خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقے ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ نو مئی کی رات بنوں کی فتح خیل پولیس چوکی پر دہشت گردی کے واقعے میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے اور گزشتہ روز لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں دھماکے میں نو افراد لقمہ اجل بنے۔ان واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین بدستور دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے اور افغان طالبان یقین دہانیوں کے باوجود اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک نہیں کر سکے۔ پاکستان افغانستان کو دہشت گردی کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا رہا ہے لیکن افغان طالبان دہشت گردوں کے پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنوں دھماکے کے بعد پاکستان کو یہ کہنا پڑا کہ وہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ یقین دہانیوں کے باوجود افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی کو پاکستان برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے ہمیشہ مکمل شواہد کے ساتھ افغان سرزمین کے دہشت گردی کیلئے استعمال پر سوال اٹھایا ہے۔ ماضی میں متعدد بار یہ شواہد بین الاقوامی اداروں‘ سفارتکاروں اور افغان طالبان کو بھی فراہم کیے گئے۔ اس پر طالبان رجیم کی جانب سے ہر مرتبہ یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان کے تحفظات دور کیے جائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین پر اپنے مراکز قائم کرکے ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہیں وہاں پاکستان کے خلاف بھارت افغان گٹھ جوڑ بھی سرگرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے خطے میں جنگ اور کشیدگی کا ماحول ہے‘ جو دونوں ممالک سمیت پورے خطے کیلئے خطرناک رجحانات کو جنم دے رہا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت بیس سے پچیس ہزار دہشت گرد موجود ہیں۔ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی اور استحکام کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش کے تقریباً تین ہزار جبکہ ٹی ٹی پی کے پانچ سے سات ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ اسی طرح القاعدہ اور دیگر گروہ بھی افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی اپنی مختلف رپورٹس میں بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکی ہے کہ طالبان انتظامیہ اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور دوحہ معاہدے کے تحت ہمسایہ ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی بھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ افغانستان القاعدہ کیلئے علاقائی روابط اور محفوظ پناہ گاہ کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ القاعدہ کے تربیتی مراکز کنڑ‘ لغمان‘ غزنی‘ ہلمند‘ قندھار اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں جہاں دہشت گردوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اہداف بھی سونپے جاتے ہیں۔ پاکستان براہِ راست افغان سرزمین سے دہشت گردی کی زد میں ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے بجائے کابل انتظامیہ الٹا پاکستان پر الزامات عائد کرتی آئی ہے۔ گویا افغان طالبان اپنی ذمہ داری سے آزاد ہیں۔ بعض دوست ممالک خصوصاً سعودی عرب‘ ترکیہ اور قطر نے بھی افغان طالبان کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا‘ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے حکام کے مابین مذاکرات بھی ہوئے اور متعدد اقدامات تجویز کیے گئے مگر افغان طالبان اپنی سرزمین کا دہشت گردی کیلئے استعمال نہ روک سکے۔ چین نے بھی کوشش کی کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائیں مگر افغان طالبان کی اپنی سرزمین پر کمزور رِٹ ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی۔ نتیجتاً افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں بڑی وارداتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی وجہ سے رواں برس فروری کے آخر میں پاکستان کو افغان سرزمین کے ان علاقوں کو نشانہ بنانا پڑا جہاں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز موجود تھے۔ ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ایک ''گریٹ گیم‘‘ اب بھی جاری ہے اور دہشت گردوں کو بھارت سمیت ان عناصر کی معاونت بھی حاصل ہے جو پاکستان کو معاشی خود انحصاری کی منزل تک پہنچتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان عناصر کا خیال ہے کہ اگر پاکستانی فوج کے ہاتھوں بھارت کی ذلت آمیز شکست کے بعد پاکستان کو غیرمستحکم نہ کیا گیا تو یہ معاشی لحاظ سے بھی مضبوط ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کا ایک منظم سلسلہ پاکستان کے خلاف سرگرم ہے اور ڈیفنس فورسز کے ساتھ پولیس چوکیاں بھی اس کا خاص ہدف ہیں۔ دشمن بخوبی جانتا ہے کہ اس کا پہلا مقابلہ تھانوں‘ چوکیوں اور گشت پر مامور اہلکاروں سے ہوتا ہے‘ اسی لیے حملہ آور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ریاست کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ سکیورٹی فورسز کا مورال متاثر ہو اور عوام میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ بنوں‘ لکی مروت‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرک اور قبائلی علاقوں میں قائم پولیس چوکیاں دشوار گزار علاقوں میں واقع ہیں جہاں محدود نفری اور وسائل کی کمی کے باوجود پولیس کے جوان اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں۔ دہشت گرد اِن دور دراز چوکیوں کو سافٹ ٹارگٹ سمجھتے ہیں۔ چونکہ پولیس چوکی ریاستی رِٹ کی علامت ہوتی ہے لہٰذا ان پر حملہ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہاں ریاست کی عملداری موجود نہیں۔ تاہم دشمن اپنے عزائم میں ناکام ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے وطن کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کی پروا نہیں کرتے۔ دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور سخت جنگ لڑ کر پاکستان نے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستانیوں کیلئے اپنی سرزمین کا تحفظ اپنی جانوں سے زیادہ مقدم ہے۔ لہٰذا یہ جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے کہ آج جب پاکستان عملاً حالتِ جنگ میں ہے تو کیا ہماری فورسز کو مکمل وسائل‘ جدید اسلحہ اور ضروری ساز و سامان فراہم کیا جا رہا ہے؟ پولیس کو ان سہولتوں اور وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے تو صوبائی حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی پولیس فورس کو جدید اسلحہ اور تمام ضروری وسائل فراہم کرنا ہوں گے اور سرحدوں پر لڑنے والوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ریاست اور عوام ان کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔
جہاں تک افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا تعلق ہے تو اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت عالمی قوانین میں واضح طور پر یہ اصول موجود ہے کہ اگر کسی ملک کے خلاف بیرونی سرزمین سے جارحانہ کارروائی ہو تو پہلے متعلقہ ملک کو کارروائی کیلئے کہا جاتا ہے لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے تو متاثرہ ملک کو دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے نتیجے میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد اس آپشن کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہر لحاظ سے قرینِ انصاف‘ عالمی قوانین کے مطابق اور اپنی سرزمین کے تحفظ کیلئے ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ افواجِ پاکستان کیلئے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانا کوئی مشکل امر نہیں۔ جو فوج اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے جارحانہ عزائم کو بروقت ناکام بنا سکتی ہے‘ اس کیلئے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ چنداں مشکل نہیں۔ پاکستان نے اگر یہ آپشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کی اصل ذمہ داری طالبان انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر عائد ہوتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved