کے الفاظ میں بندوں کو تولا نہیں جاتا بلکہ صرف گنا جاتا ہے۔ دو سو گدھوں کے دماغ ایک انسانی فکر کا مقابلہ کر سکیں یا نہ کر سکیں‘ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ایک طرف 200 ہوں اور دوسری طرف ایک۔ گنتی میں دو سو ہی ہمیشہ فائق رہیں گے۔ خود امریکہ میں ٹرمپ کا دو بار اقتدار تک پہنچنا اس کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ دانشور اور سنجیدہ لوگ ہمیشہ تعداد میں کم ہوتے ہیں‘ انہیں نظر انداز کرکے اکثریت کو قابو کر لیا جائے تو تخت آپ کے پیروں تلے ہوتا ہے۔ اب بہت کم سیاسی جماعتیں یہ سوچتی ہیں کہ ملک اور قوم کا بڑا فائدہ کس میں ہے۔ وہ اب پاپولزم کی اسیر ہیں اور ان کے نتائج بھی انہیں وقتی فتح کی صورت میں مل جاتے ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے کہ پاپولزم کتنا پائیدار ہوتا ہے۔
مغربی بنگال میں 294 نشستوں کیلئے لگ بھگ سات کروڑ چار لاکھ ووٹرز موجود تھے۔ ان میں سے قریب چھ کروڑ 55 لاکھ (92 فیصد) لوگوں نے ووٹ ڈالا ۔ تقریباً 91 لاکھ ووٹرز کو الیکشن کمیشن کے ذریعے بی جے پی نے پہلے ہی ووٹرز لسٹ سے نکلوا دیا تھا۔ ان میں سے کچھ تو وہ تھے جو ابتدائی نظرثانی کے دوران وفات پا جانے‘ منتقل ہو جانے یا دہرے اندراج کی وجہ سے نکالے گئے جبکہ 27 لاکھ افراد ایسے تھے جن کی قانونی حیثیت مشکوک قرار دی گئی۔ اس کیلئے کئی ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ اگرچہ یہ تمام لوگ مسلمان نہیں تھے لیکن ان میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی‘ سو زیادہ زد انہی پر پڑی۔ ایشو یہ بنایا گیا کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے منتقل ہو کر مغربی بنگال میں آباد ہوئے تھے اس لیے بھارتی شہری نہیں ہیں۔ حقیقت یوں نہیں ہے۔ ان میں بہت سے لوگ کئی نسلوں سے وہاں آباد تھے‘ اور کافی بڑی تعداد وہ تھی جو 1947ء سے بھی پہلے یہیں مقیم تھے۔ لیکن بی جے پی نے زور لگا کر اور اقتدار میں ہونے کا فائدہ اٹھا کر یہ کام کروا لیا۔ بی جے پی کو ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے پانچ فیصد ووٹ زیادہ پڑے جبکہ کُل نکلوائے جانے والے ووٹ مجموعی ووٹوں کا 12 فیصد تھے۔ یقینا اس سے نتائج میں بہت بڑا فرق پڑا ہے۔ لیکن تنہا یہی وجہ نہیں تھی۔ ممتا بینر جی 2011ء سے ترنمول کانگریس کی جانب سے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ تھیں اور تین بار منتخب ہو چکی تھیں۔ برصغیر کا سیاسی مزاج یہ ہے کہ ایک ہی چہرہ بار بار دیکھتے دیکھتے لوگ تنگ آجاتے ہیں۔ خاص طور پر جب بہت سے مسائل حل نہ ہوئے ہوں بلکہ مزید بڑھ گئے ہوں۔ مغربی بنگال میں ممتا بینر جی کی مقبولیت بہت کم ہو چکی تھی۔ بیروزگاری‘ مہنگائی اور کرپشن کے الزامات نے انہیں عوامی سطح پر کمزور کر دیا تھا۔ اسی کے ساتھ مخالفوں پر تشدد اور انہیں کچلنے کی پالیسی بھی سب کے علم میں تھی۔ بنگلہ دیش میں حالیہ بھارت مخالف تحریک اور ہندوؤں پر مسلمانوں کے مبینہ مظالم کی خبریں بھی بی جے پی کے حق میں گئیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ٹی ایم سی مخالف جماعتوں کو ساتھ ملا لیا اور مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا کو بھر پور طریقے سے ہوا دی۔ بی جے پی نے ٹی ایم سی کو مسلمانوں کی حمایت کرنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اور اَن پڑھ ہندو آبادی کے سامنے مسلمانوں کے مغربی بنگال میں غلبے کی جھوٹی تصویریں پیش کیں۔ امیت شاہ اس پروپیگنڈا میں پیش پیش تھا۔ اس نے جلسوں میں کہا کہ ہم مغربی بنگال میں دوسری بابری مسجد بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ہندو جذبات کو ابھارنے اور مسلمانوں کے مقابلے پر لانے کا حربہ تھا۔ اس سے بی جے پی نے دو مقاصد حاصل کیے۔ ایک تو ان کی ازلی مسلم دشمنی کے مقصد کی تکمیل کرتا تھا۔ دوسرا مغربی بنگال میں ہندو بمقابلہ مسلم کی ایک نئی روایت ڈال دی گئی جو ممتا بینر جی کے زمانے میں موجود نہیں تھی۔ کانگریس کی پالیسی کہ وہ تمام سیٹوں پر خود الیکشن لڑے گی‘ بی جے پی کے حق میں گئی اور کانگریس نے ممتا مخالف ووٹ بانٹ دیے۔ اسد الدین اویسی پر ہمیشہ سے یہ الزام رہا ہے کہ ان کی اے آئی ایم آئی ایم دراصل بی جے پی کا خفیہ ہاتھ ہے۔ اس بار بھی انہوں نے مسلم ووٹ توڑ دیے۔ یہ سب عوامل کامیابی سے سیاسی فتح کیلئے استعمال کیے گئے۔
ممتا بینر جی اپنی سیٹ بھی ہار گئیں تاہم انہوں نے 100نشستوں پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ یہ انتخاب کتنے منصفانہ تھے یہ ایک الگ بحث ہے۔ بہرحال بی جے پی کے اقتدار کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کیلئے بھی ایک فکر کی بات ہے کہ بی جے پی اس کے دوسرے ہمسایے صوبے میں اقتدار میں آچکی ہے۔ میرے خیال میں دونوں ملکوں کے درمیان مسائل خاص طور پر سرحدی مسائل اور دریائی پانی کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ آسام اور مغربی بنگال میں مسلم دشمن لہر میں بھی اضافہ ہوگا جہاں ابھی سے مسجدوں اور مسلمانوں کی دکانوں پر حملے شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان کو اس معاملے میں زیادہ فرق تو نہیں پڑتا کہ بی جے پی مرکز میں پہلے ہی اقتدار میں ہے اور دور رس نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مودی حکومت نے اندر سے بھارت کی یکجہتی کو جتنا نقصان پہنچایا ہے‘ اتنا باہر سے نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔ اس لیے مودی دور جتنا بھی طویل ہو بالآخر بھارت کو کمزور تر کرکے پاکستان کو فائدہ ہی پہنچائے گا۔ مودی کو اس وقت کسی بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں لیکن کب تک ایسا رہے گا۔ اقبال نے کہا تھا:
خون اسرائیل آ جاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسمِ سامری
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved