تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     11-05-2026

مزاحمت: کب‘ کیوں اور کیسے؟

'سٹیٹس کو‘ کی اُن قوتوں کو چیلنج کرنا جو انسانی آزادی اور ارتقا میں مانع اور انسانیت کے لیے باعثِ شر ہیں‘ ایک ناگزیر سماجی ضرورت ہے۔ یہ قوتیں علمی اور فکری ہو سکتی ہیں‘ سماجی اور سیاسی ہو سکتی ہیں‘ مذہبی اور سیکولر ہو سکتی ہیں۔ اسی نسبت سے مزاحمت کی ایک نہیں کئی صورتیں ہیں۔ اس کا تعلق فرد یا گروہ کی سماجی حیثیت کے ساتھ ہے۔ عالم کی مزاحمت‘ علم وفکر کے دائرے میں ہو گی۔ اہلِ سیاست کی سیاست کے دائرے میں۔ ادیب کی ادب کے دائرے میں۔ مزاحمت کی حکمتِ عملی بھی لازم نہیں کہ ایک ہو۔ کبھی اقدام مزاحمت ہے اور کبھی پسپائی۔ مزاحمت جارحانہ ہو سکتی ہے اور منفعلانہ (Passive) بھی۔ اس کا فیصلہ مزاحم اپنے حالات کی رعایت سے کرتا ہے۔
انسانی ترقی‘ اس میں شبہ نہیں کہ اسی مزاحمت کی عطا ہے۔ معاشرے جامد ہو جاتے‘ اگر موجود پر اکتفا کر لیتے۔ تبدیلی کی خواہش جو دراصل اس کی ضرورت سے پیدا ہوتی ہے‘ انسان کو مضطرب رکھتی ہے۔ پھر وہ 'سٹیٹس کو‘ کو چیلنج کرتا ہے۔ ہر معاشرہ روایت پرست ہوتا ہے لیکن اگر زندہ ہو تو وہ تبدیلی کے امکان کا اعتراف کرتے ہوئے‘ ایسی قوتوں کو جگہ دیتا ہے جو 'سٹیٹس کو‘ کے خلاف ہوتی ہیں۔ وہ انہیں موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی افادیت ثابت کریں۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جائیں تو ان کی بات معاشرتی روایت کا حصہ بن جاتی ہے اور اگر ناکام رہیں تو تاریخ کے کوڑے دان کے حوالے ہو جاتی ہیں۔ زندہ معاشروں میں اسے فطری عمل سمجھا جاتا ہے اور روایت پرست بھی اسے قبول کرتے ہیں۔ وہ تبدیلی کی قوتوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں لیکن سماج کو حق دیتے ہیں کہ وہ خود ردّ وقبولیت کا فیصلہ کرے۔ سماج کبھی روایت پرستوں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور کبھی نئی آوازوں کے ساتھ۔ جس معاشرے نے اس عمل کو سمجھ لیا‘ وہ ارتقا کے مراحل خوش اسلوبی کے ساتھ طے کرتا جاتا ہے۔ جہاں اس فطری عمل کا شعور نہیں‘ وہاں جدت وقدامت میں تصادم برپا ہو جاتا ہے جو بالآخر معاشرے کی چولیں ہلا دیتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اس صورتِ حال کا شکار ہو جائے تو پھر اہلِ علم ودانش آگے بڑھ کر اسے راستہ دکھاتے ہیں تاکہ مزاحمت کا عمل کسی تخریبی عمل میں نہ بدل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ بہتری کی تمنا میں‘ موجود بھی ضائع ہو جائے۔ دانش کا اصل امتحان یہی ہے۔
مسلم تاریخ خیر القرون سے خرابی کی طرف بڑھی۔ یہ فطری تھا۔ رسالت مآبﷺ کا دور سب سے اچھا دور تھا۔ پھر آپ کے صحابہ کا دور۔ دوسرا دور اپنے اختتام کی طرف بڑھا تو فتنے بھی سر اٹھانے لگے۔ ان کے خلاف دو طرح کی مزاحمت ہوئی۔ ایک مزاحمت وہ تھی جو موجود نظام کی اصلاح کے لیے تھی۔ ایک وہ تھی جو اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تھی۔ دونوں کے نتائج نکلے۔ یہ نتائج اچھے تھے یا برُے‘ اس سے قطع نظر‘ واقعہ یہ ہے کہ امت مسلمہ آج تک ان کی گرفت میں ہے۔ سرِ دست اس کا کوئی امکان نہیں کہ وہ قیامت تک اس سے نکل سکے۔ امام ابن تیمیہ نے 'منہاج السنہ‘ میں اس کا محاکمہ کیا ہے۔ خدا اگر توفیق دے تو وہ اہلِ دانش اس کتاب کو ضرور پڑھیں جنہیں تاریخ سازی کے عمل سے دلچسپی ہے۔ میں مختصراً اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ شیعہ سنی اور خوارج کا اختلاف اسی عہد کی مزاحمت کا نتیجہ ہے اور ہماری علمی روایت بھی ابتدائی چند صدیوں کی مزاحمت کا حاصل ہے۔
میں اگر اس موضوع کو برصغیر کی مسلم تاریخ تک محدود رکھوں تو آج کا نقشہ اُس مزاحمت کا حاصل ہے جو 1857ء کے بعد سامنے آئی۔ اس کا آغاز پہلے ہو چکا تھا لیکن جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد‘ یہ متعین صورتوں میں متشکل ہوئی۔ مسلم اقتدار جب چھن گیا تو مسلم قیادت کو اندازہ ہو گیا کہ اب کچھ باقی نہیں بچے گا۔ نہ تہذیب نہ علم نہ تشخص۔ انہیں بر بادی کے اس عمل کی مزاحمت کرنا تھی۔ مزاحمت کی ایک سوچ نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ دوسری نے مسلم کالج علی گڑھ کو جنم دیا۔ تیسری صورت انجمن حمایت اسلام تھی۔ چوتھی مسلم لیگ تھی جو مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے قائم ہوئی۔ پانچویں وہ تھی جس نے مدرسہ دیوبند سے جنم لیا اور تلوار کے ساتھ غالب قوت سے نبرد آزما ہوئی جن کے ہاتھوں یہ زوال مکمل ہوا۔ اس کی ایک فرع وہ سفارتی مزاحمت بھی تھی جس کا عَلم مولانا عبیداللہ سندھی نے بلند کیا۔ ایک صورت ادب بھی تھی۔ 'خطوطِ غالب‘ کو اس کا آغاز کہا جا سکتا ہے لیکن مزاحمتی ادب کی صورت گری الطاف حسین حالی اور اکبر الہ آبادی نے کی۔ اس کا منتہائے کمال علامہ اقبال تھے۔ آج برصغیر میں مسلم تہذیب وسیاست‘ جوکچھ بھی ہے‘ وہ اسی ہمہ جہتی مزاحمت کا حاصل ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ' سٹیٹس کو‘ کی کچھ نئی قوتوں نے جنم لیا۔ یہ فکری بھی تھیں اور سیاسی بھی۔ نئی ریاست کی فکری شناخت پر ایک سے زیادہ آرا سامنے آئیں اور ایک دوسرے کے خلاف مزاحم ہوئیں۔ یہ فکری دنیا کا معرکہ تھا۔ یہ معرکہ ادب کے میدان میں بھی لڑا گیا۔ 'مزاحمتی ادب‘ ہماری ادبی تاریخ کا مستقل باب ہے جو آج بھی بند نہیں ہوا۔ سیاست میں عوام اور بندوق کے مابین حقِ اقتدار کے لیے ایک معرکہ لڑا گیا۔ بندوق کو غلبہ حاصل ہوا تو اس کے خلاف مزاحمت ہوئی۔ مولانا مودودی‘ نواب زادہ نصر اللہ خان‘ مفتی محمود‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ سب اس مزاحمت کی علامتیں ہیں۔ مولانا مودودی نے تو علم وسیاست‘ دونوں میدانوں میں مزاحمت کی۔ انہوں نے یہ جانتے ہوئے مزاحمت کی کہ سیاست کا دائرہ کیا ہے اور علم وفکر کا دائرہ کیا ہے۔ سیاست کس حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے اور علم کس لائحہ عمل کا متحمل ہو سکتا ہے۔ ان سب کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ ان کے لیے جیل اور تعزیر کے دروازے کھل گئے۔
پاکستان کی تاریخ کے دوسرے دور کا آغاز 1979ء میں ہوا۔ سیاست واقتدار پر غیر جمہوری قوتوں کی گرفت مضبوط ہوئی اور اس کے ساتھ‘ نئے افکار بھی بالجبر مسلط کر دیے گئے۔ ان میں نجی جہاد کا تصور بھی شامل تھا جس کی وجہ سے انتہا پسندگروہ وجود میں آئے اور انہوں نے پاکستانی سماج کے تار وپود بکھیر دیے۔ 1989ء تک یہ سب کچھ‘ ایک حد تک ریاستی کنٹرول میں رہا لیکن اس کے بعد یہ ایک آزاد عمل تھا۔ جس کا دل چاہا‘ اس نے چند جنگجو اکٹھے کیے اور علمِ جہاد اٹھا لیا۔ اس بیانیے کے خلاف مزاحمت کا عَلم جاوید احمد غامدی صاحب نے تنہا اٹھایا۔ انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ عزیز ترین رفقا شہید ہوئے۔ ادارہ بند ہو گیا اور جلا وطنی مقدر بنی۔ اس کے با وصف‘ وہ اپنی جگہ کھڑے رہے۔ آج ریاست اور علما‘ سب نے نجی جہاد کے باب میں ان کے مؤقف کو مان لیا ہے۔ یہ الگ بات کہ وہ اب بھی مطعون کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح‘ آج عمران خان صاحب بھی مزاحمت کی علامت ہیں۔
یہ داخلی سیاست ہو یا عالمی‘ سوال یہ نہیں ہے کہ 'سٹیٹس کو‘ کے خلاف مزاحمت کی جائے یا نہ کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ یہ مزاحمت کیسے کی جائے؟ اس نکتے پر بحث تحصیلِ حاصل ہے کہ انسانی آزادی اور ترقی کی راہ میں حائل قوتوں کے خلاف مزاحمت ہو گی۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ ظلم کو قبول نہیں کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ اس ظلم کے خاتمے کی حکمتِ عملی کیا ہو؟ اگر کوئی چی گویرا کی حکمتِ عملی کا مخالف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر مسلکی تسلط کے خلاف مزاحمت کا قائل نہیں۔ اہلِ دانش اگر ظلم اور جارحیت کے خلاف نتیجہ خیز حکمتِ عملی کو موضوع بنائیں تواس سے امکان ہے کہ فکری پراگندگی میں کمی آئے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved