تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     14-05-2026

مہنگے پٹرول کا سستا حل

417 روپے لیٹر پٹرول ڈلوا کر پمپ سے نکلا تو خون کھول رہا تھا۔ گرمی کے دن کا آغاز اس سرگرمی سے ہو تو سارا دن موڈ خراب رہنا ہی ہے۔ غور کر رہا تھا کہ اس مہینے اب تک میرا کتنا پٹرول خرچ ہوا اور کتنا مزید خرچ ہوگا۔ خون جلنے کی اب تک کوئی قیمت طے نہیں ہوئی ورنہ لاکھوں میں پہنچتی۔ پمپ سے نکل کر سڑک پر آیا تو ایک تیز رفتار موٹر سائیکل والا میری گاڑی سے بالکل رگڑتا ہوا گزر گیا۔ گاڑی سے بلبلانے کی آوازیں آئیں۔ موٹر سائیکل والا کچھ لڑکھڑایا لیکن سنبھل کر مزید تیز رفتاری سے بھاگتا چلا گیا۔ اُتر کر دیکھا تو گاڑ ی کی دائیں طرف کا کچھ حصہ اندر جا چکا تھا اور رنگ بھی اُتر چکا تھا۔ میرے اشتعال میں اضافہ ہو گیا لیکن یہ غصہ کس پر نکالوں۔ اس کو برا بھلا کہتا میں پھر روانہ ہو گیا۔ راستے میں میکینک نے گاڑی کا معائنہ کیا اور خوشخبری سنائی کہ کم از کم 25 ہزار روپے کا خرچ ہے۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ ناگہانی خرچ آپڑے ہوں۔ گاڑی کے خرچ تو نکلتے ہی رہتے تھے اور انہیں بھگتتے بھگتتے اَدھ موا ہو چکا تھا۔ خرچ کے ساتھ ایک دن گاڑی بھی میکینک کے پاس چھوڑنی تھی اس لیے آج کے باقی سب پروگرام کینسل۔
رات کو گھر پر رکشہ سے اُتر رہا تھا کہ خواجہ بدر نظر آ گئے۔ بولے ''عثمانی صاحب! خیریت؟ گاڑی کہاں ہے؟‘‘ میں بھرا ہوا تھا۔ ساری روداد تفصیل کے ساتھ سنائی۔ اس لیے بھی کہ خواجہ بدر کو میں خواجہ خضر کہتا ہوں۔ ریٹائرڈ‘ تجربہ کار اور تیر بہدف ٹوٹکوں کے سب سے بڑے خزانچی ہیں۔ میں نے کہا خواجہ صاحب پٹرول اور گاڑی کا خرچ میری برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں‘ سوچ رہا ہوں سائیکل لے لوں لیکن گھاٹیاں اُتر کر پھر اوپر چڑھنا مجھ جیسے دل کے مریض کیلئے ایک الگ مسئلہ ہے۔ خواجہ صاحب کہنے لگے: عثمانی صاحب! کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ تاریخ پر غور کریں۔ یہیں سارے مسائل کا حل چھپا ہوا ہے۔ میرا چہرہ سوالیہ نشان بنا دیکھ کر بولے: یہ بتائیں جب گاڑیاں نہیں تھیں اور پٹرول دریافت نہیں ہوا تھا تو لوگ کیسے سفر کرتے تھے؟ میں نے کہا: خواجہ صاحب! خدا کا نام لیں۔ میں اس عمر میں بیل گاڑی پر سفر کرتا اچھا لگوں گا؟ ہاتھی اور اونٹ کہاں ملتے ہیں پتا نہیں‘ اور ان پر بیٹھا کیسے جائے گا۔ ایک لمبی سیڑھی الگ سے چاہیے۔ اور اونٹ‘ ہاتھی کا سٹیئرنگ کس طرف ہوتا ہے؟ ان کے گیئر کیسے لگتے ہیں؟ ایک ڈرائیور بھی تو چاہیے ان کے لیے۔ پھر ہاتھی اور اونٹ کہاں باندھوں گا۔ ان کیلئے گنے اور چارہ کہاں سے آئے گا۔ آپ مشکلات کا حل بتا رہے ہیں یا مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ خواجہ صاحب ہنستے رہے۔ میں خاموش ہوا تو بولے: یہی تو مسئلہ ہے آپ کا۔ ہمیشہ شاہی سواریوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ نیچے اترتے ہی نہیں۔ 70 سی سی موٹر سائیکل چلا لیں گے‘ 600سی سی گاڑی رکھ لیں گے لیکن سوچیں گے ہمیشہ ہاتھی اور اونٹ کے بارے میں۔ بھائی! میں شاہی اور وزیروں کی سواریوں کی بات نہیں کر رہا۔ عام آدمی کیسے سفر کرتے تھے اُس زمانے میں آسانی کے ساتھ۔ یہ پوچھ رہا ہوں۔
میں نے پھر ذہن میں تاریخ کے صفحات گھمائے۔ بات سمجھ آنے لگی تھی لیکن نہیں۔ بہت مشکل تھا یہ بھی۔ خواجہ صاحب! گھوڑا مجھ سے نہیں سنبھلے گا۔ جانے کہاں لے جاکر پٹخ دے۔ جست لگا کر سوار ہونا اس عمر میں بہت مشکل ہے۔ البتہ چھوٹا سا پیڈسٹل بنوایا جا سکتا ہے۔ جہاں گھوڑا آکر کھڑا ہو جائے اور میں اس پر سوار ہوجاؤں۔ لیکن گھوڑا تو کھاتا بھی بہت ہے۔ دانہ پانی کا کیا ہوگا؟ یہ بھی کافی خرچہ ہے۔ خواجہ صاحب سن کر بولے: پھر وہی شاہی سواری۔ گھوڑا بھی شہنشاہی سواری ہے جناب! ذرا نیچے اُتر آئیے گھوڑے سے۔ گھوڑا بھی مہنگا پڑے گا۔ عوامی سواری سوچیے۔ آپ سب کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ سوچتے نہیں۔ اللہ نے ہر مشکل کا حل بنایا ہے۔ کبھی گدھے کا نام سنا ہے؟ کیسا مسکین سا بے ضرر جانور ہے۔ نہ سیڑھی کی ضرورت نہ پیڈسٹل کی۔ میری مانیے۔ موٹر سائیکلیں‘ گاڑیاں بیچ دیجیے اور چھوٹے قد کے مضبوط 100 سی سی گدھے خرید لیجیے۔ سارا گھر انہی پر سفر کرے۔ واپس آکر گھر کے سامنے باندھ دیجیے یا گیراج میں۔ ان کی کھرلیاں بھی بن سکتی ہیں۔ گاڑیاں تو ہوں گی نہیں‘ جگہ خالی ہو گی۔ ایک گاڑی کی جگہ تین گدھے بندھ سکتے ہیں۔ نہ پٹرول کا خرچہ‘ نہ چالان کا ڈر‘ نہ میکینک کی جھک جھک۔ آپ تو بھولے بادشاہ ہیں۔ آپ کو کہاں پتا ہو گا کہ نہ گدھے میں موبل آئل ڈلتا ہے نہ رِنگ پسٹن۔ ساری مصیبتوں سے آزادی ہے۔ پھر گدھا گھوڑے کی نسبت بہت کم کھاتا ہے۔ کسی گھسیارے سے بات کر لیجیے۔ دو تین سو کی گھاس ڈال دیا کرے روز ان کو۔ صبح اٹھے‘ کک ماری‘ گدھا سٹارٹ کیا اور چل سو چل۔ انڈر پاسز سے اتریں چڑھیں‘ کوئی محنت نہیں‘ شارٹ کٹ سے جائیں گے تو آدھ گھنٹے میں دفتر پہنچ جائیں گے۔ وہاں بھی ان کا بندوبست ہو سکتا ہے۔ گاڑی کی جگہ گدھا کھڑا کردیں اور اوپر کپڑا ڈال دیں تاکہ مٹی سے محفوظ رہے۔ میں خوش ہو گیا۔ بات سمجھ آنے لگی تھی۔ میں نے کہا: خواجہ صاحب! بہت عمدہ بات ہے۔ اللہ جزائے خیر دے۔ میرے دادا موٹر سائیکل کو مشینی گدھا کہتے تھے۔ تو کیا حرج ہے مشینی نہ سہی‘ اصلی سہی‘ زیادہ سے زیادہ آدمی شیخ چلی لگے گا لیکن ایک دفعہ لوگوں کو فائدے پتا لگ گئے تو بہت سارے شیخ چلی گدھوں پر صبح اکٹھے نکلا کریں گے‘ شام کو واپس اکٹھے آیا کریں گے۔ بہت اچھا لگے گا۔ جیسے اب موٹر سائیکلوں کی الگ لین ہوتی ہے ایسی ہی ایک کھوتا لین ہو جائے تو بڑا اچھا ہو جائے۔ لیکن یہ بتائیں گدھے میں سکیورٹی سسٹم لگ سکتا ہے؟ ایسا نہ ہو کوئی بھی گدھا سٹارٹ کرے اور لے جائے۔ آپ ٹاپتے رہ جائیں۔ خواجہ صاحب کہنے لگے: ویسے تو گدھا اپنے مالک کو پہچانتا ہے لیکن اسے سٹیئرنگ لاک لگا بھی سکتے ہیں۔ یہ تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ مجھے گدھے میں سکیورٹی سسٹم نصب کرنے کے کئی آئیڈیاز آنے لگے لیکن بات کرتے کرتے ایک اور خیال آیا۔ خواجہ صاحب! گدھوں کی ٹکر ہوجائے تو کیا ہوتا ہے۔ گدھوں میں ایئر بیگ ہوتے ہیں؟ یا ہیلمٹ لگانا بہتر رہے گا؟ ہیلمٹ لگا لیں احتیاطاً کوئی حرج نہیں۔ لیکن گدھے ٹکرا بھی جائیں تو کون سا بمپر ٹوٹنا ہے؟ جہاں تک مجھے پتا ہے ٹکر کے بعد ان کی باڈی کا پینٹ بھی نہیں خراب ہوتا۔ سو ڈینٹنگ پینٹنگ بھی نہیں۔ مسئلہ ان کا نہیں‘ ان پر بیٹھے ہوئے جانوروں کا ہو گا وہ نہ لڑیں تو کوئی دِقت نہیں۔ یہ مسئلہ بھی حل ہوا تو میری رگوں میں خوشی تیزی سے دوڑنے لگی۔ میکینک کا چہرہ سامنے آگیا جو ہر ماہ پندرہ بیس ہزار کی اسامی نکل جانے پر افسردہ کھڑا تھا۔ یہ تو نری بچت تھی۔ پٹرول کی ایک دن کی بچت ایک ہزار بھی لگائیں تو زیادہ سے زیادہ تین چار سو کی گھاس کھالیں گے گدھے۔ زیادہ بھی کھا لیں تو میکینک اور چالان کے خرچ تو بہرحال بچے۔
میرا دل خواجہ صاحب کیلئے احساسِ تشکر سے چھلکنے لگا۔ خواجہ صاحب! بہت مہربانی آپ کی۔ میں کل ہی گاڑی اور موٹر سائیکل کیلئے گاہک تلاش کرتا ہوں۔ آپ مہربانی کرکے کوئی اچھے سے‘ کم چلے ہوئے یا زیرو میٹر گدھے ڈھونڈ دیجیے۔ تین کافی ہیں پورے گھر کیلئے۔ اور ہاں! محلے میں کسی کو یہ تجویز نہ بتائیے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ پوری شان سے محلے میں سب سے پہلے میں گدھے پر نکلوں اور جل ککڑ مجھے دیکھ دیکھ کر جلتے رہیں۔ خواجہ صاحب بولے فکر ہی نہ کریں۔ پہلے آپ کے گھر میں گدھا آئے گا‘ باقی گھر بعد میں گدھا چال چلیں گے۔ لیکن دو باتوں کا دھیان بہت ضروری ہے‘ بعد میں نہ کہیے گا خواجہ صاحب نے بتایا نہیں۔ ایک تو گدھے دولتیاں مارا کرتے ہیں‘ انہیں ہر جگہ اس طرح پارک کرنا ہے کہ منہ سامنے ہو۔ پیچھے کی طرف سے ہرگز سوار نہ ہوں ورنہ ہڈیوں کا خرچ مہنگا بہت ہے۔ دوسرے گدھے بہت زور سے بولتے ہیں۔ لیکن پیسے بچانے ہیں تو یہ برداشت کرنا تو ہو گا۔ اس کا بھی حل ہے میرے پاس‘ کچھ دن وزیروں کے بیانات‘ سوشل میڈیا بند کر دیجیے۔ گدھوں کی آوازیں بہتر لگنے لگیں گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved