حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کر رہی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے مگر اس سوال کا جواب دینے کے بجائے ہر ہفتے حکومت کی طرف سے قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ عوام کو کہا جاتا ہے کہ یہ اضافہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہے حالانکہ زمینی حقائق اور سرکاری دستاویزات اس دعوے کی تردید کرتی ہیں۔ اصل مسئلہ وہ مالیاتی خلا ہے جسے حکومت پٹرولیم لیوی کے ذریعے پُر کرنا چاہتی ہے اور اس خلا کی قیمت عام آدمی ادا کر رہا ہے۔ پاکستان اپنی مجموعی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80فیصد درآمد کرتا ہے۔ یہ بیرونی انحصار ہر عالمی جھٹکے پر ہماری معیشت کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ مگر اس بار کہانی مختلف ہے۔
گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت تقریباً جوں کی توں رہی اس کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل پندرہ روپے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا۔ عالمی قیمتوں کی بنیاد پر ملک میں پٹرول کی قیمت تقریباً 268روپے فی لٹر بنتی تھی مگر صارف کو اس سے کہیں زیادہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرق کہاں سے آیا؟ جواب سیدھا ہے کہ پٹرولیم لیوی کی وجہ سے۔ مالی سال 2024-25ء میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے ذریعے گیارہ سو ارب روپے سے زائد رقم اکٹھی کی۔ رواں سال میں یہ ہدف بڑھا کر ساڑھے چودہ سو ارب روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔ یعنی ایک سال میں تقریباً چار سو ارب روپے اضافی بوجھ‘ جو براہِ راست عام آدمی پر ڈالا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ کسی تکنیکی غلطی یا وقتی مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا مالی فیصلہ ہے جس کا مقصد ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنا اور آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا ہے۔
چند ہفتے قبل جب حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں وقتی کمی کی تھی تو اسے عوامی ریلیف کے طور پر پیش کیا۔ مگر اس ریلیف کی اصل قیمت چھپی ہوئی تھی۔ اس سبسڈی سے قومی خزانے پر 100سے 125ارب روپے کا بوجھ پڑا ۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ رقم ترقیاتی اخراجات میں کٹ لگا کر پوری کی جائے گی مگر عملی طور پر ایسا نہ تھا۔یہ رقم پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے لی جا رہی ہے۔ پٹرول پر لیوی 103 روپے 50 پیسے فی لٹر سے بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لٹر کر دی گئی۔ یعنی ہر لٹر پر تقریباً 14 روپے کا اضافی بوجھ۔ ڈیزل پر بھی لیوی 28 روپے 69 پیسے سے بڑھ کر 42 روپے 60 پیسے فی لٹر کر دی گئی۔ یہ اضافہ اس وقت کیا گیا جب عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمت میں اضافہ صرف ساڑھے سات روپے فی لٹر کے قریب تھا۔ پھر ملک میں دگنا کیوں وصول کیا گیا؟ ملک میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی ڈبل ڈیجٹ ہو چکی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمت میں ہر دس روپے اضافے سے مجموعی مہنگائی میں 0.5 سے 0.7 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس حساب سے حالیہ اضافے کا اثر خوراک‘ ٹرانسپورٹ‘ بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں واضح طور پر نظر آئے گا۔ یعنی پٹرول صرف گاڑی میں نہیں جلتا یہ ہر باورچی خانے میں آگ لگا دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس آگ کی تپش صرف غریب اور متوسط طبقہ محسوس کرتا ہے‘ ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ ساز نہیں۔
ایک طرف عوام کو کہا جا رہا ہے کہ قربانی دیں‘ حالات مشکل ہیں اور دوسری طرف حکمران اشرافیہ کے پروٹوکول‘ وی آئی پی گاڑیاں‘ شاہانہ دفاتر‘ غیرملکی دورے‘ سرکاری قافلے‘ مہنگی سرکاری گاڑیوں کی خریداری‘ مفت ایندھن‘ مراعات اور کروڑوں روپے کے اخراجات بدستور جاری ہیں۔ جن لوگوں نے کبھی اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلواتے وقت جیب نہیں ٹٹولی وہ آج کروڑوں لوگوں کو کفایت شعاری کے لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔ ایک مزدور ہر صبح کام پر جانے سے پہلے اس سوچ میں گم ہوتا ہے کہ بچوں کیلئے دودھ لے یا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوائے‘ جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں درجنوں گاڑیوں کے قافلے مہنگائی کے خوف کے بغیر رواں دواں ہیں۔ پہلے ہی کوئی ایسا حکومتی اقدام نہیں جس کو تمام تر کوششوں کے باوجود مثبت انداز سے دیکھا جا سکے‘ جن گھروں میں پہلے ایک وقت کا کھانا کم ہوا تھا‘ اب وہاں چولہا جلانا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔ سفید پوش طبقہ خاموشی سے ٹوٹ رہا ہے‘ اور غریب آدمی آہستہ آہستہ اس نہج پر پہنچ رہا ہے جہاں غصہ‘ مایوسی اور بے بسی خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ حکومت نے مارکیٹوں کا ٹائم رات آٹھ بجے مقرر کر کے غریبوں کے پاس جو کچھ روزگار تھا وہ بھی بند کرنا شروع کر دیے۔ انتظامیہ کے کارندوں نے اپنی مبینہ لوٹ مار مچا رکھی ہے‘ جن پر آئے روز مختلف الزامات سننے کو مل رہے ہیں۔ مگر کیا یہ سب قوانین اور پابندیاں صرف غریبوں کیلئے ہیں اور حکومت ان غریبوں کے خون پسینے کو نچوڑ کر خزانہ بھرنے پر لگی ہوئی ہے؟ اگر حکمران واقعی عوام کے درد کو سمجھتے ہیں تو اپنے شاہانہ اخراجات کم کیوں نہیں کرتے؟ پاکستان میں ایک غریب شہری کی اوسط ماہانہ آمدن 35 سے 40 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ شہری علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات اس آمدن کا 25سے 30فیصد پہلے ہی کھا جاتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس تناسب کو مزید بگاڑ دے گا۔ جو لوگ پہلے ہی اپنی بچت ختم کر چکے ہیں‘ اب وہ قرض کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی بگاڑ کا پیش خیمہ ہے جس کے اثرات جرائم‘ بے چینی اور عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
اب ذرا تیل کی اصل لاگت کی طرف آئیے جہاں سوالات اور بھی سنگین ہو جاتے ہیں۔ ملک میں اس وقت روزانہ تیل کی مجموعی کھپت تقریباً پانچ لاکھ بیرل‘ یعنی سات کروڑ 95لاکھ لٹر ہے۔ اس میں سے ملکی پیداوار صرف ایک کروڑ 32 لاکھ لٹر ہے۔ اندازوں کے مطابق روزانہ تقریباً ایک کروڑ لٹر ایرانی تیل سمگل ہو کر ملک میں آ رہا ہے۔ یوں باقی ضرورت‘ یعنی تقریباً پانچ کروڑ 63لاکھ لٹر روزانہ درآمد کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ ایرانی ریفائن شدہ تیل کی موجودہ قیمت تقریباً 15ہزار ایرانی ریال‘ یعنی صرف تین روپے 18 پیسے فی لٹر بنتی ہے۔ دوسری طرف زیادہ تر درآمدی تیل سعودی عرب سے آ رہا ہے جہاں خام تیل کی قیمت 94.68 سعودی ریال فی بیرل ہے‘ جو تقریباً 44 روپے 22 پیسے فی لٹر بنتی ہے۔ اس پر ریفائنری اخراجات شامل کریں تو یہ لاگت 4.80 ڈالر فی بیرل‘ یعنی تقریباً 8 روپے 39 پیسے فی لٹر بنتی ہے۔ تیل کی بحری ترسیل کی بات کریں تو ایک بڑے جہاز کی لوڈ کپیسٹی تقریباً تین ملین بیرل‘ یعنی 47 کروڑ 70 لاکھ لٹر ہوتی ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ فی لٹر ٹرانسپورٹیشن لاگت ایک روپے سے بھی کم ہے۔ ریفائننگ کے بعد خام تیل سے 85 سے 90 فیصد قابلِ استعمال مصنوعات حاصل ہوتی ہیں‘ جن میں تقریباً 45 فیصد پٹرول‘ 29 فیصد ڈیزل‘ 10 فیصد جیٹ فیول اور پانچ فیصد بھاری تیل شامل ہے‘ جو بحری جہازوں اور پاور پلانٹس میں استعمال ہوتا ہے۔ باقی 10 سے 15 فیصد میں اسفالٹ‘ روڈ آئل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات شامل ہیں‘ جو پلاسٹک‘ کھاد‘ ربڑ‘ پولیسٹر‘ نائیلون‘ ڈٹرجنٹ اور فارماسیوٹیکل صنعت میں استعمال ہوتی ہیں۔ یعنی خام تیل کی تقریباً ہر پیداوار قابلِ استعمال اور قیمتی ہے۔ اس کے باوجود یہی 90فیصد پیداوار پاکستان میں 415روپے فی لٹر کے قریب فروخت کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر خرید‘ ریفائننگ اور ٹرانسپورٹیشن کی مجموعی لاگت اس سے کہیں کم ہے تو یہ اضافی رقم کہاں جا رہی ہے؟ اور اگر باقی 10سے 15فیصد مصنوعات تیل سے بھی کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں تو کیا یہ منافع پہلے ہی کافی نہیں؟ پھر عوام سے مزید کیوں وصول کیا جا رہا ہے؟ سوال یہ نہیں کہ حکومت کو پیسہ چاہیے یا نہیں‘ سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کس سے اور کس قیمت پر لیا جا رہا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو پٹرول کی قیمت صرف معیشت کو نہیں معاشرے کو بھی جلا کر راکھ کر دے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved