تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     10-05-2026

ٹرمپ کو چین سے کیا ملے گا؟

ڈونلڈ ٹرمپ بھی بہت مخولیے ہیں۔ پرلے روز کہہ رہے تھے: میں ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی میں جنگوں کو پسند کرتا ہوں۔ مرزا غالب نے غالباً انہی کے لیے کہا تھا:
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
جناب اگر آپ ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتے تو ایک طے شدہ معاہدے کو ختم کیوں کیا؟ اور پھر ایران کو مذاکرات میں انگیج کیوں کیا؟ اور پھر ان مذاکرات کے نتائج کا انتظار کیے بغیر جنگ کیوں شروع کر دی؟ اگر آپ جنگ کے حامی نہیں ہیں تو ایران کی جانب سے معقول تجاویز کو تسلیم کر کے ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کیوں نہیں کرتے؟ اگر آپ جنگ کے حق میں نہیں تو پھر وینزویلا میں کیا کِیا گیا؟ کسی ملک کے منتخب صدر کا کوئی یہ حال کرتا ہے؟ ایران کے برعکس انہوں نے چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ لڑنے کے بجائے بہتر تعلقات رکھنا زیادہ سود مند ہے۔ غالباً بلکہ یقینا اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے چین کے ساتھ ایران کا سا سلوک کرنے کی کوشش کی تو اس کے امریکہ کو سخت نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر سوراخ سے گنڈوئے (کیچوے) ہی نکلیں‘ کسی سوراخ سے کوئی موذی جانور بھی تو برآمد ہو سکتا ہے۔ شاید اسی موقع پر کہتے ہیں کہ ''ڈاہڈے دا ستی ویہاں سو ہوندا اے‘‘۔ مطلب یہ کہ ویسے تو بیس ضرب پانچ سو ہوتا ہے لیکن اگر کوئی طاقتور یہ کہے کہ نہیں بیس ضرب سات سو ہوتا ہے تو اس کی یہ بات بھی ماننا پڑتی ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ صاحب کی زبان میں پیدا ہونے والی اس حلاوت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی صدر اگلے ہفتے چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ دورے میں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ طور پر تجارت‘ ٹیکنالوجی اور ایران جنگ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ چین کے ساتھ امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنے اور امریکی مصنوعات کے لیے چینی مارکیٹ تک زیادہ رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ چاہتا ہے کہ چین امریکی ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی خلاف ورزیوں کو روکے۔ امریکہ کا چین سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرے‘ جو واشنگٹن کے لیے بجا طور پر ایک اہم سکیورٹی ایشو اور تشویش کا باعث ہے۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں چین امریکہ کے یہ مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا؟
امریکا اور چین نے اسلحے کی جنگ تو نہیں لڑی البتہ ٹیرف وار ضرور کی ہے۔ اپریل 2025ء تک صورت حال یہ تھی کہ امریکہ نے چین کی درآمدی اشیا پرمرحلہ وار 245فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا تھا جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیکس کو 125فیصد تک بڑھا دیا ۔ پھر 12مئی 2025ء کو امریکہ اور چین نے ابتدائی طور پر 90 روز کے لیے ایک دوسرے کی مصنوعات پر محصولات واپس لینے پر اتفاق کر لیا۔ یہ اعلان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے حکام کی جانب سے طویل تجارتی مذاکرات کے اختتام پر سامنے آیا تھا۔ اس حوالے سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ 14 مئی تک امریکہ چینی مصنوعات پر محصولات کو عارضی طور پر 245 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دے گا جبکہ چین امریکی درآمدات پر محصولات کو 125 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرے گا۔ تب اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ فریقین نے چین کے نائب وزیراعظم ہی لیفنگ اور امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کی قیادت میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے بارے میں بات چیت جاری رکھنے کے لیے میکانزم بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ گویا چین کے ساتھ ٹیرف وار میں بھی امریکہ کی حالت ویسی ہی تھی جیسی اب ایران کے ساتھ مسلح جنگ کے بعد ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں امریکہ خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گراف نیچے آیا ہے۔
حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ‘ ٹی وی چینل اے بی سی نیوز اور اپسوس کی جانب سے کرائے گئے مشترکہ پول میں 59فیصد امریکیوں کی رائے میں صدر ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت ایسی نہیں جو ملک کی قیادت کے لیے درکار ہے۔ پول کے مطابق 55فیصد بالغ امریکیوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جسمانی صحت عہدے کی مناسبت سے اچھی نہیں‘ البتہ 40فیصد نے کہا کہ ٹرمپ ملکی قیادت کے لیے مکمل اہل ہیں جبکہ ایک فیصد امریکیوں نے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ سروے میں حصہ لینے والے 67فیصد شرکا نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ اہم فیصلے کر سکتے ہیں۔ اس پول کے رزلٹ اس امر کا ثبوت ہیں کہ امریکہ کے اندر بھی صدر ٹرمپ کی شہرت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ لیکن امریکی صدر طویل عرصہ تک برسر اقتدار رہنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے چھوٹے کاروباروں سے متعلق ایک تقریب کے دوران عہدہ چھوڑنے کے حوالے سے آٹھ یا نو سال کا ذکر کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جب وہ آٹھ یا نو سال بعد عہدہ چھوڑیں گے تو اس سہولت سے خود بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ان کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ان حالات میں صدر ٹرمپ کا دورۂ چین بہت زیادہ بارآور نہیں ہو سکتا۔ امریکی جریدے 'ٹائم میگزین‘ کا بھی کہنا ہے کہ صدرٹرمپ کا دورۂ چین بے نتیجہ رہنے کا امکان ہے اور دونوں ملکوں میں کسی بڑے معاہدے کی توقع کم ہے۔ چین اپنی حکمت عملی اور مضبوط معیشت کے سبب مضبوط پوزیشن میں ہے‘ جبکہ امریکہ ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ ٹائم کے مطابق اس صورتحال میں بیجنگ بڑے سمجھوتوں پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہوں گی۔ کچھ اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا بھی یہی ماننا ہے کہ امریکی صدر کا دورۂ چین زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہو گا اور اس سے کسی بڑے یا عملی معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی‘ ٹیکنالوجی‘ انسانی حقوق اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں اور دونوں ممالک بار بار مذاکرات کے باوجود کسی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے ۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو ناجائز قرار دیا۔ ایک ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اور خطے میں استحکام لانے کے لیے مکمل جنگ بندی بہت ضروری ہے۔ چین اور ایران کے تعلقات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس کی خام تیل کی فروخت کا بڑا خریدار بھی ہے‘ جس نے تہران کی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ ہے جس کے پاس چین کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ۔ یہ بھی ایک اشارہ ہے کہ ٹرمپ کو دورۂ چین سے شاید کچھ بھی نہیں ملنے والا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved