تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     15-05-2026

کیا بدلے گا‘ کیا نہیں

اس وقت جو صورتِ احوال ہمارے اور دنیا کے سامنے ہے‘ بہت کچھ بدلتا نظر آرہا ہے۔ سب معاشی عذاب میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ مشرق سے لے کر بحرالکاہل کے آخری کنارے تک۔ ہمارے جیسے ممالک تو جنگوں کے بغیر ہی اپنی داخلی سیاسی لڑائیوں میں اُلجھ کر اکثریت کا جینا دشوار کیے رکھتے ہیں۔ یہ اور بات کہ اشرافیہ جہاں بھی ہو اور جس ملک میں بھی‘ وہ ہر صورتحال میں چین سے رہتی ہے۔ اپنی یا دوسروں کی جنگوں سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ابھی تک گونا گوں خرابیوں کی زد سے نکل نہیں سکے۔ ایک مسئلہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ فساد‘ جنگیں‘ بحران اور سیاسی کشمکش خود رو جھاڑیوں کی طرح نہیں‘ کچھ انسان اپنے مفادات‘ حرص اور مزید کی تمنا کے مارے معاشروں اور انسانوں کی بربادی کا سامان فراہم کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت ہم مشکل ترین صورتحال کا سامنا کررہے ہیں لیکن ہم اکیلے نہیں۔ ترقی پذیر سے لے کر ترقی یافتہ ریاستوں تک سب متاثر نظر آتے ہیں‘ کچھ کم تو کچھ زیادہ۔ کچھ ممالک زیادہ دیر تک معاشی بوجھ اٹھا سکتے ہیں مگر غریب اور پسماندہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے حالات مزید بگڑیں گے۔ ایران کے خلاف جنگ اور اس کی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی صورتِ مزاحمت نے طاقت اور سلامتی کے بہت بڑے بت غرق کردیے ہیں۔ امریکہ کی حلیف خلیجی ریاستوں کی خود اعتماددی جو کبھی آسمانوں کو چھوتی تھی اب ریت کے پرانے ٹیلوں پر ڈھیر ہو چکی ہے۔ امریکی سلامتی کا حصار جس کی پناہ میں آنے اور رہنے کی وہ بھاری قیمت ادا کرتے رہے ہیں‘ پہلے وہ تیل کی کمائی کی دولت کو ہتھیاروں کی خریداری کی صورت منتقل کرتے رہے ہیں اور اب ایران کے انتقامی حملوں کی زد میں آکر بھاری نقصان اٹھا چکے ہیں۔ جنگ بندی کی صورت میں بھی ان کی اور ان کے خلاف جنگی کارروائیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
جنگ نے عدم تحفظ کا احساس پہلی مرتبہ اس شدت سے پیدا کیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں جلد یا بدیر اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کا ہنر سیکھنا پڑے گا۔ ان کا خیال تھا کہ جنگ تو اسرائیل اور امریکہ کررہے ہیں اور وہ صرف ایران کے جوابی حملوں کی زد میں آئیں گے۔ ان کا یہ اندازہ نہ کبھی اتنا معصومانہ تھا اور نہ ہی ایسی ممکنہ کارروائی سے وہ غافل رہے تھے۔ دفاعی انتظامات کر رکھے تھے اور امریکی مداخلت پر بھروسا بھی کچھ زیادہ تھا جس کا سحر ایرانیوں نے توڑ دیا۔ دفاعی حصار میں جو دراڑ ڈال دی گئی ہے وہ‘ میری دانست میں‘ کبھی مضبوطی سے بھر نہیں پائے گی۔ اب یہ ریاستیں کمزوری‘ عدم تحفظ اور خوف کے ملے جلے احساس سے شاید کبھی بھی چھٹکارا نہ حاصل کر سکیں۔ ایک طرف ان کا اسرائیل اور امریکہ کی طرف جھکاؤ بڑھنے کا امکان ہے اور دوسری طرف ایران کی عددی برتری‘ جغرافیائی اور قومی طاقت کا زعم مزید گہرا ہونے کا امکان ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ جب کبھی جنگ کے شعلے ٹھنڈے پڑیں گے تو کیا وہ جغرافیائی حقیقت پسندی سے کام لیں گے یا دولت کے زعم میں اپنی پرانی ڈگر پر چلتے رہیں گے۔ اماراتی دولت کے خزانوں پر بھی کاری ضرب پڑی ہے۔ سرمایہ دار‘ سیاح اور جائیدادوں کے کاروباری ابھی تو غائب ہو چکے۔ شاید جو دنیا کے کمزور ممالک کی لوٹ مار کا سرمایہ‘ جس کیلئے یہ محفوظ ٹھکانہ رہا ہے‘ وہ کوئی اور جگہ نہ پاکر کچھ دیر ٹکا رہے مگر سنا ہے کہ ان کی نیندیں بھی اڑ چکی ہیں کہ کہیں سب کچھ نہ گنوا بیٹھیں۔ ایک بات تو یقینی نظرآرہی ہے‘ وہ یہ کہ اس علاقے کی سلامتی‘ استحکام اور امن و امان کی فضا پر جنگ کے دھوئیں اور راکھ کے اثرات جلد نہیں مٹیں گے۔
اس جنگ سے پہلے ہی دنیا کے تقریباً سب ممالک معدنی تیل کی معیشت سے نکلنے کی کوشش میں تھے۔ اب یہ رجحان اپنی مقبولیت کی انتہا کو چھو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں تو عام لوگ اپنی جیب اور مہنگی بجلی کے جبر سے شمسی توانائی کا انقلاب لا چکے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں شاید اکثریت کو میٹروں‘ تاروں اور سرکاری محکموں کی ضرورت ہی نہ رہے۔ ان کے خلاف بغاوت کے آثار آپ دیہات سے لے کر شہروں تک دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک میں‘ چین جن میں سرفہرست ہے‘ گرین انرجی کا انقلاب آچکا ہے اور تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ اب تیل اور گیس پر عالمی انحصار ختم تو نہیں کم ضرور ہوتا چلا جائے گا۔ جنگ کے اثرات میں سے نمایاں تبدیلی متبادل انرجی کے وسائل کی ترقی اب قیاس نہیں‘ ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ عام طور پر ہم شمسی توانائی کی بے پایاں دولت سے واقف نہیں لیکن دیگر ممالک میں ہوائی چکیاں‘ زمینی حرارت کا گھروں کو گرم رکھنے میں استعمال اور انرجی کے کم سے کم استعمال اور بچت کے طریقے ہیں‘ جن سے نہ صرف تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو بھی روک کر مناسب اور فطری سطح پر لانا ممکن ہو سکے گا۔ اپنی حیرانی میں تو کبھی کمی نہیں آتی کہ چھوٹی سی تبدیلیوں کو ہم نے آگے چل کر بہت بڑے رجحان میںڈھلتے دیکھا ہے۔ اپنے ہی علاقے میں اپنے دوست کی پچاس سی سی موٹرسائیکل بلکہ سائیکلی دیکھی تھی۔ اب ہر گھر میں کم از کم ایک موجود ہے۔ اس مرتبہ چند برقی سکوٹریاں بھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر دوڑتی دیکھیں تو معیشت کا اصول اور انسانوں کے بارے میں بنیادی کلیہ یاد آیا کہ ہم سب فطری طور پر افادیت پسند ہیں۔ اب لوگ فائدہ اسی میں دیکھ رہے ہیں کہ اپنے قدرتی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔ اگر عوامی شعور اور عوامی خدمت کا جذبہ ہمارے حکمرانوں کے ذہنوں میں سما سکتا تو ایسے انقلاب بہت پہلے آ چکے ہوتے۔
ابھی تک اندازے ہیں لیکن صورتحال واضح نہیں کہ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں نئی تزویراتی صف بندی ہو گی یا سب پرانی تنخواہ پر کام کریں گے۔ ہمارے ملک میں خوش فہمیوں‘ جذباتیت اور نعرہ بازی کا رجحان سیاست اور معاشرت میں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ کبھی تو یہ خطرے کی حد سے بھی اوپر نظر آتا ہے۔ ہر جنگ اور عالمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ہمارے کچھ اہلِ دانش اپنی طاقت کی مبالغہ آرائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنی معیشت کی زبوں حالی‘ تجارتی خسارے اور صنعتی جمود کی طرف کم ہی نظر جاتی ہے کہ طاقت کی ظاہری علامت کی بنیاد ٹھوس اور پائیدار صنعتی معیشت پر ہونا لازمی ہے۔ خیر یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ نیا علاقائی تزویراتی اتحاد چند کلیدی ممالک کا ممکن ہے۔ یہ ہو یا نہ ہو‘ عصرِ حاضر کی معیشت میں عسکری اتحادوں کی نہیں بلکہ تجارتی‘ صنعتی اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور نئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری اور قومی وسائل کو ترقی دینے کی اہمیت ہے۔
گیم چینجر سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ زرعی تحقیق اور مارکیٹ سے مربوط جدید تعلیمی نظام ہیں۔ اگر ہم ایران کے خلاف جنگ کے اثرات سے نمٹنے میں کوئی بنیادی تبدیلی لا سکتے ہیں تو ہمیں ان شعبوں میں پانسہ پلٹنے کی حکمت عملی بنانا پڑے گی۔ سیانوں کی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر بحران‘ ہر مشکل صورتحال اور ہر چیلنج اپنے اندر اصلاح اور تدبیر کی روح رکھتا ہے۔ وژنری قیادت انہیں موقع سمجھ کر انقلابی تبدیلیوں کی راہ اپناتی ہے۔ دیگر اندھیروں میں رہ کر کبھی روشنی کی طرف نہیں آسکتے۔ بہت سے ملک دنیا میں بڑی تبدیلیوں کی طرف جائیں گے‘ ہمارے لیے بھی سنہری موقع ہے مگر کیا کریں‘ ہماری امیدوں کے خواب ہر دور میں چکنا چور ہوئے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved