دس مئی کو جب میں یہ سطور قلم بند کر رہا ہوں تو ساری دنیا میں مدر ڈے منایا جا رہا ہے۔ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو ماں کے رشتے کے مقابلے میں دنیا کے سارے رشتے ہیچ محسوس ہوتے ہیں۔ ماں قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ اس سے بڑی ہستی خدا نے تخلیق نہیں کی۔ علامہ اقبال نے ماں کی بے پایاں شفقت و محبت اور اولاد کیلئے اس کی لازوال فکرمندی کا نقشِ دوام ذیل کے اشعار میں بیان کر دیا ہے۔
زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم
محبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم
دنیا کی ساری مائیں اپنے بچوں پر شفقت و محبت نچھاور کرنے اور اُن کی ذرا سی پریشانی پر تڑپ اٹھنے کے اعتبار سے ایک جیسی ہوتی ہیں۔ مگر اماں جی کو اللہ نے بہت سی ایسی صفات بھی عطا کی ہوئی تھیں کہ انہیں بآسانی ایک مثالی ماں کا رتبہ دیا جا سکتا ہے۔ اماں جی نے بھیرہ کے معزز پراچہ خاندان کی انتہائی قابلِ احترام شخصیت حافظ محمد حیات صاحب کے گھر آنکھ کھولی تھی‘ جو تجارت کے پیشے سے منسلک تھے مگر اُن کا دل زیادہ ترخانۂ خدا میں اٹکا رہتا تھا۔ ہماری نانی محترمہ بھی گہرا دینی شغف رکھتی تھیں اور گھر کی فضا کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کیلئے وہ اپنے شوہر کا ساتھ دیتی تھیں۔ اماں جی کی تربیت اسی دینی ماحول میں ہوئی تھی۔ ہمارے والد محترم مولانا گلزار احمد مظاہری کا لڑکپن سے میلان دینی تعلیم کی طرف تھا مگر ان تاجر پیشہ لوگوں میں کوئی دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے‘ یہ ایک انہونی بات تھی تاہم یہ انہونی ہو کر رہی۔ والد صاحب اللہ کے رنگ میں یوں رنگے گئے کہ انہیں اس رنگ کے علاوہ کوئی اور رنگ جچتا تھا نہ سجتا تھا۔ والد صاحب ایسی رفیقۂ حیات کے متمنی تھے جو دینی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہو۔ حافظ صاحب کی منجھلی بیٹی میں دیگر صفات کے علاوہ دینداری کی خوبی بدرجۂ اتم موجود تھی۔ ابا جی کے خاندان نے وہاں رشتے کا پیغام بھجوایا جو تھوڑی بہت رد و کد کے قبول کر لیا گیا۔
اماں کا ابّا جی کے ساتھ اور ابّا جی کا جماعت اسلامی کے ساتھ بیک وقت سنجوگ 1940ء کی دہائی کے اواخر میں ہوا۔ یہ 1950ء کے اوائل کا واقعہ ہے۔ ابا جی سرگودھا کے اردو بازار میں کتابوں کی دکان ''مکتبہ گلزارِ اسلام‘‘ چلا رہے تھے۔ دکان پر ہر وقت گاہکوں اور علم دین کے پیاسوں کا ہجوم رہتا تھا۔ سبب اس کا یہ تھا کہ کاؤنٹر کے پیچھے ایک مردِ خلیق مسکراہٹ کے ساتھ ان کے استقبال کیلئے موجود رہتا تھا۔ تب ہمارا گھر دکان کے اوپر تھا۔ یہ شہر کا نہایت پُررونق علاقہ تھا۔ اتنے پُرسکون اور پُررونق شب و روز کے دوران اچانک ایک شب والد صاحب نے گھر آ کر اعلان کیا کہ ہمیں اگلے ہفتے مولانا محترم (مولانا مودودیؒ) کے حکم کی تعمیل میں میانوالی روانہ ہونا ہوگا۔تب میانوالی میں جماعت اسلامی کا کام بہت کم تھا۔ پچاس کے عشرے میں میانوالی جانے والے کو لوگ یوں ہمدردی کے ساتھ دیکھتے کہ جیسے کوئی کالا پانی بھیجا جا رہا ہو مگر والدہ صاحبہ نے ابا جی سے کہا جو آپ کی مرضی وہی ہماری مرضی۔ ہم راضی برضا ہیں۔ اماں جی کوئی حرفِ شکایت زبان پر لائے بغیر اپنے دو چھوٹے بچوں کے ہمراہ اپنے میاں کے ساتھ میانوالی کی طرف چل پڑیں۔ میانوالی کے پانچ چھ سالہ عرصۂ قیام کے بعض واقعات میرے ذہن میں یوں نقش ہیں کہ جیسے یہ کل کی بات ہو۔ میں ان دنوں دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔ بشیر نام کا ایک ہم جماعت میرا دوست تھا‘ جوہر شام ہمارے گھر سے کھانا لے کر جاتا تھا۔ ایک روز سکول میں میرا اپنے دوست سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ میں نے غصے میں آ کر بشیر کو ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ گھر آ کر مجھے بہت ندامت ہوئی‘ میں سارا دن بہت اداس رہا۔ دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ بشیر آ جائے اور معاملہ رفع دفع ہو جائے۔ اس روز جب گہرا اندھیرا چھا گیا تو اماں جی نے پوچھا کہ آج بشیر نہیں آیا۔ میں نے سکول کا سارا واقعہ انہیں سنایا۔ یہ سُن کر انہیں بہت رنج ہوا۔ انہوں نے مجھے بہت سختی سے سمجھایا کہ کسی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے اور کسی زیردست پر تو ہاتھ اٹھانے سے عرش کانپ جاتا ہے۔ اسی شام کو میں نے بشیر کے گھر کھانا پہنچایا اور اپنے کیے کی اس سے معافی طلب کی۔
جب جماعت اسلامی پر حکومت کی طرف سے کوئی آفت آتی تو ابا جان سب سے پہلے اس کی لپیٹ میں آ جاتے اور انہیں پسِ دیوارِ زنداں بھیج دیا جاتا۔ اس مجموعی آفت کے علاوہ بھی اپنے جوشِ خطابت کی بنا پر آئے دن انہیں پابند سلاسل ہونا پڑتا۔ آزمائش کی ان گھڑیوں میں اماں جی کا وقار اور حوصلہ قابلِ دید اور قابلِ داد تھا۔یہ 1960ء کے لگ بھگ کا واقعہ ہے۔ ایوب خانی مارشل لاء کی دہشت اپنے عروج پر تھی۔ حکومت نے ایک تقریر کی پاداش میں ابا جی کی گرفتاری کے احکامات جاری کرتے ہوئے بھیرہ میں ہمارے آبائی گھر کے صدر دروازے پر بھی یہ نوٹس چسپاں کروا دیا کہ جو شخص مولانا گلزار احمد مظاہری کو پناہ دے گا یا ان کی معاونت کرے گا اسے بھی پکڑ کر حوالۂ زنداں کر دیا جائے گا۔ یہ نوٹس پڑھ کر محلے میں سکوتِ مرگ طاری ہو گیا مگر آفرین ہے ہماری اماں پر کہ ان کے عزم و حوصلے اور صبر و استقامت میں ذرا سی بھی لرزش پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے ہمیشہ ہماری تربیت میں یہ شعور شامل کیا کہ تمہارے والد گرامی کا سلسلہ قید و بند سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر چلنے والا ہے۔ یہ سلسلۂ قید و بند پھر اگلی جنریشن میں چلتا رہا۔ بھائی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ بارہا پسِ دیوار زنداں گئے۔ اماں جی نے نہایت صبر و حوصلے کیساتھ اس آزمائش کو بھی برداشت کیا۔
پہلی اولاد ہونے کے ناتے اماں جی مجھ پر اپنی خصوصی شفقت و محبت نچھار کرتیں۔ یوں بھی جو بیٹا آنکھوں سے اوجھل ہو تو اس کیلئے محبت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ میں بالعموم کوچۂ سیاست سے بچ بچا کے ہی چلا کرتا تھا۔ ہماری تو بس ''ٹریک ٹو‘‘ سیاست تھی۔ جب میں 1960ء کی دہائی میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا تو ایک بار کچھ خوش پوش کالج آئے اور مجھے‘ زیڈیو خان اور فاروق گیلانی کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مقامی سرکٹ ہاؤس لے گئے۔ سرکٹ ہاؤس تو محض بہانہ تھا جبکہ حوالات ہمارا ٹھکانہ تھا۔ والد صاحب اور بھائی فرید پراچہ تو مہینوں جیل میں رہا کرتے تھے۔ میں تو صرف دو دن حوالات میں رہا مگر میرے بہن بھائیوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے حوالات جانے پر پہلی مرتبہ اماں جی بہت مضطرب و پریشان دکھائی دیں۔ دو روز کے بعد ضمانت منظور کرلی گئی۔ گھر پہنچنے پر والدہ صاحبہ بہت خوش ہوئیں۔ انہیں پریشانی یہ تھی کہ حسین کچھ زیادہ باہمت نہیں اس لیے حوالات میں گھبرا نہ جائے۔1994ء میں جب تعطیلات کے بعد میں ان کی دعاؤں کی چھاؤں میں واپس طائف روانہ ہوا تو اس وقت ان کی صحت بالکل ٹھیک تھی۔ وہاں پہنچنے کے چند ہفتے بعد ان کی اچانک بیماری کی اطلاع ملی۔ بچپن کے عزیز دوست ڈاکٹر سجاد حسین پروفیسر آف یورالوجی سروسز ہسپتال لاہور میں ان کے معالج تھے‘ گویا ان کا بیٹا ہی ان کا علاج کر رہا تھا مگر اس کے باوجود میں نے لاہور آنے کا ارادہ کر لیا۔ اس دوران ان کی طبیعت اچانک بہت بگڑ گئی۔ سفری دستاویزات کی عدم تکمیل کی بنا پر میں لاہور کیلئے عازم سفر نہ ہو سکا مگر وہ سفرِ آخرت پر روانہ ہو گئیں۔
اماں مجھ سے اکثر کہا کرتیں: سین! (وہ مجھے حسین کی بجائے سین کہہ کر پکارتی تھیں) تم ہمیشہ آنے میں تاخیر کر دیتے ہو‘ جہاں پہنچنا ہو ٹھیک وقت پر پہنچا کرو۔ میں اپنی تمام تر بھاگ دوڑ کے باوجود جب طائف سے لاہور پہنچا تو ان کی تدفین ہو چکی تھی۔ والد محترم کا انتقال 1986ء میں ہوا جبکہ والدہ 1994ء میں دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ وہ اچھرہ کے قبرستان میں والد صاحب کی پائنتی دفن ہوئیں۔ چھوٹے بھائی سعید کے ساتھ جب میں قبرستان حاضر ہوا تو مجھے ان کی قبر سے آتی ہوئی صدا سنائی دی: سین! تم حسبِ معمول آج بھی تاخیر سے آئے ہو۔ کوئی بات نہیں‘ آ تو گئے ہو۔
تم بعد دفن بھی اگر آؤ تو مرحبا! ؍بازو سرِ سر یر کشادہ رکھیں گے ہم
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved