تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     15-05-2026

بلدیاتی نظام اور سیاسی ترجیحات

سیاست میں عوامی رائے سمندر کی لہروں کی مانند ہوتی ہے جو کب اور کس سمت رخ بدل لے‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں مطلوبہ نشستیں نہ جیت پانے اور پھر سکاٹ لینڈ کے انتخابات میں شکست نے لیبر پارٹی کو شدید سیاسی دھچکا پہنچایا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل جب لیبر پارٹی نے سکاٹ لینڈ کی 57 میں سے 37 نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا تو یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ سکاٹش نیشنل پارٹی کی سیاست قصۂ پارینہ بننے والی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے لندن کا اقتدار سنبھالا اور سکاٹ لینڈ میں بھی اس کے امیدواروں کے چراغ روشن ہو گئے۔ لیکن اب بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان کے بعد برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر پر استعفے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ لیبر پارٹی 1400 سے زائد کونسل نشستیں ہار گئی ہے‘ ویلز اور سکاٹ لینڈ میں بھی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گرین پارٹی کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق بلدیاتی اور علاقائی انتخابات میں پارٹی کی بڑی شکست کے بعد وزیراعظم سٹارمر شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے استعفے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں بلدیاتی ادارے زیادہ تر غیرجمہوری ادوار ہی میں فعال اور کامیاب رہے اور انہی ادوار میں ان کے انتخابات کا تسلسل بھی برقرار رکھا گیا۔ صدر ایوب خان نے امریکی انتخابی نظام کی پیروی کرتے ہوئے 1962ء میں بنیادی جمہوریتوں کا طریقۂ کار اختیار کیا۔ متحدہ پاکستان میں تقریباً 80 ہزار بنیادی جمہوریت ( بی ڈی) کے ارکان منتخب ہوئے مگر بعد ازاں اس ادارے کو الیکٹورل کالج کا درجہ دے کر سیاسی آلودگی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا جس کے باعث یہ نظام سیاسی نفرت کا شکار ہو گیا۔ اگر صدر ایوب خان اس نظام کو ترقیاتی منصوبوں‘ یونین کونسل سے لے کر ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کونسل کی سطح تک مضبوط کرتے اور انہیں انتظامی و مالیاتی خودمختاری فراہم کر دیتے تو یہ نظام ایک مثالی شکل اختیار کر سکتا تھا۔ اس نظام کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈونیشیا کے صدر سکارنو نے 1963ء میں پاکستان کے دورے کے دوران بلدیاتی اداروں کے نظام کے بارے میں صدر ایوب خان سے باقاعدہ بریفنگ لی۔ ایوب خان کی معاشی ٹیم‘ جس میں وزیرخزانہ محمد شعیب‘ پلاننگ کمیشن کے غلام فاروق‘ اور بعد ازاں وزیرخارجہ بننے والے ذوالفقار علی بھٹو شامل تھے‘ نے صدر سکارنو کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی تھی۔ صدر سکارنو اس نظام کا بلیو پرنٹ اپنے ساتھ انڈونیشیا لے کر گئے اور وہاں یہ نظام نافذ کیا۔ جولائی 2009ء میں جب مجھے انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات کا جائزہ لینے کیلئے حکومتِ انڈونیشیا کی دعوت پر جکارتہ جانے کا موقع ملا تو میں نے وہاں کے انتخابی نظام کا مشاہدہ کیا۔ جب انڈونیشیا کے وزیرخارجہ نے بتایا کہ ان کے ملک کے بلدیاتی نظام کا بنیادی خاکہ صدر سکارنو پاکستان سے لے کر آئے تھے اور گزشتہ 55 برس سے یہ نظام کامیابی کے ساتھ نافذ العمل ہے‘ تو مجھے یہ جان کر سخت حیرت ہوئی ۔
اس کے برعکس پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی ادارے ہی ختم کر دیے۔ بعدازاں صدر پرویز مشرف نے اپنے دور میں جنرل تنویر حسین نقوی کی معاونت سے لوکل گورنمنٹ سسٹم نافذ کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کی حیثیت سے میں نے 2001ء اور 2006ء میں بلدیاتی انتخابات کرائے‘ جن میں ملک بھر سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ارکان منتخب ہوئے۔ اس دور میں بیورو کریسی کے کئی اختیارات ناظمین کو منتقل کر دیے گئے تھے‘ تاہم جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دسمبر 2008ء میں مارچ 2009ء کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا تو اُس وقت کی حکومت کے دباؤ پر یہ شیڈول واپس لینا پڑا۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کر کے بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے اور آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت لوکل گورنمنٹ انتخابات کے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے۔آج وفاق اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت اور حکومتِ پنجاب سے انتخابی قوانین کے حوالے سے کئی مرتبہ رجوع کیا لیکن وفاق اور پنجاب کی عدم دلچسپی کے باعث چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو یہ کہنا پڑا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں۔ پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء نافذ کرنے کی بھی کوشش کی مگر متنازع شقوں کے باعث اسے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا۔ اب اطلاعات ہیں کہ 7 کلب روڈ لاہور میں بلدیاتی قوانین میں ترامیم کیلئے اجلاس ہو رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کیلئے ماہرین موجود ہیں مگر نیت اور سیاسی ارادے کے فقدان کے باعث جمہوری انداز میں قانون سازی نہیں ہو رہی۔
دوسری جانب یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدر زرداری خرابیٔ صحت کے باعث مستعفی ہو سکتے ہیں اور شنید ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کووہ اپنے جانشین کے طور پر آگے لانا چاہتے ہیں‘ جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتا۔ ایران امریکہ کشمکش‘ خلیجی ریاستوں کے غیر یقینی مستقبل‘ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بھارتی مداخلت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی حکومتی ساکھ بچانے کی حکمتِ عملی کے حالات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت بن کر ابھرے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے علاوہ ایران‘ ترکیہ‘ مصر اور دیگر مسلم ممالک کی قیادت بھی ان کی جانب دیکھ رہی ہے جبکہ روس اور چین بھی ان کی دوراندیشی اور وژن سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صدرِ پاکستان کے اختیارات تقسیم کرنے کی تجاویز زیر بحث آ سکتی ہیں۔ اس ضمن میں آئینی ترمیم سے قبل وفاقی آئینی عدالت سے رائے لینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔
8 جون سے قبل 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ کی ازسرِنو تشکیل پر بھی غور ہو رہا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے اور صحت و تعلیم جیسے اہم شعبے دوبارہ وفاق کے سپرد کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت اور تعلیم کیلئے مختص اربوں روپے کے فنڈز صوبائی گورننس پر سوالیہ نشان ہیں۔ بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیاں صوبائی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور فنڈز کے استعمال میں کرپشن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ پنجاب میں سرکاری محکموں کے متبادل درجنوں کمپنیاں قائم کر دی گئی ہیں اور حکومت کے پسندیدہ بیوروکریٹس کو اعلیٰ عہدے دیے جا رہے ہیں جن کے ماہانہ تنخواہ ملینز میں ہے۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ حکومتی کمیٹیوں کے اخراجات اور مراعات کا بوجھ بھی سرمایہ کاروں پر ڈالا جاتا ہے۔ ملک میں کرپشن اور بیڈ گورننس کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے‘ اس کے بارے میں مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والی وسیع مالیاتی اور انتظامی خودمختاری نے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے گڈ گورننس کے حوالے سے مزید تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ نیب کو مزید بااختیار بنانے‘ لوکل گورنمنٹ اداروں کو وفاق کے ماتحت کرنے اور آئین کے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔
اس وقت سیاسی نظام اپنی افادیت کھو چکا۔ صوبائی حکومتوں کو احتساب کے دائرے میں لا کر ازسرِنو تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس مقصد کیلئے ایک ایسا قومی روڈمیپ ترتیب دینا ہوگا جس کے تحت غریب اور پسماندہ طبقے کی حالت جنگی بنیادوں پر بہتر بنائی جائے۔ مضبوط دفاع کے ساتھ ایسی مستحکم معیشت ناگزیر ہے جس کے ثمرات پاکستان کے غریب ترین طبقے تک پہنچیں اور وہ خود کو معاشی و سماجی طور پر محفوظ محسوس کریں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved