پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جس کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے لیے قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ محمد اقبال‘ مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ظفرعلی خان‘ علمائے اسلام اور تمام طبقاتِ زندگی کے لوگوں نے زبردست جدوجہد کی۔ مسلمانانِ برصغیر کی بیداری کے لیے بھرپور انداز سے رابطہ عوام مہم چلائی گئی‘ برصغیر کے طول وعرض میں جلسے‘ جلوس اور اجتماعات کا انعقاد کیا گیا اور مسلمانانِ برصغیر کو ایک علیحدہ وطن کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ بالآخر 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی مملکت پاکستان کے نام سے ابھری۔ اس وطن کے حصول کیلئے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھر بار اور کھیتوں کھلیانوں کو خیرباد کہا۔ ان عظیم قربانیوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانانِ برصغیر ایک ایسے ٹکڑے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جہاں کتاب وسنت کی عملداری ہو۔
قیام پاکستان کے بعد بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کی کوشش کی۔ ستمبر 1965ء میں پاکستان کے خلاف بھرپور جارحیت کی گئی لیکن عوام اور عسکری اداروں کی یکسوئی کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بھارت کے عزائم کو ناکام بنا دیا اور ملک کا دفاع مزید مضبوط اور مستحکم ہوا۔ 6 ستمبر 1965ء کا دن ایک یادگار دن تھا۔ اس دن بھارت کا غرور اور گھمنڈ خاک میں مل گیا اور اس کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گی۔ 1971ء کی جنگ میں بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچایا اور داخلی خلفشار‘ سیاسی عدم استحکام اور لسانی تنازعات کی وجہ سے پاکستان اپنے مشرقی بازو سے محروم ہو گیا۔ 16 دسمبر 1971ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک دن تھا جس کی کسک آج بھی ہر محب وطن پاکستانی محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی اور افواج پاکستان اور سائنس دانوں کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان نے جوہری صلاحیت حاصل کر لی جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں آسانی ہوئی۔ 1998ء میں بھارت نے پاکستان کو دبانے کے لیے ایٹمی دھماکے کیے لیکن پاکستان نے ان کا بروقت جواب دیا اور چاغی میں کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کو یہ پیغام دیا کہ خطے میں اس کی بالادستی کو قبول نہیں کیا جائے گا لیکن بعد ازاں بھی بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے بہت سی منصوبہ بندیاں جاری رکھیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بھرپور انداز میں پروپیگنڈا مہمات چلائیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی تحریک آزادی کے تانے بانے پاکستان سے ملانے اور وہاں پر ہونے والے ہر احتجاج کو پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ مسئلہ کشمیر‘ قیام پاکستان کے وقت سے لے کر آج تک حل نہیں ہو سکا۔ کشمیر کے عوام کئی عشروں سے مسلسل بھارت کے جبر اور استبداد کا نشان بنے ہوئے ہیں اور اُن کو ان کی مذہبی اور سیاسی شناخت سے محروم کرنے کی کوششیں بھی جاری وساری رہتی ہیں۔ پاکستان نے کئی بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کے مسئلے کو بھرپور طریقے سے اٹھانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام پر اپنے جبری تسلط کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
2025ء میں کشمیر میں بعض سیاحوں پر ہونے والی فائرنگ کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پاکستان سے منسوب کر کے بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی اور بہاولپور‘ مرید کے اور مظفر آباد میں مساجد پر حملہ کر کے پرُامن شہریوں کو شہید کیا اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی قرار دیا۔ پاکستان کے طول وعرض میں بھارت کی جارحیت کے خلاف ردعمل سامنے آیا اور عوام نے اس پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور اس بات کی توقع اور امید کی کہ بھارت کے جارحانہ عزائم کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے کامیاب حکمت عملی تیار کی۔ بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے اس کی بعض اہم دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک جنگی کشمکش کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی اہم تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے بھرپور انداز سے حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے بھارتی جارحیت کا راستہ روکنے کے لیے ''بنیانٌ مرصوص‘‘ آپریشن کے نام سے بھرپور جوابی کارروائی کی جس میں بھارت کے متعدد طیارے تباہ ہو گئے۔ ان طیاروں کی تباہی کے بعد بھارت اس بات کو سمجھ گیا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کسی بھی طور پر اس کے مفاد میں نہیں ہے اور بھارت خود جنگ بندی کی طرف پیش قدمی کرنے پر آمادہ و تیار ہو گیا۔ پاکستان کو دفاعی اعتبار سے مزید تقویت حاصل ہوئی اور دنیائے اسلام میں پاکستان کو ایک مضبوط ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا۔ اس جنگ میں جہاں پاکستان کی افواج نے بھرپور انداز سے بھارتی جارحیت کا جواب دیا وہیں پاکستانی قوم بھی افواج پاکستان کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ رہی اور افواج پاکستان کو تمام طبقات سے یہی پیغام موصول ہوا کہ جب وطن کے دفاع کی بات آئے گی‘ اس وقت پوری قوم یکسوئی کے ساتھ عسکری اداروں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
آپریشن بنیانٌ مرصوص سے پاکستان کی شناخت میں اضافہ ہوا اور جہاں دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں نے اس کارروائی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا وہیں دنیائے اسلام میں بھی اس حوالے سے بھرپور مسرت کا اظہار کیا گیا اور پاکستان کو امت مسلمہ کے ایک مضبوط ملک کی حیثیت سے دنیا بھر سے مبارکبادیں موصول ہوئیں۔ آپریشن بنیانٌ مرصوص نے اس بات کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ جب دشمن سے مقابلہ ہو تو اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھرپور انداز سے توکل کرنا چاہیے اور قلت وکثرت سے بے نیاز ہو کر اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلمے کی سربلندی اور مسلم سرزمین کے دفاع کے لیے اپنا کردار بھرپور انداز سے ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانفال کی آیات: 45 اور 46 میں مسلمانوں کی کامیابی کے اصولوں کو بڑے احسن انداز میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے: ''اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔ اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو‘ آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو‘ یقینا اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔
ان آیات مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنگوں میں فتح کے لیے اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق‘ استقامت‘ صبر اور اتحاد کی ضروت ہوتی ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے بنیانٌ مرصوص آپریشن میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ تعلق‘ ثابت قدمی‘ اتحاد اور صبر کا عظیم مظاہرہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دشمن کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔ اگر ہم مستقبل میں بھی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں انہی زریں اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا جس کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے کامیابی وکامرانی حاصل ہو گی۔ پاکستان کا قیام جس بنیاد پر کیا گیا تھا‘ اسی بنیاد پر پاکستان کو آگے بڑھنا چاہیے اور اسلامی جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے بھرپور انداز سے کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط فرمائے اور اس کو اقوام عالم اور عالم اسلام میں بلند مقام عطا فرمائے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved