تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     11-05-2026

سندھ کے کنارے

ہر دریا کی اپنی تاریخ ہے۔ ہزاروں سالوں سے ہمارے دریا تہذیبوں‘ شہروں‘ آبادیوں‘ صنعتوں اور زراعت کی آبیاری کرتے آئے ہیں۔ جو ہم نے وقت کے طاقتور لوگوں کی دانشمندیوں کی نذرکر کے کھو دیے‘ ان کا احساسِ زیاں دل پر بھرپور وار کرتا ہے جب اس قلم کی نوک سے سندھ ضبط تحریر میں آتا ہے۔ بیاس‘ ستلج اور راوی وادیٔ سندھ کی تہذیب کا حصہ تھے۔ ان کا ذکر میرے لیے اہم ہے کہ جہاں ہم نے دریائے سندھ کے کناروں پر آنکھ کھولی وہاں کسی اور دریا کا وجود کبھی تھا اور نہ اب ہے۔ یہ تو جغرافیہ کی کتابیں پڑھنے اور اپنے علاقے سے خانہ بدوشی برائے تعلیم کے بعد معلوم ہوا کہ وہ سب ایک ایک کر کے ہمارے آبائی جنگل سے تقریباً چالیس پچاس میل شمال میں اپنے پانیوں سمیت اپنی شناخت ہمارے دریا میں ضم کرتے ہیں۔ ہماری ہائی سکول کی تعلیم تک جو ہم نے دریائے سندھ کو سال میں کئی بار عبور کر کے حاصل کی‘ آج کل کے موسم میں یہ دریا سمندر کی طرح پھیل جاتا۔ بارشوں کے بعد تو کشتی میں تقریباً پورا دن سخت دھوپ میں گزارنا پڑتا کیونکہ بادبان جنوبی ہوا کے چلنے کے محتاج ہوا کرتے تھے۔ اس وقت نہ ہمارے دریائوں کی تقسیم ہوئی تھی اور نہ ہی دو بڑے پانی کے ذخیرے اپنا وجود رکھتے تھے۔ صدیوں سے موسموں کے بدلنے کے ساتھ پانیوں میں کمی‘ اضافہ اور سیلابوں کا سلسلہ چلتا آ رہا تھا۔ اور پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔
انگریزوں کے زمانے کے نہری نظام نے بہت کچھ بدلا تھا مگر دریائوں کے بہائو میں کوئی بڑی رکاوٹ نہ تھی۔ بیراج بنا کر نہریں نکالی گئیں‘ اگرچہ ہماری طرف پانی کا بہائو اپنے تاریخی انداز میں پھر کبھی پیدا نہ ہو سکا۔ نہری نظام‘ اور بعد میں ڈیمو ں نے ہماری تاریخ اور تہذیب کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ میرے بس کی بات ہوتی یا ہم جنگلی لوگوں کے جنگلوں میں رہنے کی روایت اور تہذیب کی کوئی قدر ہوتی تو آج جس طرح کی ماحولیاتی تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں ان سے ہم بچ سکتے تھے۔ انگریزوں اور ان کے لائے گئے آباد کاروں نے ہمیں جنگلی کہہ کر زمینوں کی ملکیت سے بھی محروم کر دیا کہ یہ زراعت پیشے کے قابل نہیں۔
خیر چھوڑیں ان پرانی باتوں کو‘ انہیں یاد کر کے اپنا ہی دل دکھتا ہے۔ ہزاروں سالوں سے رواں دریائوں کے بہائو نے جو زرخیزی پنجاب اور سندھ میں تہہ درتہہ مٹی جمع کر کے پیدا کی ہے وہ آج ہماری معیشت میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ بات اپنے حصے کے دریائے سندھ کی کرنا مقصود ہے کہ یہاں اس کا قدرتی بہائو دیگر جگہوں سے کئی کلومیٹر چوڑا ہے‘ کم از کم بیس سے پچیس کلومیٹر‘ اور کہیں اس سے بھی زیادہ۔ ہم اسے کچا کہتے ہیں جو مختلف چوڑائی میں لیہ سے لے کر سکھر تک چلا جاتا ہے۔ مشرق میں رحیم یار خان اور مغرب میں راجن پور کے اضلاع ہیں۔ کچا تقریباً 150 کلومیٹر طویل ہے۔ برسات کے موسم میں جب دریا کا بہائو ہر طرف پھیل جانے کے بعد سکڑتا ہے تو اکثر مقامی لوگ گندم‘ سرسوں‘ مٹر اور سبزیاں کاشت کرتے ہیں۔ سیلابوں کی اب وہ صورت نہیں رہی جو کبھی تھی۔ اس لیے دریا کا پھیلائو کم ہونے سے لاکھوں ایکڑ زمین اب پکے کے علاقوں کی طرح آباد ہے۔ سولر ٹیوب ویل‘ ٹریکٹر اور دیگر جدید زرعی آلات نے کام آسان کر دیا ہے۔ گزشتہ 40 سالوں میں کچے میں ایک نو آبادیاتی نظام پیدا ہو گیا۔ اس کی بنیادی وجہ زمین کی زرخیزی‘ دریائی پانی کی دستیابی اور گنے کی کاشت ہے۔ تاریخی طور پر یہ علاقہ کپاس کی کاشت کے لیے مشہور تھا۔ ان دونوں اضلاع کے زمیندار سیاستدانوں نے شوگر ملیں لگائیں اور جب ایک نے دیکھا کہ دوسرا اربوں کما رہا ہے تو اس سے دوسروں کو بھی ترغیب ملی۔ یہ سلسلہ یہاں سے شروع ہو کر صوبہ سندھ کے کئی اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ کچا آباد ہوا‘ زمیندار خوشحال ہوئے تو سرکاری زمینیں جو رکھوں کی صورت پورے پاکستان میں انگریز چھوڑ گئے تھے‘ ان پر کاشتکاری جو ایک عرصے سے جاری تھی‘ اب ان کا قبضہ‘ خرید کرنے یا بزور طاقت کمزوروں کو بے دخل کر کے اپنی ملکیت میں لانے کا نیا سلسلہ چل نکلا۔ کچے کے ڈاکو کچھ وہ بھی تھے جنہوں نے ایسی زمینوں کو ہتھیانے یا اپنا پرانا قبضہ قائم رکھنے کے لیے ہتھیار اٹھائے۔ تاریخی طور پر پُرامن علاقہ تھا‘ یہ درویش اس کا گواہ ہے۔ اکیلا ہی پیدل تقریباً تیس چالیس کلومیٹر سفر دو سال تک جاری رکھا اور کبھی بھی کوئی ناگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ کئی عوامل ہیں کچے کے بگاڑ میں۔ یہاں سب کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ سماجی ترقی جیسے تعلیم‘ صحت‘ سڑکیں اور دیگر سہولتوں کے لحاظ سے ہمیشہ ہمارے حکمرانوں نے اس وسیع وعریض زرخیز اور پیداواری علاقے کو کسی مربوط منصوبہ بندی کا حصہ پہلے کبھی نہیں بنایا۔ لوگ اغوا ہوتے رہے‘ لٹتے رہے‘ مارے بھی گئے اور اپنی جائیدادیں بھی آزادی حاصل کرنے کے لیے برباد کرتے رہے مگر آج تک نہ تو سندھ اور نہ ہی پنجاب کی حکومتیں اس بارے کوئی مستقل حل نکال پائیں۔ دکھ کی بات ہے کہ دریائے سندھ کا کچا جہاں سے سینکڑوں ارب روپوں کی زرعی پیداوار ہوتی ہے‘ اس کی شناخت جدید زراعت نہیں بلکہ ڈاکو ہیں۔ کوئی بالائی پنجاب سے جنوبی حصوں میں جائے تو دوست احباب اور خاندان انتباہ کرتا ہے کہ وہاں تو ڈاکو ہیں‘ اپناخیال رکھنا۔ ہم نے کئی بار پولیس کے آپریشنوں کے بارے میں سنا ہے اور دعوے بھی کامیابی کے ہوئے مگر سیاسی موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ڈاکوئوں کی ایک نئی نسل ابھر کر آتی رہی ہے۔
اس دفعہ ذرا مختلف ہو رہا ہے۔ آخرکار سندھ اور پنجاب کی حکومتوں اور ان کی انتظامی مشینری نے ڈاکوئوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے تعاون سے کام کیا ہے۔ ان کی کوآرڈینیشن کے بغیر کبھی بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دوسرے‘ آج کل بڑی جنگوں کے حوالے سے ڈرونز کی شہرت تو دنیا میں پھیل چکی ہے‘ مگر جو کام انہوں نے کچے میں کر دکھایا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کئی اپنے انجام کو پہنچے اور دیگر نے اوپر سے آگ کے گولے پڑتے ہی گھٹنے ٹیکنے شروع کر دیے۔ سینکڑوں گرفتار ہیں‘ سینکڑوں توبہ‘ معافیوں اور ضمانتوں کے بعد گھروں کو لوٹے ہیں۔ پہلی دفعہ پنجاب کی حکومت نے ایک مربوط اور قابلِ عمل پروگرام کچے کے لیے ترتیب دیا ہے۔ ان میں نئے تعلیمی ادارے‘ جو کچھ پہلے سے موجود ہیں‘ ان کی فعالیت‘ صحت کا نظام‘ رابطہ سڑکیں اور سب سے اہم پولیس کی دیگر علاقوں کی طرح وہاں موجودگی شامل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے اب دور بیٹھ کر بہتر نگرانی تو ہو سکتی ہے مگر جب تک سرکاری زمینوں کی ملکیت کا مسئلہ حل نہیں ہوگا سماجی ترقی کے منصوبے آگے نہیں بڑھیں گے۔ اس علاقے کی محرومیاں اور آبادی کا دبائو ڈاکا زنی کے پیشے کو ہوا دیتے رہیں گے۔ اس مرتبہ فرق یہ بھی ہے کہ کچے کی ترقی کے لیے 23 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ بندی رحیم یار خان اور راجن پور کے اضلاع کی پولیس اور انتظامیہ کے مشورے سے کی گئی ہے۔ جو افسر یہاں فیلڈ میں ہیں اور سماجی ترقی کی اہمیت سے آگاہ ہیں‘ ان کی بات سنی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور سے اس بارے تفصیلی بات ہوئی تو وہ پُرامید نظر آئے اور پُرجوش بھی کہ آنے والے سالوں میں تین بنیادی شعبوں میں بہتری آئے گی‘ امن وامان‘ تعلیم و صحت کی سہولتیں اور ذرائع آمد ورفت کو ایک مضبوط پروگرام میں جوڑ کر استحکام پیدا کیا جائے گا۔ موجودہ پنجاب حکومت پہلے کی حکومتوں کی نسبت بہت فعال‘ ترقی پسند‘ جوشیلی اور سرگرم نظر آتی ہے۔ دیکھیں کچا اور پنجاب آگے چل کر کیسی ترقی کرتے ہیں۔ دنیا امید پر قائم ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved