تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     10-05-2026

ایک دوسرے کی طاقت

پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں‘ معرکہ حق کی ''سالگرہ‘‘ منائی جا رہی ہے۔ ایک سال پہلے مئی کے اسی مہینے کے انہی دنوں میں بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا یا یہ کہیے کہ پہلگام میں دہشت گردی کی ایک واردات کو ''جواز‘‘ بنا کر اُس نے اس حماقت کا ارتکاب کر ڈالا تھا۔ پاکستان پر الزام لگایا گیا‘ الزام لگانے والا خود ہی منصف بن گیا‘ فیصلہ صادر کر دیا کہ یہ سب کِیا دھرا پاکستان کا ہے۔ اسی نے دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں بھجوائے ہیں اور کنٹرول لائن سے تین سو کلو میٹر اندر گھس کر خون کا دریا بہا دیا ہے۔ پاکستان نے بار بار کہا‘ ایک نہیں ہزار بار کہا کہ ہمارا اس واردات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم نے ایسے کسی دہشت گرد کو نہیں پالا پوسا جو لاکھوں بھارتی سپاہیوں کو چیرتا ہوا‘ پہلگام پہنچے اور خونی کھیل کھیلے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس الزام کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی غیرجانبدار بین الاقوامی فورم کو یہ معاملہ سونپ دیا جائے۔ بھارت ثبوت پیش کرے اور ثابت کرے کہ اس کے پیچھے ہمارا ہاتھ ہے‘ تو ہم ہر سزا بھگتنے کو تیار ہوں گے۔ لیکن بھارتی نیتاؤں نے اس مطالبے پر کان دھرنے کے بجائے‘ اس کی تائید کرنے کے بجائے اپنی رٹ جاری رکھی‘ الزام لگاتے اور دھمکیاں دیتے چلے گئے۔ اس سے اس شبے نے تقویت پکڑ لی کہ یہ سب ان ہی کا کِیا دھرا ہے۔ اس ''فالس فلیگ آپریشن‘‘ کے پیچھے ان ہی کے اپنے خفیہ کارندے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر حملہ کرنے کا جواز تراشنے کے لیے یہ کارروائی ڈالی ہے۔ ان دنوں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اپنی بھارت نژاد اہلیہ کے ساتھ نئی دہلی میں براجمان تھے جبکہ نریندر مودی سعودی عرب میں سواگت کے مزے لوٹ رہے تھے۔ وہ واپس آئے تو سیدھا مقبوضہ کشمیر جانے کے بجائے صوبائی انتخابی مہم میں شریک ہونے پہنچ گئے‘ ووٹروں کو ورغلانے اور اشتعال دلانے لگے۔ پاکستان کا بیانیہ دنیا بھر میں گونج رہا تھا۔ بین الاقوامی تحقیقات کے مطالبے پر کان دھرے جا رہے تھے اور دور و نزدیک پاکستان کے مؤقف کی اصابت کا اعتراف کیا جا رہا تھا۔ بھارت نے دنیا بھر میں اپنے وفود بھیجے‘ پاکستان نے بھی بلاول بھٹو زرداری کے زیر قیادت معتبر سیاستدانوں کا ایک وفد یورپ اور امریکہ کے دورے پر روانہ کیا۔ وہ آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر کے رائے عامہ ہموار کرتے رہے‘ پاکستان کی پیش قدمی جاری رہی لیکن بھارت اپنی بات رٹو طوطے کی طرح دہراتا چلا گیا‘ یہاں تک کہ پاکستان پر چڑھ دوڑا۔ پاکستان پر فضائی حملہ کیا‘ آبادیوں کو نشانہ بنایا‘ اور ڈنکے بجانے لگا کہ ہم نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تاراج کر ڈالا ہے۔ بھارتی میڈیا زہر اگلنے لگا‘ پاکستان کے مختلف شہروں پر قبضہ کرنے کی خبریں نشر ہونے لگیں۔ یہ دعویٰ تک کر ڈالا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف فرار ہو گئے ہیں‘ گویا بھارتی پرچم پاکستانی سرزمین پر لہرا رہے ہیں۔ پاکستان کی افواج نے حملہ آوروں کو دبوچ لیا‘ اس کے لڑاکا طیارے مار گرائے۔ ایئر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنا دیا۔ رافیل گِدھوں کی طرح پھڑ پھڑا رہے تھے‘ پاکستانی فضائیہ فضاؤں پر چھا چکی تھی۔ چار روز جاری رہنے والی جنگ میں بھارت کو منہ کی کھانا پڑی‘ صدر ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوئی‘ دونوں ملکوں میں ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹل گیا کہ دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس تھے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ وہ دن جائے اور آج کا آئے صدر ٹرمپ اپنے سر پر اس جنگ بندی کا سہرا سجائے ہوئے ہیں۔ وہ بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ بھارتی طیارے مار گرائے گئے‘ دو‘ تین سے ہوتے ہوئے گنتی آٹھ تک بلکہ اس سے بھی آگے پہنچ چکی ہے۔ بھارت نے پاکستان پر جو ڈرون چھوڑے تھے وہ بھی مٹی کا ڈھیر بن گئے‘ ہانپتی کانپتی بھارتی فضائیہ امان طلب کرنے لگی۔ جنگ بند ہوئی لیکن پاکستان کی طاقت اور صلاحیت کی دھاک بٹھا گئی۔ اس کی مسلح افواج نے جنرل عاصم منیر کے زیر قیادت تاریخ کا رُخ بدل ڈالا تھا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل بنایا گیا‘ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا ادارہ قائم ہوا‘ جس کی سربراہی انہیں سونپی گئی۔ فضائی اور بری افواج کی صلاحیتوں کی دھوم مچ گئی‘ پاکستان نئی بلندیوں اور نئی رفعتوں کو چھونے لگا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران جہاں پاکستان کا قد اونچا ہوا ہے‘ وہاں اس پر دوستوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں استحکام لانے کے لیے اس کے کردار کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ بھارت جسے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا‘ امریکی تھپکیاں اس کو مست کیے ہوئے تھیں‘ اپنی اہمیت اور افادیت کھو بیٹھا ہے۔ چین کے مقابلے کی بات تو رہی ایک طرف‘ وہ تو پاکستان کے سامنے بھی ٹھہر نہیں پایا۔ پانچ گُنا چھوٹے ملک نے اس کے گھٹنے ٹکوا دیے ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کا رخ آسمان کی طرف ہے اور بھارتی قیادت پر زمین تنگ ہے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان نے ثالث کے طور پر جو کردار ادا کیا‘ اس کی بھی دنیا بھر میں تحسین کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے وفود کو اسلام آباد میں آمنے سامنے بٹھایا گیا اور اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان ہی رابطہ بنا ہوا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف مرجع خلائق ہیں۔ پوری دنیا ان کا اعتراف کر رہی ہے‘ ان کی مساعی کی شکر گزار ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باقاعدہ دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کی سلامتی کے ضامن بن گئے ہیں۔ پاکستان نے ایران‘ امریکہ‘ سعودی عرب اور چین کے ساتھ اعتماد سازی کی ہے اور داد کا مستحق ٹھہرا ہے۔ ایک سال پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ پاکستان اس طرح اپنی طاقت اور صلاحیت کا اظہار کرے گا۔ بلندیوں کا سفر جاری ہے۔ سول اور فوجی قیادت ایک دوسرے کے شانہ بشانہ مصروفِ عمل ہے۔ اپنے اپنے سر پر سہرا سجانے کے بجائے‘ ایک دوسرے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم فیلڈ مارشل کے لیے رطب اللسان ہیں‘ تو فیلڈ مارشل اور فوجی ترجمان وزیراعظم کو داد دے رہے ہیں۔ دونوں کی بات درست ہے‘ دونوں نے کمال کر دکھایا ہے۔ دو قالب یک جان ہو کر نئی تاریخ لکھ ڈالی ہے‘ پاکستانی قوم کو یقین دلا دیا ہے کہ ریاستی ادارے اسے ناقابلِ تسخیر بنا سکتے ہیں اس کی حفاظت کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ اے کاش ہمارے اہلِ سیاست بھی یہی روش اپنا لیں‘ ایک دوسرے کا اعتراف کرنے لگیں‘ ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں‘ تو پھر پاکستان کو اور آگے بڑھانا آسان ہو جائے گا۔ دفاعی طور پر عظیم پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہی نہیں ہونا‘چلنا بلکہ دوڑنا ہے۔ اپنے عوام کو آسانیاں فراہم کرنی ہیں‘ انہیں مالا مال کرنا ہے۔ ایک دوسرے کی طاقت بن کر ہی ہم ہر میدان میں جھنڈے گاڑ سکیں گے: ہر ''محاذِ جنگ‘‘ پر ہم لڑیں گے بے خطر!!
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved