ضروری نہیں کہ ہر بات میں ذریعۂ معلومات کا نام لکھا جائے یا اس شخصیت کو افشا کیا جائے۔ آخر بندے نے بعد میں بھی دوستوں سے ملنا ہوتا ہے۔ پہلے بھی کئی دوست اس بات پر مجھ سے ناراض ہو چکے ہیں جنہیں بڑی مشکل سے منت ترلے کرکے منایا اور آئندہ کیلئے محتاط رہنے کا وعدہ کیا تب جا کر کہیں بات بنی۔ سو یہ عاجز اس سلسلے میں پہلے کی نسبت اب محتاط ہو گیا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دوستوں کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ میں نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ میرے پرانے تعلقات محض ایک کالم کی نذر ہو جائیں۔ ویسے بھی کالم تو ہر دوسرے دن لکھنا ہوتا ہے جبکہ دوست تو برسوں‘ بلکہ عشروں کی سرمایہ کاری کا ثمر ہوتے ہیں۔ ایک کالم کیلئے زندگی کے اتنے برسوں کی سرمایہ کاری اور وہ بھی اس عمر میں برباد کرنا بھلا کہاں کی عقلمندی ہے؟ ایروں غیروں کی خیر ہے ان کے معاملے میں پرانی عادتوں سے کام چلایا جا سکتا ہے لیکن اب پرانے دوستوں کی خفگی اور ناراضی برداشت کرنے کا حوصلہ کم پڑتا جا رہا ہے اور ان کی تالیفِ قلب اب پہلے کی نسبت کہیں عزیز تر ہو گئی ہے۔
پچھلے دنوں ملتان کے ایک سیاستدان کے بیٹے کا لاہور میں ولیمہ تھا۔ قارئین! ملتان کے سیاستدان کے بیٹے کے لاہور میں ولیمے پر یاد آیا کہ ملتان کے اکثر سیاستدان الیکشن ملتان میں لڑتے ہیں لیکن سیاسی مستقبل کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں وہ تعلقاتِ عامہ پر مشتمل بڑے فنکشن اور فیملی تقریبات لاہور میں کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اپنی سیاسی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے اور لیڈر شپ کی نظروں میں اپنی مضبوط سیاسی بنیادوں کا مظاہرہ کرنے کیلئے وہ لاہور کو ملتان پر ترجیح دیتے ہیں۔ انہیں طاقت کے مرکز میں اپنی پبلک ریلیشننگ کی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور اس کیلئے ملتان کے مقابلے میں لاہور زیادہ بڑے اور وسیع سیاسی منظر نامے پر مشتمل ہے۔ اپنے تعلقات کی مضبوطی کا بھرپور مظاہرہ لاہور میں ہی ہو سکتا ہے جہاں بہتر میڈیا کوریج اور زیادہ سے زیادہ نامور لوگوں کا اجتماع ان کیلئے مستقبل میں سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی لاہور سے ملتان کون آئے گا؟ جبکہ با مروت ملتانی اس قسم کا دعوت نامہ ملنے پر ماتھے پر بل اور زبان پر شکوہ لائے بغیر کسی نہ کسی طرح لاہور پہنچ جاتے ہیں۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ ملتان میں ہونے والی کسی تقریب میں میزبان نے لاہوری دوستوں کو دعوت نامہ بھیجا تو دس میں سے بمشکل دو لوگ ملتان آئے جبکہ اس کے مقابلے میں ہمارے کسی ملتانی دوست نے لاہور میں تقریب منعقد کی اور اپنے دس ملتانی دوستوں کو دعوت نامہ بھجوایا تو ملتان سے بارہ دوست لاہور پہنچ گئے۔
بات ملتان والوں کی روایت پرستی اور با مروت طبیعت تک پہنچ گئی تاہم فی الحال ہمارا موضوع لاہور میں ہونے والے ملتانی سیاستدان کے بیٹے کے ولیمے میں شریک ہمارے ایک دوست کی بیان کردہ کہانیاں ہیں۔ جو کچھ واقعاتی ہیں اور کچھ حالات و واقعات سے اخذ کردہ ہیں۔ ویسے تو یہ دوست اس ولیمے کے انتظامات‘ کھانے اور مہمانداری کے معاملے میں بھی کافی شاکی تھا اور دورانِ گفتگو کم از کم تین بار تو اس نے اس بات پر چچ چچ کرتے ہوئے افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا کہ اتنی بڑی سوشل گیدرنگ میں کھانے کی ''مین ڈش‘‘ مٹن کے بجائے برائلر مرغے کا قورمہ تھا اور ہر میز پر کولڈ ڈرنک کی شکل میں ڈیڑھ لٹر والی بوتل رکھی ہوئی تھی۔ اس دوست نے اس ولیمے کا موازنہ پہلے یوسف رضا گیلانی کے فرزند عبدالقادر کے ولیمے سے کیا تاہم ساتھ ہی اس ولیمے کے سپانسرز کا نام بھی لے دیا اور پھر شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کے ولیمے کی تعریف کرتے ہوئے حالیہ ولیمے کی مذمت میں دوچار مزید تبصرے کیے جو طوالت کی وجہ سے بیان نہیں کیے جا رہے۔
میں نے اپنے اس کہانی باز دوست سے کہا کہ بھائی جان! اب آپ برائلر مرغ اور ڈیڑھ لٹر والی بوتل کے صدمے سے باہر آ جائیں اور سرائیکی والا کوئی ''حال حویلہ‘‘ دیں تاکہ آپ کی وہاں موجودگی سے ہم جیسے فقیر بھی موجودہ صورتحال سے آگاہی حاصل کو سکیں۔ وہ بتانے لگا کہ اس نے اپنی میز پر موجود پی ٹی آئی کے ایک لیڈر سے عمران خان کی طرف سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی مبینہ تجویز کے حوالے سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ فی الحال اس کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں تاہم خان صاحب اور ان کی بہنیں ان کی رہائی کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے ازحد مایوس ہیں اور ان منتخب نمائندوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس عوامی جم غفیر کو سڑکوں پر لانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں جس کا نقشہ خان صاحب اپنے ذہن میں بنائے بیٹھے ہیں۔ پی ٹی آئی کے لیڈر از حد محتاط ہیں اور ورکر باہر نکلنے کے بجائے سوشل میڈیا پر دل کے پھپھولے جلا کر مطمئن ہیں کہ انہوں نے اپنا کام سرانجام دے دیا ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ عملی جدوجہد‘ احتجاج اور سڑکوں پر آنے سے خوفزدہ بھی ہیں اور کسی نتیجے سے مایوس بھی ہیں۔ خان صاحب ناراض ہیں کہ ان کے نام پر ووٹ لینے والے مصلحت اور خوف کا شکار ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کا جو کسی قسم کی عملی جدوجہد کیلئے راضی نہیں ہیں‘ اسمبلیوں میں موجود رہنے کا کیا جواز ہے ؟
ہمارا وہ دوست بتانے لگا کہ کھانے کے دوران اس کی ملاقات ملتان کے ایک ایم پی اے سے ہوئی تو اس نے اس سے متوقع استعفوں کے بارے میں اڑتی ہوئی خبر کے حوالے سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوگا تو اس نے ایک لمحہ توقف کیے بغیر کہا کہ بھائی جان ! آپ کا کیا خیال ہے میں اتنا بیوقوف ہوں کہ استعفیٰ دے دوں‘ ادھر میں استعفیٰ دوں گا ادھرحکومت وہاں پر ضمنی الیکشن کروا دے گی۔ وہاں سے میرا مخالف جیت جائے گا اور میں گھر بیٹھ جاؤں گا۔ اگلے الیکشنوں میں مجھے کون پوچھے گا ؟ میرے استعفے سے کون سا خان صاحب نے باہر آ جانا ہے۔ جہاں جہاں سے کوئی مستعفی ہوگا وہاں وہاں الیکشن ہو جائے گا۔ پھر وہ رکنِ اسمبلی کہنے لگا کہ میں تو یہ کہہ رہا ہوں‘ باقی لوگ تو یہ بھی نہیں کہیں گے لیکن حال سب کا میرے جیسا ہے۔ پورے ملتان میں شاید صرف ایک رکنِ صوبائی اسمبلی اور ایک سینیٹر کے علاوہ کوئی بھی استعفیٰ نہیں دے گا۔ سب لوگ بظاہر اسمبلیوں کے اندر رہتے ہوئے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کا بیانیہ بنائے ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی حد تک تو مجھے گمان ہے کہ جیل میں مقیم شاہ محمود قریشی بھی شاید استعفیٰ نہیں دیں گے۔ میرا دوست کہنے لگا: شاہ محمود قریشی سے مجھے یاد آیا تو میں نے وہاں دو چار دوستوں سے شاہ محمود قریشی کے سیاسی مستقبل کے بارے میں پوچھا تو ایک کائیاں قسم کے سیاستدان نے بتایا۔ میں نے اپنے دوست کی قطع کلامی کرتے ہوئے پوچھا یہ کائیاں سے تمہاری کیا مراد ہے ؟ تو کہنے لگا کائیاں سیاستدان وہ ہوتا ہے جس کے اپنی پارٹی سے‘ اپنے سیاسی لیڈر اور اپنی مقامی اتھارٹیز سے تعلقات یکساں خوشگوار ہوں۔ پھر میرے دوست نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ درمیان میں دخل نہ دیا کرو اور بات خاموشی سے سنا کرو۔ میں خاموش ہو گیا۔ باتیں سننے کا چسکا بڑی بری چیز ہے۔ کہنے لگا کہ اس کائیاں سیاستدان نے بتایا کہ ہائبرڈ سسٹم میں دراڑ آگئی ہے اور ایک بندے کی فراغت پر ہوم ورک ہو رہا ہے۔ اگر بات بن گئی تو حالیہ سیٹ اَپ میں سے ایک فریق نکل جائے گا اور دوسرا آ جائے گا اور اگر بات نہ بنی تو سب اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔ پہلی صورت میں ایک اور پیٹریاٹ کا ظہور ہوگا۔ جیل میں بند ایک بندے کی لاٹری نکلنے کا امکان ہے۔ میں نے پوچھا: اس سارے ڈرامے کا پروڈیوسر کون ہے اور ہدایتکار کے فرائض کون سر انجام دے رہا ہے ؟ وہ کہنے لگا: جن باتوں کو لکھنے کی ہمت اور چھپنے کا امکان نہ ہو ان پر نہ تو سر کھپانا چاہیے اور نہ ہی وقت ضائع کرنا چاہیے۔ بندے کو حتی الامکان حد تک لاحاصل معاملوں میں سر گھسانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved