ایک طرف معرکۂ حق اور دوسری طرف ایران جنگ میں ثالثی کے درجات‘ ان دونوں عوامل کے بیچ میں ریاستی حاکمیت کا رعب و دبدبہ بڑھ گیا ہے اور روایتی سیاست کا حشر ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے پھنے خانوں کے زمانوں میں کسی نہ کسی صورت سیاست زندہ رہتی تھی۔ اقتدار کی سختی کے باوجود اپوزیشن کی سیاست چلتی رہتی تھی۔ یہ دور ایسا آیا ہے کہ تمام پرانی روایات اندھیروں میں گم ہو گئی ہیں۔ جو سیاست باقی ہے وہ اس خاص قسم کی جو سرکار کی سرپرستی میں ہی چل سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ وہ ہوا ہے کہ اس کی سیاست اڈیالہ جیل کی ملاقاتوں تک محدود ہو گئی ہے۔
اہلِ نظر مانیں گے کہ ایسا دور کبھی دیکھا نہیں۔ سیاست تو ایک طرف رہی صحافت کے حالات ایسے بن چکے ہیں کہ ساری کاٹ اس میں سے نکل گئی ہے۔ اول تو اخبارات کی وہ وقعت نہیں رہی جو ایک زمانے میں ہوا کرتی تھی اور جو بچی ہے اس پر احتیاط کے سائے بہت گہرے پڑ گئے ہیں۔ میڈیا کا نیا چہرہ یوٹیوب کی صورت میں ہے۔ باہر کے ملکوں میں یوٹیوبر اور پوڈکاسٹ کرنے والوں کا بڑا چرچا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں رہتے ہوئے یوٹیوب پر زیادہ کمالات دکھانا اتنا آسان نہیں۔ آج کے ماحول میں چھوٹی چھوٹی بات پر دھر لیا جانا ایسا اچنبھا نہیں رہا۔ اس وجہ سے یوٹیوب پر بھی احتیاط کا دامن مضبوطی سے پکڑنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ میں اس سال کانگریس کے مڈٹرم الیکشن ہونے ہیں اور صدارتی انتخاب کا سال 2028ء ہے۔ لیکن اب سے صدارتی انتخاب کے بارے میں چہ میگوئیاں اور قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ وہاں کی سیاست میں ایک زندہ پن ہے جو جاری و ساری رہتا ہے۔ انگلستان میں لوکل الیکشن ہوئے ہیں جس میں کیئر سٹارمر کی لیبر پارٹی پٹ کے رہ گئی ہے۔ لوکل الیکشن کے نتائج کی بنیاد پر مستقبل کی سیاست کے اندازے اب سے شروع ہو گئے ہیں۔ یہاں کی سیاست کو پچھلے انتخابات کا جو ٹیکہ لگا اور جس طریقے سے فارم 47کی بدولت نتائج مرتب کیے گئے عام آدمی کا دل روایتی سیاست سے بہت حد تک بیزار ہو چکا ہے۔ خیال پختہ ہو چلا ہے کہ انتخابی عمل میں نتائج پہلے سے طے ہوں تو اتنے تجسس یا تگ و دو کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے۔ گزرے وقتوں کے شہسواروں نے بڑی کوشش کی کہ سیاست کا کیڑا پاکستان کے جسمِ خاکی سے نکال دیا جائے۔ کوئی کامیاب نہ ہوا سوائے اب جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ بے شک یار دوست کہتے رہیں کہ لوگوں کی سوچ وہیں ہے جہاں تھی اور موقع آئے تو پھر دیکھیں کیسا طوفان برپا ہوتا ہے۔ بات درست ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں لیکن وہ موقع کہاں سے آئے گا اور اس کی اجازت کون دے گا؟ مسئلہ تو یہ ہے۔
ملکی ماحول صرف سیاست سے نہیں بنتا۔ میڈیا ایک ماحول بناتا ہے‘ وکلا کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔ پرانے وقتوں میں عدلیہ سے کچھ نہ کچھ امید جڑی رہتی تھی۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں پورے ملکی منظر نامے پر حالات کا سٹیم رولر کچھ یوں پھرا ہے کہ کیا وکلا برادری اور کیا دوسرے‘ سب کی روح جیسے کھینچ لی گئی ہو‘ یہ کیفیت بن چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ دیہاڑیاں سب کی لگی ہوئی ہیں کیا صحافی اور کیا وکیل یا کوئی اور‘ اپنے اپنے دھندوں میں لگے ہوئے ہیں اور اسی میں خوش معلوم ہوتے ہیں۔ مہنگائی کا رونا بجا۔ لیکن مہنگائی اور خراب معاشی حالات کا زیادہ اثر ان طبقات پر پڑتا ہے جن کی آواز اتنی ہوتی نہیں اور اسی وجہ سے جن کے معمولات ریاستی ترجیحات میں اتنا وزن نہیں رکھتے۔ بڑے مفادات کا تحفظ تو ریاست کرتی ہے لیکن جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے انہیں نمائشی مہمات سے یا لیپ ٹاپ کی تقسیم جیسی چھوٹی موٹی سکیموں سے خوش رکھا جاتا ہے۔ ایسی شعبدہ بازیاں چلتی رہتی ہیں اور چونکہ موجودہ تمام کا تمام سیاسی ڈھانچہ غیرنمائندہ طریقوں سے معرضِ وجود میں لایا گیا شعبدہ بازی اور نمائش پر انحصار کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
معرکۂ حق اور سفارتی کامیابیوں کے باوجود سرکار کے وفادار حلقے بھی اتنا تو مانیں گے کہ پاکستان کے معاشی حالات کمزور ہیں۔ اور اقوام عالم میں پاکستان کو اپنا جائز مقام تب تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان معاشی طور پر مضبوط نہ ہو۔ ثالثی کے حوالے سے پاکستان کا جتنا بھی چرچا ہوا ہے اس بات کو چھپا نہیں سکتے کہ یو اے ای کے پیسے دینے کے بعد سعودی عرب ہماری مدد کو نہ آتا تو ملک مشکل میں پڑ جاتا۔ آبادی دیکھیں ہماری کہاں ہے‘ اس لحاظ سے ہمارا شمار بڑے ملکوں میں ہوتا ہے لیکن ملکی معاملات چلانے کا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ مانگے تانگے پر کام چلے۔ معاشی حالات ٹھیک ہونے کے لیے یہ خیال سامنے رہے کہ عوام کی رائے اور عوام کی شمولیت قومی معاملات کا حصہ ہونی چاہیے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب جمہوری اصولوں کی پاسداری ہو اور آئینی تقاضے پورے کیے جائیں۔ سچ پوچھئے موجودہ حالات میں ایسا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
اگلے الیکشن 2029ء میں ہونے ہیں۔ وہ بھی اگر کسی نے مہربانی کی اور قوم کو اس قابل سمجھا۔ لیکن اول تو الیکشن کی بات کوئی کرتا نہیں اور کرے بھی تو الفاظ سے بیزاری جھلکتی ہے کہ حالات یونہی رہے تو جیسے پچھلے الیکشن تھے آئندہ بھی ایسے ہی ہوں گے۔ پچھلے انتخابات کے وقت ریٹرننگ آفیسروں نے جو کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ کیا اس کارروائی کا بہت حد تک مداوا ہائیکورٹوں سے ہو گیا تھا۔ اب عدالتی صورتحال بدل چکی ہے اور چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیمات کے بعد ہائیکورٹوں کے خدوخال میں تبدیلی آ چکی ہے۔ یوں تصور جنم لیتا ہے کہ کہیں دو اڑھائی سال بعد الیکشن ہوئے بھی تو کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ جو ہونا ہو گا ریٹرننگ آفیسروں کی سطح پر ہو جائے گا اور ہائیکورٹوں والا تردد بے اثر ثابت ہوگا۔
ہماری جنریشن کا سورج اب ڈھل رہا ہے۔ کیا خواب ہم نے دیکھے کہ جمہوریت ہو گی‘ رواداری قائم ہو گی‘ پاکستان کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہو گا۔ اب جب سائے لمبے ہو رہے ہیں تو نظر یہی آتا ہے کہ سیاسی حالات میں کسی بہتری کے بجائے ناامیدی کی ایک کیفیت جنم لے رہی ہے۔ جنرل ضیا کے دور میں مستقبل کے حوالے سے قوم کا ایک بہت بڑا حصہ امید رکھتا تھا کہ اس دھرتی پر مہذب سیاسی طور طریقے پروان چڑھیں گے۔ اب حالات کچھ یوں بنے ہیں کہ اس قسم کی خوش فہمی کی گنجائش معدوم ہو گئی ہے۔
خوامخواہ تنقید کی بات نہیں‘ صحیح قیادت کا خلا ہمارے ہاں موجود ہے۔ معیشت سے لے کر تعلیم و تدریس کے شعبوں تک انقلابی اصلاحات کی ضرورت سے تو کوئی انکار ممکن نہیں۔ کیا نمائشی مہمات سے ہی اس ملک کے معاملات چلنے ہیں؟ بہت کچھ کرنے کو ہے‘ اصلاحِ احوال کی بہت ضرورت ہے۔ قومی ترجیحات کا تعین کرنا اور پھر ان کو حاصل کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرنا‘ یہ کسی اچھے سیاسی عمل سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن جب مختلف بندشوں کا رواج پڑ چکا ہو تو صرف سیاسی عمل نہیں سیاسی سوچ مفلوج ہو جاتی ہے۔ ایسے معاشرے پھر جہاں ہوتے ہیں وہیں کے رہ جاتے ہیں۔ آگے نکلنے کی صلاحیت نہیں رہتی۔
خدا نہ کرے ہمارے ساتھ ایسا ہو۔ ایران جنگ کے تناظر میں اس خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بھی کسی نئی صبح کا آغاز ہو۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved