تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     12-05-2026

آرٹ آف دی ڈیل

بین الاقوامی تعلقات میں پس پردہ ہونے والی گفتگو عام میڈیا کی شہ سرخیوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری خفیہ سفارت کاری کچھ اسی نوعیت کی ہے۔ اگرچہ عالمی میڈیا کے ذریعے کچھ معلومات باہر آ رہی ہیں‘ لیکن ان کی بنیاد پر کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونا قبل از وقت ہو گا۔ کل تک جو امیدیں ایک جامع معاہدے سے وابستہ تھیں‘ فریقین کے حالیہ بیانات نے ان پر مایوسی کے سائے گہرے کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسی سفارتی گرہ بن چکی ہے جہاں ایک فریق ''سب کچھ‘‘ حاصل کرنے کی تڑپ میں ہے جبکہ دوسرا ''کچھ بھی‘‘ کھونے پر آمادہ نہیں۔ تہران کا بنیادی مطالبہ تمام محاذوں پر فوری اور پائیدار جنگ بندی ہے تاکہ خطے میں جاری انسانی اور معاشی بحران کو روکا جا سکے۔ ایران محض کاغذ کے ایک ٹکڑے پر دستخط نہیں چاہتا بلکہ وہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ امریکی جارحیت کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی ضمانتوں کا متقاضی ہے۔ ایران کے مطالبات کی فہرست میں تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ‘ بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ اور بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی مکمل بحالی شامل ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل جیسے بین الاقوامی ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران عارضی طور پر یورینیم کی افزودگی روکنے پر تیار ہے‘ تاہم ایرانی حکام ان خبروں کی تردید کر کے اپنی نیوکلیئر پوزیشن کو مذاکرات میں بطور ہتھیار استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تمام تر کشیدگی میں پاکستان کا کردار اب بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر ایران کا مفصل جواب پاکستان کے ذریعے ہی واشنگٹن تک پہنچایا گیا‘ جس کی تصدیق خود وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کی ہے۔ یہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کا ثمر ہے کہ وہ ان دو عالمی حریفوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن تشویشناک موڑ تب آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس جواب کو مسترد کر دیا۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران یا تو یورینیم افزودگی سے مکمل دستبردار ہو جائے یا پھر کم از کم طویل مدت تک اس عمل کو روکنے کی ضمانت دے۔ واشنگٹن اس کے بدلے مرحلہ وار پابندیاں ہٹانے کا فارمولا پیش کر رہا ہے جبکہ ایران پہلے معیشت کی بحالی اور آبنائے ہرمز جیسے سٹرٹیجک معاملات پر بات کرنا چاہتا ہے۔ یہ ڈیڈ لاک ثابت کرتا ہے کہ بداعتمادی کی خلیج آج بھی اتنی ہی گہری ہے جتنی کہ پہلے دن تھی۔
دوسری جانب عالمی برادری کی نظریں صدر ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ چین ایران کا اہم معاشی اتحادی اور اس کے تیل کا بڑا خریدار ہے۔ تاثر تھا کہ ٹرمپ بیجنگ پہنچنے سے قبل مشرقِ وسطیٰ کے اس قضیے کو سلجھا لیں گے تاکہ صدر شی جن پنگ کے سامنے وہ ایک فاتح کے طور پر کھڑے ہو سکیں اور انہیں چینی قیادت کے گلے شکوؤں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بدھ کی شام بیجنگ پہنچنے کے باقاعدہ اعلان نے اس بحث کو مزید مہمیز دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی خبروں کو دیکھیں تو بظاہر لگتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے نئے خدوخال طے کرنے کا فورم ثابت ہو گی۔ امریکی صدر بخوبی جانتے ہیں کہ چین کے ساتھ کشیدگی کے باوجود امریکی کمپنیوں کیلئے چینی مارکیٹ ناگزیر ہے۔ جنوری 2025ء کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 660 ارب ڈالر سے متجاوز ہے جبکہ سرمایہ کاری 260 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ صدر ٹرمپ کے ٹیرف میں اضافے کے سخت فیصلوں سے اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھا‘ لیکن امریکی کارپوریٹ سیکٹر آج بھی چین کے انفراسٹرکچر اور ہنرمند افرادی قوت کا متبادل تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ تناؤ کے باوجود امریکی کمپنیاں چین میں اپنی موجودگی کو ایڈجسٹ کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ ایک طرف امریکی کمپنیوں کیلئے چینی مارکیٹ میں آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف چین سے معاشی رعایتیں حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ مقصد اسی صورت حاصل ہو سکتا ہے جب امریکہ چینی مفادات کا لحاظ کرے۔ چونکہ ایران چین کی انرجی سکیورٹی کیلئے اہم ہے اس لیے قوی امکان ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران یا اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کا کوئی بڑا گرینڈ ڈیزائن سامنے آ جائے۔
مشرقِ وسطیٰ کی فضا پر چھائے بارود کے گہرے بادل اس وقت کسی بڑے فیصلے کے منتظر ہیں اور بساط کے تمام مہرے اب ایک ایسے حل کی تلاش میں ہیں جو خطے کو کھلی جنگ کے دہانے سے نکال کر استحکام کی طرف لے جائے۔ ایران اور امریکہ کے مابین جاری یہ سرد جنگ اگرچہ ابھی کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچی لیکن واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والی براہِ راست گفتگو اس تعطل کو توڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سفارتی منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر کے دورۂ چین سے محض چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ بیجنگ ہو چکا ہے‘ جس کے بعد چین کے پاس تہران کا مکمل کیس موجود ہے۔ لیکن یہاں اصل امتحان صدر ٹرمپ کی ڈیل میکنگ صلاحیت کا ہے جس کے ذریعے وہ ہمیشہ ''امریکہ فرسٹ‘‘ کے اصول کو مقدم رکھتے ہیں۔ ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ بیجنگ اس وقت ایران کے اہم اتحادی کے طور پر میز پر بیٹھا ہے‘ وہ صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ وہ چین کو مشرقِ وسطیٰ میں سہولت کاری کا موقع دے کر بدلے میں بیجنگ سے وہ تجارتی مراعات حاصل کرنا چاہیں گے جن کا مطالبہ وہ پچھلے کئی برسوں سے کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کیلئے یہ محض ایک سیاسی ملاقات نہیں بلکہ ایک تزویراتی سودے بازی ہے۔ وہ چین پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر بیجنگ خطے میں اپنے توانائی کے مفادات اور ایرانی تیل کی سپلائی کا تحفظ چاہتا ہے تو اسے تہران کو ایٹمی پروگرام اور علاقائی مداخلت پر ایسی ضمانتوں پر مجبور کرنا ہو گا جو واشنگٹن کیلئے قابلِ قبول ہوں۔ ٹرمپ براہِ راست جنگ کے بجائے چین کے کندھے کو استعمال کر کے ایران کو ایک ایسے طویل مدتی معاہدے میں جکڑنے کی کوشش کریں گے جس سے امریکہ کی سکیورٹی ترجیحات پوری ہوتی ہوں۔ یوں ٹرمپ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجوں کے اخراج کا راستہ ہموار کریں گے بلکہ اپنی معیشت کیلئے چین سے بڑے تجارتی فوائد بھی سمیٹیں گے۔ یہ ان کی سیاست کا وہ خاصا ہے جہاں وہ امن کو ایک ایسی پروڈکٹ کے طور پر بیچتے ہیں جس کی قیمت دوسرے فریق کو چکانا پڑتی ہے۔
قوی امید ہے کہ سفارت کاری کی یہ پیچیدہ راہداری بالآخر امن کی روشن شاہراہ پر نکلے گی‘ جہاں مفادات کے ٹکراؤ کے بجائے تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ اگر بیجنگ میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف پگھلتی ہے تو اس کا سہرا جہاں چین کی ثالثی کو جائے گا وہاں اسے ٹرمپ کی ''آرٹ آف دی ڈیل‘‘ کی فتح بھی تسلیم کیا جائے گا اس لیے بیجنگ میں دو بڑے رہنماؤں کی ملاقات ایک ایسی دستاویز لکھ سکتی ہے جو آنے والی دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت کا رخ متعین کرے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved