جب تک جنگ کے خاتمے کیلئے ٹھوس اور نتیجہ خیز مذاکرات کا بندوبست ہو رہا ہے آئیے موسم کی بات کرتے ہیں۔ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو بیساکھی یا وساکھی کا مہینہ رخصت ہو رہا ہو گا۔ ہم مسلمان ہیں تو اسلامی مہینوں اور چاند کی تاریخوں کو فالو کرتے ہیں۔ مسیحی برادری عیسوی کیلنڈر کے مطابق اپنے معاملات چلاتی ہے۔ پنجاب بلکہ برصغیر کے ایک خاصے بڑے حصے میں بکرمی سال اور مہینوں کا رواج ہے۔ اس علاقے کے بڑے بوڑھے تو اسلامی اور عیسوی کیلنڈر سے کم اور بکرمی کیلنڈر سے زیادہ واقف اور آگاہ ہوتے تھے اور اس کے مطابق اپنے روزمرہ کے معاملات طے کیا کرتے تھے۔ ان کے پوچھنے پر اگر بتاتے کہ آج دسمبر یا جنوری کی فلاں تاریخ ہے تو وہ کہتے: جنوری فروری تو ٹھیک ہے لیکن یہ بتاؤ کہ آج مگھر‘ پوہ کی کیا تاریخ ہے؟ ان دیسی‘ پنجابی یا بکرمی مہینوں کی تاریخوں کے بارے میں وہ اتنے آگاہ ہوتے کہ انہیں موسم کی خفیف سی تبدیلیوں کا بھی علم ہوتا کہ کب شروع ہوں گی۔
شمسی تقویم کے مطابق دیسی یا بکرمی سال کا آغاز بیساکھ کے مہینے سے ہوتا ہے جو 13اپریل سے شروع ہو کر 14مئی تک جاری رہتا ہے (یاد رہے کہ آج 14مئی ہے اور اس لحاظ سے آج بیساکھ کا آخری دن ہے)۔ وکی پیڈیا کے مطابق 365دنوں کی اس تقویم کے نو مہینے تیس تیس دن کے ہوتے ہیں‘ ایک مہینہ بیساکھ اکتیس دن کا ہوتا ہے اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس بتیس دن کے ہوتے ہیں۔ دن بکرمی سال کے بھی 365 ہی ہوتے ہیں لیکن مہینوں کے دن کم یا زیادہ ہوتے ہیں‘ اس طرح بکرمی کیلنڈر شمسی تقویم کے ساتھ نہیں چلتا۔
جب بیساکھ کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو سردیاں رخصت ہو چکی ہوتی ہیں اور گرمیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ گرمیوں کے آغاز کا یہ موسم کسانوں کیلئے بے حد اہم ہوتا ہے۔ وہ ان دنوں میں گندم کی فصل کو کاٹ اور گاہ کر سنبھالتے ہیں۔ گندم کی سنبھال سے فرصت مل جائے تو باقی دن آرام کے ہوتے ہیں‘ چنانچہ کسان اور کاشتکار ان دنوں میں میلوں ٹھیلوں کا رخ کرتے ہیں‘ کچھ موج میلہ کرتے ہیں‘ کچھ آرام کے دن بیتاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سال کے اس عرصے میں پنجاب میں سب سے زیادہ میلے لگتے ہیں۔ لاہور میں میلہ چراغاں گزرے ابھی چند دن ہوئے ہیں۔ یہ میلہ 16ویں صدی عیسوی میں لاہور میں بسنے والے عظیم صوفی بزرگ حضرت شاہ حسینؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دوسرے شہروں اور دیہات میں لگائے جانے والے میلے بھی کسی نہ کسی بزرگ ہستی یا کسی یادگار شخصیت کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ ان میلوں میں شرکت کرنے والوں کا ان شخصیات کے ساتھ اظہارِ عقیدت دیدنی ہوتا ہے لیکن ان کی دلچسپی کا سب سے بڑا سامان ان میلوں میں منعقد کیے جانے والے پہلوانی اور کبڈی وغیرہ کے مقابلے‘ وہاں لگائے جانے والے سرکس اور کھانے پینے کے سٹال ہوتے ہیں۔ چوڑیاں‘ پراندے‘ نیل پالش اور اسی طرح کی دوسری اشیا لڑکیوں اور خواتین کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔ پھل فروش اور حلوائی بھی میلوں کے مقامات پر اپنی عارضی دکانیں سجا لیتے ہیں۔
بیساکھی کا میلہ پاکستان میں ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے۔ امسال 327واں عالمی وساکھی فیسٹیول یا میلہ 10اپریل سے 19اپریل تک جاری رہا جس میں تقریباً 20 ہزار مقامی‘ تین ہزار بھارت سے اور تین ہزار دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔ یاتریوں نے لاہور‘ ننکانہ صاحب‘ حسن ابدال‘ ایمن آباد‘ فاروق آباد اور کرتارپور نارووال سمیت مختلف مقدس مقامات کا دورہ کیا۔ دوسرے ممالک سے آنے یاتریوں کیلئے حکومتِ پنجاب فول پروف انتظامات میں مصروف رہی جو صوبائی حکومت کی پنجابی ثقافت میں گہری دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ کسان سارا سال بارش کیلئے آسمان کی طرف دیکھتا ہے لیکن چیت اور بیساکھ دو مہینے ایسے ہیں جب کسان بار بار بارش نہ ہونے کی دعائیں مانگتے ہیں کیونکہ ان دو مہینوں میں انہوں نے اپنی چھ ماہ کی کمائی اور سال بھر کی خوراک یعنی گندم کاٹنی‘ گاہنی‘ چھڑنی اور ذخیرہ کرنا ہوتی ہے۔ یہ محنت ٹھکانے لگ جائے یعنی کسان اپنی سال بھر کی ضرورت کی گندم رکھ کر زائد گندم بیچ دے تو اس کے بھڑولے بھرے ہوتے ہیں اور جیب بھی‘ لہٰذا اسے تفریح کی سوجھتی ہے اور دیہات میں میلوں‘ کشتی کے مقابلوں اور کبڈی کے میچوں سے زیادہ تفریح والی اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ لاہور والے اپنی زبان میں اس صورت حال کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ''دیہاڑے ست تے اَٹھ میلے‘ گھر جاواں میں کیہڑے ویلے‘‘ یعنی ہفتے کے دن سات ہیں اور میلے آٹھ ہیں تو ان سے فرصت ملے تو میں گھر جانے کا سوچوں۔ لاہور کے روایتی میلے بہت ہیں۔ قریب قریب ہر مزار پر اس میں مدفون شخصیت کی یاد میں اس کے سالانہ عرس کے موقع پر ایک میلہ لگتا ہے‘ چنانچہ سال بھر لاہور میں میلے جاری رہتے ہیں۔ یہی حالت پنجاب کے دیگر علاقوں کی ہے۔ بیساکھ کے موسم میں لگنے والے میلوں کی تعداد اسی لیے زیادہ ہوتی ہے کہ گندم کی فصل سنبھالنے کے بعد کسان کے پاس فرصت کا خاصا وقت ہوتا ہے۔
جس طرح عیسوی کیلنڈر میں دن کو آٹھ پہروں میں بانٹا گیا ہے اسی طرح بکرما جیت کیلنڈر میں بھی 24گھنٹوں کو آٹھ پہروں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کو پہر یا ویلا کہتے ہیں۔ ہر پہر تین گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔ لوگ باتوں کے دوران کسی کو جب یہ بتاتے ہیں کہ اس نے فلاں کام کفتاں ویلے کیا وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ کام رات کے پہلے پہر میں ہوا تھا۔ پرانے زمانے میں یہ اوقات یا پہر کاشتکاری اور روایتی زندگی میں وقت کی پیمائش کیلئے استعمال ہوتے تھے اور کچھ دیہی علاقوں میں آج بھی رائج ہیں۔ پنجابی کے آٹھ پہر اس طرح تھے: دھمی؍ نور پیر دا ویلا: صبح 6 بجے سے 9 بجے تک (صبح کا آغاز)۔ چھاہ ویلا: دوپہر سے پہلے 9 سے 12 بجے تک (ناشتے کا وقت)۔ پیشی ویلا: 12 سے 3 بجے تک (دوپہر کا وقت)۔ دیگر؍ ڈِیگر ویلا: سہ پہر 3 سے شام 6 بجے تک (عصر کا وقت)۔ نماشاں؍ شاماں ویلا: شام 6 سے رات 9 بجے تک (مغرب کا وقت)۔ کفتاں ویلا: رات 9 سے 12 بجے تک (عشا کا وقت)۔ اَدھ رات ویلا: رات 12 سے 3 بجے تک (آدھی رات)۔ سرگی ویلا : رات 3 سے صبح 6 بجے تک (پچھلی رات)۔
ایک لوک گیت ہے:
ککڑا دھمی دیا کویلے دِتی اَیی بانگ
ماہیا ٹور بیٹھی تے میکوں پچھوں لگا ارمان
ترجمہ: اے پَو پھٹنے پر اذان دینے والے مرغ! تُو نے بے وقت اذان دے دی اور میں نے یہ سوچ کر ماہیا رخصت کر دیا کہ اس کے جانے کا وقت ہو گیا۔ اب بیٹھی افسوس کر رہی ہوں کہ میں نے اسے قبل از وقت کیوں رخصت کر دیا۔
اور ایک طویل پنجابی نظم کے اس بند میں دیکھیں کہ چھاہ ویلے یعنی دوپہر سے پہلے کے وقت کا استعمال کیسے کیا گیا ہے:
پنجابوں آؤندیا ویرنیاں!؍ کوئی گلّ کر اپنے تھاواں دی؍ میرے پنڈ دی‘ میرے ٹبر دی؍ ہمسایاں بھین بھراواں دی؍ فصلاں چنگیاں ہو جاندیاں نے؟؍ مینہہ ویلے سر پے جاندا اے؟؍ گھیو سستا‘ انّ سولاّ اے؟؍ سبھ رجّ کے روٹی کھاندے نے؟؍ پربھات رڑکنے پیندے سن؟؍ چھاہ ویلے بھتے ڈھکدے سن؟؍ بھٹھیاں تے جھرمٹ پیندے سن؟؍ ترنجناں وچ چرخے گھکدے سن؟؍ پردیساں اندر بیٹھیاں نوں؍ کوئی یاد تے کردا ہووے گا
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved