وہ جو اردو میں محاورہ ہے‘ زخموں پہ نمک چھڑکنا‘ فرنگیوں کا محاورہ اس مضمون میں شدید تر ہے‘ یعنی Adding insult to injury۔ ہمارے حکمران طبقہ سے اگر پوچھا جائے کہ دونوں زبانوں کے محاوروں میں سے کون سا پسند فرمائیں گے تو غالباً بلکہ یقینا دونوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑ پائیں گے!!
ایک معزز سینیٹر نے‘ جو کسی زمانے میں بائیں بازو پر فریفتہ تھے‘ اور اب دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکمران پارٹی کے برگزیدہ ارکان میں شمار ہوتے ہیں اور شاہی خاندان کے بہت قریب ہیں‘ فرمایا ہے کہ ''مہنگائی صرف عوام کی نہیں‘ بلکہ ہم سب کی پریشانی ہے‘‘۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ ''حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘ اور دونوں اس پریشانی سے نجات چاہتے ہیں‘‘۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے ارکان الیکشن جیت کر آتے ہیں۔ اصل جمہوری ملکوں میں ایوانِ بالا کے ارکان سو فیصد میرٹ پر لیے جاتے ہیں۔ ان میں ٹیکنو کریٹ‘ دانشور اور صاحبانِ علم وفضل شامل ہوتے ہیں۔ بہت سے ایسے لائق فائق افراد کو حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں بزور ایوانِ بالا کا رکن بناتی ہیں جبکہ یہ افراد پارلیمنٹ میں آنے کیلئے زیادہ بے قرار بھی نہیں ہوتے۔ تاہم ہمارے ہاں چونکہ ہر شے باقی دنیا سے مختلف ہوتی ہے اس لیے سینیٹر بننے کے راستے بھی انوکھے اور اچھوتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے بڑا عامل‘ بلا شک وشبہ‘ روپیہ ہے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ ایک ایک نشست کروڑوں میں بکتی ہے۔ ایک معروف مذہبی پارٹی کی طرف سے تو ایسے ایسے افراد سینیٹر بن جاتے ہیں جن کی جڑیں اور تنا تو کیا‘ اوپر کی شاخیں بھی پارٹی سے کوئی تعلق یا مناسبت نہیں رکھتیں۔ اسی طرح حکمران اپنے پسندیدہ افسروں کو بھی سینیٹ میں لاتے ہیں کیونکہ یس سر‘ یس سر کہنے کی ضرورت آخر سینیٹ میں بھی پڑتی ہے۔ آج کی سینیٹ کو بھی دیکھ لیجیے۔ ماضی میں پولیس افسروں کو بھی ایوانِ بالا کی رکنیت سے نوازا جاتا رہا ہے۔ مگر جن سینیٹر صاحب کے ارشادات کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے‘ وہ یقینا ایک سیاسی ورکر ہیں اور سیاسی جدوجہد کرتے رہے ہیں لیکن حیرت ہے کہ بیان ایسا داغ دیا ہے جو کوئی سرد وگرم چشیدہ سیاستدان کبھی نہ دے! یہ کہہ کر کہ ''مہنگائی صرف عوام کی نہیں‘ بلکہ ہم سب کی پریشانی ہے‘‘ انہوں نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ وہ عوام سے الگ ہیں۔ اس حق گوئی کے کیا کہنے!! سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا ضرر رساں بیان دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ نہ دیتے تو کون سا اربوں کا نقصان ہو جاتا۔ یہ کہنا کہ ''حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘‘ نہ صرف زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے بلکہ فرنگی محاورے کی رُو سے زخم کی توہین کرنے والی بات بھی ہے۔ اس جملے پر غور کیجیے اور سر دھنیے۔ ''حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘‘۔ حکومت میں صدر‘ وزیراعظم‘ وزرائے اعلیٰ‘ صوبوں کے گورنر‘ وفاق اور صوبوں کے وزرا‘ مشیرانِ کرام‘ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان‘ عدلیہ اور مقتدرہ کے اربابِ بست وکشاد شامل ہیں۔ ان میں سے کون ہے جو عوام کے ساتھ ایک ہے؟ اہم ترین سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے پٹرول پمپوں پر آکر‘ قیمت ادا کر کے پٹرول لیتے ہیں؟ غالباً بلکہ یقینا ایک بھی نہیں!! کیا عوام کو ان میں سے کوئی بھی کبھی کسی بازار میں دکھائی دیا؟ یہ سب وہ معززین (ایلیٹ) ہیں جو مراعات یافتہ ہیں۔ عوام کی دنیا سے ان کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے جبکہ عوام کی زندگیاں حسرتوں سے عبارت ہیں! پرسوں ہی ہمارے دوست رؤف کلاسرا صاحب نے خبر بریک کی ہے کہ ایک طرف تو ایک ایم پی اے کے بیٹے کے علاج کیلئے پچاس لاکھ روپے سرکاری خزانے سے دیے گئے ہیں‘ اس کیلئے موجودہ قوانین وقواعد میں خصوصی نرمی کی گئی ہے۔ دوسری طرف ایک غریب آدمی اپنی کینسر زدہ بیٹی کو لے کر در در خوار پھر رہا ہے۔ یہ ایک مثال ہی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ ''حکومت اور عوام ایک ہی ہیں‘‘۔
ہماری اَپر کلاس کے اہلِ سیاست کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اپوزیشن میں ہوں تو ان سے بڑا حق گو اور مجاہد کوئی نہیں۔ اور حزبِ اقتدار میں ہوں تو کوڑے کو قالین کے نیچے چھپانے میں ان سے بڑا ماہر کوئی نہیں۔ حکومتی سینیٹر کا نقطۂ نظر آپ نے جان لیا۔ عوام کی خوش قسمتی سے سینیٹر علی ظفر آ ج کل حزبِ اختلاف میں ہیں۔ ان کے والد ایس ایم ظفر مرحوم‘ جنرل ایوب خان کے وزیر قانون تھے۔ بیرسٹر علی ظفر سینیٹ میں عوام کیلئے بولے۔ کل کو ان کی پارٹی تحریک انصاف برسر اقتدار آئی تو کیا خبر وہ سچ بولیں یا وہ بھی حکومتی ارکان کی طرح ''زیادہ سچ‘‘ بولنے لگیں۔ آج اگر کوئی سیاستدان سچ بول رہا ہے تو اسے غنیمت جانیے کہ بقول جون ایلیا:
پھر یہ جبین و چشم و لب تجھ کو نظر نہ آئیں گے
غور سے ہم کو دیکھ لے آج کے بعد ہم کہاں
حکومتی سینیٹر صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ ''کچھ ایسے ملک ہیں جن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے زیادہ ہیں‘‘۔ مگر کوئی مثال نہ دی۔ اس کے برعکس بیرسٹر علی ظفر نے اعداد وشمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پٹرول پر اسّی روپے محصول لگانے پر رضامند ہو گیا تھا مگر حکومت فی لیٹر ایک سو سترہ روپے سے بھی زیادہ محصول لے رہی ہے۔ بقول سینیٹر علی ظفر یہ کھلم کھلا ڈاکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں فی لٹرپٹرول کی قیمت 278 پاکستانی روپے ہے‘ بنگلہ دیش میں 310 روپے فی لٹر ہے جبکہ پاکستان میں 415 روپے فی لٹر!!! بجلی کے بل 53 فیصد بڑھ گئے ہیں اور آٹے کی قیمت میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سچ یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت 415روپے فی لٹر ہونے سے عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ ستم یہ ہے کہ حکمران طبقے کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ ایوانِ صدر‘ وزیراعظم آفس‘ وزیراعظم ہاؤس‘ صوبائی گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کے سرکاری محلات کے اخراجات میں کچھ بھی قطع وبرید نہیں ہوئی۔ جہاز خریدے جا رہے ہیں۔ لاکھوں روپے ایلیٹ کے علاج پر خرچ ہو رہے ہیں۔ سرکاری پروٹوکول اسی طرح قائم ودائم ہے۔ کاش! پارلیمنٹ میں اتنا دم خم ہوتا کہ سوال کر سکتی! پوچھتی کہ حکمرانوں کے رشتہ داروں کے پروٹوکول پر کتنا خرچ ہو رہا ہے؟ کیا فرزندان کرام اور دخترانِ عظام قانونی طور پر سرکاری پروٹوکول کے حقدار ہیں؟ پارٹی چیئرمین کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں۔ سندھ اسمبلی کیوں نہیں پوچھتی کہ ان کے سفر کے‘ گاڑیوں کے‘ پٹرول کے اور پروٹوکول کے اخراجات ان کی پارٹی ادا کر رہی ہے یا صوبائی حکومت؟ آج ہی ایک صاحب نے اعداد وشمار بتائے ہیں کہ اسلام آباد میں‘ جو چند لاکھ کا شہر ہے‘ ایک تو پولیس کا سربراہ ہے یعنی آئی جی۔ اس کے نیچے چار ڈپٹی آئی جی ہیں۔ بارہ ایس ایس پی ہیں۔ بیس ایس پی ہیں۔ نو اے ایس پی ہیں۔ چالیس سے زیادہ ڈی ایس پی ہیں۔ 173 انسپکٹر ہیں۔ 514 سب انسپکٹر ہیں۔ اے ایس آئی‘ ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل تینوں ملا کر 10800 سے زیادہ ہیں (یہ تفصیل انٹرنیٹ پر ہر کوئی دیکھ سکتا ہے)۔ آپ کا کیا خیال ہے اس جمِّ غفیر کے بعد اسلام آباد جرائم سے پاک ہو گا؟؟ پٹرول کی قیمت آسمان پر ہے مگر پولیس کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ کون پوچھے کہ ان میں سے کتنے پروٹوکول ڈیوٹی پر ہیں؟ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم۔ کس کس زخم پر پٹی باندھیں گے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved