تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     14-05-2026

مزاحمت اور’سٹیٹس کو‘

یہ تاریخ کا ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ مزاحمتی فرد یا گروہ‘ جب 'سٹیٹس کو‘ کی قوتوں کو پچھاڑ دیتا اور کامیاب ہو جاتا ہے توکچھ وقت کے بعد خود سٹیٹس کو کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اس کے خلاف مزاحمت شروع ہو جاتی ہے۔ اس طرح انسانی سماج اکھاڑ پچھاڑ سے گزرتا ہے۔ اگر آپ کو یہاں ہیگل یاد آ رہا ہے تو یہ بے محل نہیں۔ میں مگر کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔
مذہبی تاریخ میں سیدنا مسیحؑ نے روایتی مذہبی پیشوائیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ منفعلانہ مزاحمت تھی۔ یہودیوں نے انہیں اپنے تئیں مصلوب کر دیا‘ الگ بات کہ خدا کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ حضرت مسیحؑ نے بہرحال اس کی ایک قیمت ادا کی۔ پھر ایک وقت آیا کہ رومی بادشاہ نے ان کا مذہب اختیار کر لیا اوراس دور کے رواج کے مطابق‘ سارا روم مسیحی ہو گیا۔ مرورِ وقت کے ساتھ‘ کلیسا جبر کی ایک قوت بن کر سامنے آیا۔ انسان کی فکری آزادی پر قدغن لگ گئی۔ مذہب 'سٹیٹس کو‘ کی علامت بن گیا۔ اس کے خلاف گیلیلیو جیسوں کی مزاحمت تاریخ کا ایک باب ہے۔ نوبت بایں جا رسید کہ مسیحیت سے نجات کے لیے عوامی تحریک برپا ہو گئی۔ سیکولرازم اسی کا نتیجہ ہے۔ یوں کہنا چاہیے کہ ایک متبادل مذہب وجود میں آ گیا۔
اب جدید تاریخ میں آئیں۔ اشتراکیت مزاحمت کی ایک بڑی تحریک تھی۔ روس کا زار ہو یا پھر یورپ کاصنعت کار اورجاگیردار‘ ان کے خلاف مزدوروں اور کسانوں نے احتجاج کا عَلم اٹھا لیا۔ اشراکیت عوامی نعرہ بن گئی۔ ہمیں بھی بتایا گیاکہ اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں‘ اب زندانوں کی خیر نہیں۔ اب راج کرے گی خلقِ خدا۔ اشتراکیت کا انقلاب برپا ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد اندازہ ہوا کہ ریاست ظلم کی ایک نئی قوت بن کر ابھری ہے۔ لینن اور سٹالن 'سٹیٹس کو‘ کے مظاہر قرار پائے۔ آہنی پردے اٹھنے لگے۔ دیوارِ برلن گر گئی اور سوویت یونین کے حصے بخرے ہو گئے۔ وسطی ایشیا کی ریاستوں نے سکھ کا سانس لیا کہ بدترین جبر سے نجات ملی۔ پھر ایران میں ہم نے دیکھا کہ پہلوی بادشاہت کے خلاف تاریخ ساز مزاحمت ہوئی اور مذہبی طبقے کی حکومت قائم ہو گئی۔ آج ایران میں پھر اضطراب کی لہریں اُٹھ رہی ہیں۔ ہم انسانی تاریخ سے اور بہت سی مثالیں تلاش کر سکتے ہیں کہ کیسے 'سٹیٹس کو‘ کے خلاف مزاحمت کے نام پر اٹھنے والی قوتیں‘ وقت کے ساتھ 'سٹیٹس کو‘ کی علامت بن گئیں اور پھر لوگوں کو ان کے خلاف آواز اٹھانا پڑی۔
معلوم ہوا کہ طاقت انسان کو گمراہ کرتی ہے۔ یہ مذہب کے پاکیزہ تصور کے نام پر حاصل کی گئی ہو یا اشتراکیت جیسے مقبول نظریے کے ساتھ‘ طاقت ظلم کو جنم دیتی ہے۔ اسلام کے نظامِ خلافت سے لوگوں نے خاندانی بادشاہت اور ملوکیت برآمد کر لی۔ خلقِ خدا کی حکمرانی کا جھانسا دے کر بدترین آمریتیں مسلط کر دی گئیں۔ ایک گروہ زمین پر بزعمِ خویش خدا کا نمائندہ بن گیا یا پھر عوام کا۔ خدا کو اس کی خبر تھی نہ عوام کو۔ بعض لوگوں کے نزدیک سیاست اسی عمل کی تفہیم کا نام ہے۔ آدابِ حکمرانی پر لکھی جانی والی کتابوں میں یہی بتایا گیا کہ اقتدار کی سیاست کا اخلاقیات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جن میں جرأت ہے وہ اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ دوسرے منافقت سے کام لیتے ہیں۔
'پاسبان ‘ کی جب جماعت اسلامی سے علیحدگی ہوئی تو یہ سوال اٹھا کہ ایک تنظیم کھڑی ہو گئی ہے‘ اب اس کا کیا کیا جائے؟ ہم جانتے ہیں کہ محترم قاضی حسین احمد کی قیادت میں قائم ہونے والے پاکستان اسلامک فرنٹ کا ہراول دستہ یہی پاسبان تھے۔ یہی ظلم کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھا رہے تھے۔ 'ظالمو! قاضی آ رہا ہے‘‘ اسی دور کا مقبول نعرہ تھا۔ پاسبان کے نوجوان ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ راولپنڈی کا معروف آسیہ ایوب کیس‘ پاسبان کی ملک گیر شہرت کا باعث بنا۔ جب فرنٹ کی صف لپیٹ دی گئی اور جماعت اسلامی نے پاسبان کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا تو ان نوجوانوں کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہوئی۔ میں اس مشاورتی مجلس میں شریک تھا جس میں اس کے مستقبل کا سوال اٹھا۔ ملک کے ایک معروف کالم نگار اور اس نظام کو تیزاب سے غسل دینے کی خواہش کرنے والے ایک دانشور 'پاسبان‘ کے فکری راہنما تھے۔ وہ بھی اس مجلس میں شریک تھے۔ انہوں نے 'پاسبان‘ کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل تجویز کیا۔ ان کی ایک تجویز تھی کہ 'پاسبان‘ کو ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنا دیا جائے۔ اس سے اہم‘ نوجوانوں کے لیے ان کی نصیحت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سودا ذہن سے نکال دو کہ تم ظلم ختم کرنے کے لیے اٹھے ہو۔ تم دراصل نئے ظالم پیدا کرنے کے لیے نکلے ہو۔ سیاست کی اس بے رحم اور برہنہ حقیقت کو صرف وہی بیان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ تاریخی عمل کا نچوڑ ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی مزاحمت‘ خود ظلم کی قوت میں بدل گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ میں اس کا کوئی استثنا بھی ہے؟
میرا خیال ہے کہ دو طرح کے استثنا موجود ہیں۔ ایک یہ کہ عوام اور قیادت کا اخلاقی معیار بہت بلند ہو جائے۔ اتنا بلند کہ وہ خاکی ہوکر بھی خاک سے پیوند نہ رکھتے ہوں۔ انسان ہو کر بھی انسانی خواہشوں سے آزاد ہو جائیں۔ اقتدار میں بھی ان کا اخلاقی شعور اتنا تربیت یافتہ ہو کہ زمین زبانِ حال سے پکار اٹھے: 'سلطنتِ اہلِ دل فقر ہے شاہی نہیں‘۔ تاریخ نے اس خیال کو مشہود دیکھا‘ اگرچہ چند ہی برس۔ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ نے اس کا آغاز کیا اور سیدنا عمرؓ نے انتہا کر دی۔ اس دور کی داستان رقم ہو گئی اور اس کا اعتراف ہر منصف مزاج طبیعت نے کیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سماجی ادارے اخلاقی اعتبار سے اتنے توانا ہو جائیں کہ فرد اجتماعی اخلاقی اقدار سے بغاوت کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ آسان نہ ہو۔ یہ دو اسباب سے ممکن ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ سماجی قدریں مضبوط ہوں۔ دوسرا یہ کہ جزا وسزا کا نظام مستحکم ہو۔ اسے ہم قانون کی حکمرانی کہتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ نے داخلی سطح پر اس صورت کو بڑی حد تک ممکن بنا کر دکھا دیا۔ یہ دعویٰ تو کوئی نہیں کر سکتا کہ وہاں سب خیر ہے لیکن ماضی کے مقابلے میں‘ آج انسان کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ ارتقا اور اخلاقی تربیت کا مرہونِ منت ہے۔ اہلِ دانش نے برسوں صرف کیے کہ عوام کے سوچنے کا انداز بدلے۔ عوام کی شعوری تربیت کے لیے ادارے بنائے گئے۔ سو‘ دو سو برس بعد یہ ممکن ہوا کہ انسان محفوظ ہو گیا۔ تاہم یہ المیہ اپنی جگہ باقی رہا کہ انہوں نے اپنا معاشرہ محفوظ بنایا مگر اس دائرے سے باہر ظلم کا بازار گرم کر دیا۔ یہ اخلاقیات کے اس تصور کا حاصل ہے جوخدا پر ایمان کے بجائے‘ خود غرضی سے جنم لیتا ہے۔
ہم اس بحث کو اس طرح سمیٹ سکتے ہیں کہ ہر مزاحمت لازم نہیں کہ خیر ہی ہو۔ دوسرا یہ کہ خیر پر مبنی مزاحمت وہی ہو سکتی ہے جو انسان کو ارتقائی مراحل سے گزار کر‘ اسے اخلاقی طور پر با شعور بنا دے۔ انسان کا اخلاقی شعور جتنا پختہ ہوگا‘ مزاحمت اتنی ہی خیر کا باعث ہو گی۔ اگر وقتی اشتعال کو مزاحمت کا نام دے کر‘ اسے نظریہ بنانے کی کوشش کی جائے گی تو مزاحمت کی قوت خود 'سٹیٹس کو‘ کی قوت میں بدل جائے گی۔ ہمیں ظلم کے خلاف مزاحمت کرنی ہے تو اس کے لیے نئے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔ انقلاب پسندوں نے مزاحمت کے نعرے کو جس طرح استعمال کیا‘ اس کے خلاف مزاحمت آج سب سے زیادہ ضروری ہے۔
تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved