تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     11-05-2026

آئی ایم ایف ‘ برآمدات اور معیشت

؎پاکستان اور چین تعلقات کے ایک نئے معاشی مرحلے کی نشاندہی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ماضی میں پاک چین تعلقات زیادہ تر سڑکوں‘ پاور پلانٹس اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود تھے مگر اب دونوں ممالک سرمایہ کاری‘ صنعت‘ اے آئی ٹیکنالوجی اور مشترکہ کاروبار کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پنجاب میں حکومت کے ساتھ مل کر آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جس سے تعلیم اور زراعت میں جدت کی امید کی جاتی ہے۔ چین سی پیک کو سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ سی پیک 2.0 میں صنعتی زونز‘ زراعت‘ گرین انرجی‘ الیکٹرک گاڑیاں‘ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چین اب تک پاکستان میں تقریباً 26 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکا ہے جس میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ پاکستان کی اصل ضرورت اب ایسی سرمایہ کاری ہے جو مقامی صنعت کو مضبوط کرے اور برآمدات بڑھائے۔ شاید اسی لیے زراعت‘ چائے کی پیداوار‘ پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون سے متعلق متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ پاکستان کے لیے زراعت میں چینی ٹیکنالوجی خاص طور پر اہم ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی تقریباً 23 فیصد جی ڈی پی زراعت سے وابستہ ہے لیکن فی ایکڑ پیداوار کم ہے۔ اگر جدید چینی زرعی ٹیکنالوجی‘ مشینری اور اے آئی بیسڈ فارمنگ پاکستان میں منتقل ہوتی ہے تو زرعی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح صنعتی زونز کی کامیابی پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔ اگر چینی کمپنیاں پاکستان میں فیکٹریاں لگاتی ہیں تو نہ صرف روزگار بڑھ سکتا ہے بلکہ پاکستان کو برآمدات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد تقریباً 1.32 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر لی ہے۔ موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ خبر پاکستان کے لیے ایک بڑا معاشی ریلیف محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان نے اس قسط کے حصول کے لیے کئی مشکل مگر ضروری اصلاحات مکمل کی ہیں جن میں ٹیکس پالیسی میں تبدیلیاں‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے پر زرمبادلہ ذخائر میں کچھ بہتری آئی ہے۔ دسمبر 2025ء تک ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ جون 2025ء میں یہ تقریباً 14.5 ارب ڈالر تھے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے‘ جو اپریل میں 320 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ اب تک کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر نو فیصد اور سالانہ بنیاد پر تقریباً 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔اس سے روپے پر دباؤ کم اور درآمدی ادائیگیوں میں کچھ بہتری ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان نے چار سال بعد دوبارہ بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی حاصل کرتے ہوئے 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ بھی جاری کیا ہے۔ اپریل میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 14فیصد اضافہ ہوا جو پچھلے نو ماہ میں 6.5 فیصد تھا۔ جی ڈی پی کی گروتھ بھی چار فیصد تک رہنے کی توقع ہے جو پچھلے سال 3.1 فیصد تھی۔ ملکی سطح پر معاشی اصلاحات لانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے‘ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے‘ خاص طور پر ریٹیل‘ پراپرٹی اور زرعی شعبے کو ٹیکس دائرے میں لائے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے بجٹ میں ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بہتر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں اگر ملک کو مضبوط بنانا ہے تو برآمدات میں مستقل بنیادوں پراضافہ ضروری ہیں۔ صنعتوں کو ترقی دے کر اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی تک پہنچاکر ملکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے اور حکومت بھی آئندہ بجٹ سے پہلے برآمدات بڑھانے اور صنعتوں کو سہولتیں دینے کے لیے نئی پالیسیوں کا کہہ رہی ہے۔ یہ کام صرف وزارتِ تجارت کی بجائے اکنامک افیئر ڈویژن اور وفاقی وزیر احد چیمہ کو بھی دیا گیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس معیشت کے اہم فیصلے خود زیادہ قریب سے دیکھنا چاہتا ہے۔ غیر ملکی ماہرِ معاشیات سٹیفن ڈیرکن کو بھی معاشی ٹیم میں شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ حکومت شاید اب عالمی تجربات سے سیکھ کر معیشت کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ چین‘ جنوبی کوریا‘ ویتنام اور بنگلہ دیش نے برآمدات بڑھا کر اپنی معیشت مضبوط کی ہے۔ شاید انہی ممالک کے ماڈلز پاکستان میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت کے نئے منصوبے کے مطابق صرف انہی صنعتوں کو زیادہ مراعات دی جا سکتی ہیں جو واقعی اپنی برآمدات بڑھائیں۔ یعنی جتنی زیادہ ایکسپورٹ ہو گی اتنی زیادہ سہولت مل سکتی ہے۔ یہ اپروچ زیادہ قابلِ عمل اور قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ حکومت نے شاید ماضی سے سیکھ لیا ہے کیونکہ ماضی میں کمپنیاں ایکسپورٹس کے نام پر سرکار سے مراعات لیتی رہی ہیں لیکن ایکسپورٹرز مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ اب بھی ایکسپورٹ سیکٹر کو بجلی تقریباً چار روپے یونٹ سستی فراہم کی جا رہی ہے‘ ٹیکس ریفنڈ میں بھی آسانی دی گئی ہے‘ بینکوں سے قرض لینے پر شرح سود میں بھی خصوصی رعایت حاصل ہے۔ حکومت اپنے حصے کا کام کسی حد تک کرتی دکھائی دیتی ہے اگر برآمدکنندگان بھی اپنے حصے کا کام کریں تو ملکی معیشت میں جلد بہتری آسکتی ہے۔
ادھروفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام میں اضطراب کی کیفیت ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اگر تیل کی قیمت بڑھنے پر حکومت قیمت بڑھائے تو اس پر شاید عوام کو زیادہ اعتراض نہ ہو لیکن جنگ کے نام پر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو خطے میں سب سے زیادہ بلند سطح پر لے جانا حیران کن ہے۔ امریکہ ایران جنگ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس مرتبہ پھر تقریباً 14روپے پٹرولیم لیوی بڑھائی گئی ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ٹیکس آمدن کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے اس لیے پٹرولیم لیوی بڑھائیں۔ ممکن ہے کہ آئی ایم ایف کو منانے کی کوئی اور صورتحال نہ بن پا رہی ہو لیکن اس معاملے پر عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ کیا کر رہی ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر اپنے ڈپارٹمنٹ کے لیے مراعات لینے کے لیے کافی تگ ودو کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ان کی زیادہ دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ ایک ڈپارٹمنٹ کی ناکامی کی قیمت 25 کروڑ عوام ادا کر رہے ہیں۔ ملک کی 25 کروڑ آبادی میں سے صرف پچاس لاکھ لوگ ٹیکس فائلر ہیں۔ تاجروں‘ دکانداروں اور رئیل اسٹیٹ سے ٹیکس آمدن سب سے کم ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا سب سے زیادہ بوجھ ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہی ہو رہا ہے۔ اخراجات بڑھ رہے ہیں لیکن آمدن نہیں بڑھ رہی۔ حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی کوئی مؤثر حکمت عملی بنانی چاہیے۔ آئی ایم ایف سے توانائی کی قیمتوں پر مذاکرات کر کے بہتر حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved