تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     12-05-2026

چار سو پندرہ روپے فی لیٹر

مجھے غریبوں سے نفرت ہے۔ ہم غریب ہمیشہ رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں۔ ہم اَپر کلاس کی خوشیاں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم حسد کرتے ہیں۔ ہم تُھڑ دِلے ہیں‘ ہمارے دل چھوٹے ہیں۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں پڑ کر بالائی طبقے کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں اور پھر خوش ہوتے ہیں۔ محمد خان جونیجو صاحب نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران افسروں کو بڑی گاڑیوں سے نکال کر چھوٹی کاروں میں بٹھا دیا تھا۔ ایک وفاقی سیکرٹری کا نائب قاصد ہر روز پوچھتا کہ صاحب کے لیے چھوٹی کار کب آئے گی۔ پوچھا گیا تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ کہنے لگا: مجھے تو کبھی گاڑی ملنی نہیں‘ یہ چھوٹی میں بیٹھے گا تو خوشی ہو گی۔
ہماری تنگ دلی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہم آج کل اُس طبقے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو پٹرول اپنی جیب سے نہیں ڈلواتا۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے پٹرول کی قیمت‘ آخرِکار‘ کن کے کندھوں پر آن پڑتی ہے۔ مفت پٹرول کے ''حقدار‘‘ معمولی لوگ نہیں۔ اگر میں ان لوگوں کی تفصیل بتاؤں تو میرے ایڈیٹر کی قینچی ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے گی‘ اس لیے آپ تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں۔ آ ج کی نسل اس فقرے‘ یعنی تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں‘ سے واقف نہیں۔ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے جب گاؤں گاؤں ڈاکخانے نہیں ہوتے تھے‘ ہر گاؤں میں ڈاکیا (پوسٹ مین) ہفتے میں ایک یا دو بار آیا کرتا تھا۔ وہ ناخواندہ دیہاتی عورتوں اور مردوں کو خط پڑھ کر سنایا کرتا تھا اور ان کی طرف سے خطوط لکھتا بھی تھا۔ اٹک چکوال وغیرہ کے زیادہ نوجوان فوج میں ہوتے تھے۔ جب ان کے ماں باپ نے خط میں کوئی ضروری بات لکھوانا ہوتی تھی تو تاکید کے طور پر آخر میں لکھا جاتا تھا ''تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں‘‘۔ آپ بھی تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں اور خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ سرکاری خزانے سے مفت پٹرول حاصل کرنے والے کون لوگ ہیں۔ بہرطور ہم غریب ان سے حسد اور نفرت کرتے ہیں۔ دو دن پہلے جب پٹرول چار سو روپے فی لیٹر سے چار سو پندرہ روپے فی لیٹر ہو گیا تو ہمارا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا۔ ہم سب غریب اکٹھے ہو کر اس مراعات یافتہ طبقے کے پاس گئے۔ پہلے تو ہمیں دیکھ کر یہ لوگ گھبرائے مگر ہم نے یقین دلایا کہ ہم بھی انسان ہیں۔ اس پر اس طبقے کی نمائدگی کرنے والے نے ہمیں بتایا کہ ٹھیک ہے تم انسان ہو مگر یہ مت بھولو کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ اعلیٰ اور ادنیٰ۔ تم ادنیٰ انسان ہو اور ہم اعلیٰ انسان ہیں۔ اب بتاؤ کہ ہمارے پاس کیوں آئے ہو؟ ہم غریبوں نے جواب دیا کہ آپ حضرات فیصلہ ساز طبقے سے تعلق رکھتے ہیں‘ ہم غریب پٹرول کی مہنگائی سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ جاں بلب کیفیت میں ہیں۔ خدا کے لیے پٹرول کی قیمت کم کیجیے۔ ہم غریبوں کا یہ مطالبہ سن کر مفت پٹرول حاصل کرنے والا یہ طبقہ بہت حیران ہوا۔ ان کا نمائندہ کہنے لگا: ہمیں تو معلوم ہی نہیں کہ پٹرول کی کیا قیمت ہے۔ ہمارا پٹرول تو سرکار کے ذمہ ہے۔ ہم نے بتایا کہ صاحب بہادر! پٹرول چار سو پندرہ روپے فی لیٹر ہے اور ہمارے لیے موت ہے۔ اس پر امرا کے اس نمائندے کوغصہ آ گیا۔ کہنے لگا: تم لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں پڑے رہتے ہو اور اُن خوشیوں کو بھول جاتے ہو جو بطور قوم تمہیں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ دیکھو کہ ایران اور امریکہ کی جنگ ہمارے ملک نے رکوائی۔ یہ کتنا بڑا کارنامہ ہے جو پاکستان نے انجام دیا۔ اس مسرت کے مقابلے میں پٹرول کی مہنگائی کی آخر کیا حیثیت ہے۔ تمہیں تو اس بات پر خوشی منانی چاہیے کہ ایران اور امریکہ کے نمائندے ہمارے ہاں آئے اور تقریباً نصف صدی کے بعد ان دونوں ملکوں کی باہمی بات چیت ہمارے ملک میں ہوئی۔ اب اگر مستقبل قریب میں صدر ٹرمپ بھی یہاں تشریف لاتے ہیں تو ہماری کتنی عظیم الشان کامیابی ہو گی۔ مگر تم لوگ ہمہ وقت شکایات کا انبار لگاتے پھرتے ہو۔ کبھی مثبت پہلو بھی تو دیکھا کرو! اس بات پر بھی غور کرو کہ قوموں کو قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خواص نے قربانی دی ہو۔ جنگ میں بھی عام سپاہی زیادہ کام آتے ہیں اور پنج ہزاری اور دس ہزاری کمانڈر کم! قربانی ہر قوم کے عوام دیتے ہیں۔ یہاں بھی قربانی تمہی دو گے۔ تمہاری گاڑیاں‘ تمہارے رکشے‘ تمہارے موٹر سائیکل‘ تمہاری سوزوکیاں اگر کھڑی ہو گئی ہیں تو کون سی قیامت آ گئی ہے۔ یاد رکھو! اعلیٰ طبقے کے لوگ جو فیصلے کرتے ہیں ان کی قیمت تم عوام ہی ادا کرتے ہو۔ کیا تم بھول گئے ہو کہ اس سے پہلے بھی قربانی کے بکرے تمہی لوگ بنے ہو۔ ہم تو صرف فیصلے کرتے ہیں۔ ہم نے جب ''افغان جہاد‘‘ کا فیصلہ کیا تھا تو اس 'جہاد‘ میں کن کے بچے شہید ہو ئے تھے؟ تمہارے! ہم تو صرف جہاد کے فضائل بتاتے تھے۔ ہم جرنیل تھے یا قاضی! ہمارے بچے تو امریکہ میں تھے۔ ان میں سے کوئی میدان میں گیا نہ شہید ہوا۔ وہ تو آج بھی بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے بزنس کر رہے ہیں۔ اب ان جرنیلوں اور ان قاضیوں کے نام کیا لینے! تم خود سمجھدار ہو ان طالع آزماؤں اور مذہب کے نام پر تم غریبوں کے بچوں کو مروانے والوں کے نام تمہیں یقیناً معلوم ہیں! تب بھی تم نے قربانی دی! تم غریبوں کے بچے لڑنے گئے اور واپس نہ آئے۔ حیرت ہے کہ سالہا سال سے ذلیل وخوار ہونے کے بعد بھی تم غریب‘ ہم اعلیٰ طبقے سے امیدیں لگا ئے بیٹھے ہو! یہ مستقل مزاجی ہے یا ڈھٹائی؟ ہم اعلیٰ طبقے کے بیٹوں اور بیٹیوں نے تمہارے کتنے ہی بچے اور بچیاں اپنی عفریت نما گاڑیوں کے نیچے کچل دیں۔ ابھی سترہ اپریل کو جس بچے کو لاہور میں کچلا گیا وہ تباہ حال پھیپھڑوں کے ساتھ موت وحیات کی کشمکش میں ہے۔ خود انصاف کی عدالتوں کے مسند نشین مقتولوں کے گھروں میں جا کر بہ زور یا بہ زر ''معافی‘‘ حاصل کرتے ہیں! تم کس برتے پر ہمارے پاس آئے ہو؟ کیا تمہیں نہیں معلوم تمہاری دنیا اور ہے‘ ہماری اور! ہمیں تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پٹرول سرکاری کھاتے میں ملتا ہے۔ نہ صرف پٹرول بلکہ سٹاف بھی! تم جانتے ہو صدر صاحب‘ جناب وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ ایک ایک وزیر‘ ایک ایک مشیر‘ منتخب اداروں کا ایک ایک رکن سرکاری خزانے کو کتنے میں پڑتا ہے۔ تم بیکار میں ہمارا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہو۔ کیا تم نے ہمارے اونچے طبقے کے کسی فرد کو کبھی کسی پٹرول پمپ پر گاڑی میں پٹرول ڈلواتے دیکھا ہے؟ یا کسی بازار میں سودا سلف لیتے؟ یا کسی سرکاری ہسپتال میں اپنا مریض دکھاتے؟ یا کسی سرکاری سکول میں اپنا بچہ داخل کراتے دیکھا ہے؟ اگر ابھی تک نہیں جان سکے تو اب جان لو کہ پاکستان ایک نہیں‘ دو ہیں! ایک تمہارا‘ ایک ہمارا! تمہاری زمین اور ہے‘ ہماری اور! تمہارا سورج اور ہے‘ ہمارا اور! ہماری قسمت دو نقطوں والے قاف سے ہے‘ تمہاری کسمت ایک جانور والے کاف سے ہے۔ ہم لینڈ کروزروں‘ ہیلی کاپٹروں اور جہازوں پر سفر کرتے ہیں‘ تم رکشوں‘ ویگنوں‘ بسوں اور اپنی بے وقعت‘ چھوٹی بدہیئت گاڑیوں میں! ہمارے اور ہمارے بچوں کے ساتھ گارڈ ہوتے ہیں‘ تمہارا ساتھ تو تمہارا سایہ بھی نہیں دیتا! ہمارے بچے پیدائش سے پہلے ہی ارب پتی اور کروڑ پتی ہوتے ہیں۔ تمہارا کوئی بچہ رُل کُھل کر‘ دھکے مُکّے کھا کر‘ اعلیٰ تعلیم حاصل کر بھی لے تو نوکری کے لیے بھاگ بھاگ کر آدھا ہو جاتا ہے اور پھر ناامید ہو کر بیرونِ ملک چلا جاتا ہے۔ ہمارے بچے بھی بیرون ملک جاتے ہیں مگر اپنے محلات اور اپنے اپارٹمنٹوں میں قیام کرنے اور اپنے کارخانوں کا معائنہ کرنے!
جاؤ! اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ! پٹرول سستا نہیں ہو گا۔ مرتے ہو تو مر جاؤ!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved