امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے تین روزہ دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں اور یہ دورہ دو سپر پاورز کے سربراہان کی ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تقریباً نو سال بعد کسی بھی امریکی صدر کا یہ چین کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ ہی 2017ء میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں چین گئے تھے‘ بعد ازاں صدر جوبائیڈن نے اپنی مدتِ صدارت میں یہ روایت برقرار نہیں رکھی۔ صدر ٹرمپ کو اس دورے کی باضابطہ دعوت چینی صدر شی جن پنگ نے دی تھی۔ اصل میں یہ دورہ مارچ؍اپریل میں ہونا تھا لیکن ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث یہ التوا کا شکار ہو گیا۔ امریکی وفد میں وزیر خارجہ مارکو روبیو‘ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ‘ تجارتی نمائندے جیمیسن گرِیر کے علاوہ ایپل کمپنی کے ٹم کک‘ ٹیسلا کے ایلون مسک‘ بوئنگ اور Goldman Sachs کے سی ای اوز بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ کے بیٹے ایرک اور بہو لارا بھی ذاتی حیثیت میں ان کے وفد میں شامل ہیں۔
چین اور امریکہ کو اس وقت کئی نازک مسائل کا سامنا ہے مگر اس دورے میں تین اہم موضوعات زیرِ بحث آئیں گے اور یہی اس دورے کا محور ہیں۔ اولین ترجیح ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز کھلے اور جنگ ختم ہو۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس امر میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ چین نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ چین کی جانب سے ایران اور روس کو اشیا کی فراہمی کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ اس کے علاوہ تجارتی جنگ اور ٹیرف کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ چین اور امریکہ کے مابین 2025ء میں تقریباً 414.7 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے چین پر 20فیصد ٹیرف لگا رکھے ہیں جس کی وجہ فینٹینائل (ایک قسم کی ڈرگ)کی سمگلنگ روکنے میں ناکامی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق دونوں فریق تجارتی جنگ بندی میں ایک سالہ توسیع پر غور کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ اہم اور تیسرا نمایاں موضوع تائیوان کا مسئلہ ہے۔ تائیوان چین کیلئے ''ریڈ لائن‘‘ ہے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ تائیوان کا واپس چین میں شامل ہونا دوسری عالمی جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کا حصہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہنا تھا کہ وہ تائیوان پر کم بات کریں گے جبکہ ان کی ترجیحات میں توانائی اور ایران پر گفتگو سر فہرست رہے گی۔
اب ذرا اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا امریکہ کے کہنے پر چین ایران کو دباؤ میں لا کر آبنائے ہرمز کھلوا سکتا ہے؟ یہ درست ہے کہ چین کے پاس ایران پر دباؤ بڑھانے کے کچھ عملی ذرائع موجود ہیں لیکن یکطرفہ اور مکمل دباؤ ڈالنا اس کیلئے آسان ہرگز نہیں۔ سب سے پہلا ہتھیار معاشی ہے۔ چین ایران کے خام تیل کی برآمدات کا 80سے 90فیصد خریدتا ہے۔ چین روزانہ تقریباً 1.2سے 1.4 ملین بیرل ایرانی تیل لے رہا ہے‘ زیادہ تر رعایتی قیمت پر۔ لہٰذا اگر چین یہ خریداری روک دے یا کم کر دے تو ایران کی معیشت فوری دباؤ میں آ جائے گی کیونکہ ایران پر پہلے ہی عالمی پابندیاں ہیں۔ دوسرا سفارتی محاذ پر چین ہمیشہ ایران کے مفادات کا تحفظ کرتا آیا ہے۔ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور ایران کا سب سے بڑا سیاسی حامی رہا ہے۔ 2023ء میں چین نے ہی سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کی بحالی میں ثالثی کی تھی اور اس کی بات تہران میں وزن رکھتی ہے۔ تیسرا پہلو سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کا ہے جس میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین نے ایران میں بندرگاہوں‘ ریلوے اور توانائی کے منصوبوں میں اربوں ڈالر لگانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ان منصوبوں کو روکنا یا سست کرنا بھی دباؤ کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔ لیکن چین یکطرفہ اقدامات کیوں نہیں چاہے گا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا خود چین کے اپنے مفاد میں ہے کیونکہ اس کا 40فیصد سے زائد تیل وہیں سے گزرتا ہے۔ لیکن وہ ایران کو مکمل ناراض نہیں کرنا چاہے گا کیونکہ ایران روس اور چین پر مشتمل مغرب مخالف بلاک کا کلیدی حصہ ہے۔ یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر چین بہت زیادہ دباؤ ڈالے تو ایران روس اور بھارت کی طرف جھک جائے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو چین روایتی طور پر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرتا ہے۔ وہ سفارتی اور معاشی ترغیبات کے ذریعے دباؤ کا محدود استعمال کرتا ہے مگر کھلی دھمکی سے نہیں۔ دوسری جانب ایران کے پاس بھی متعدد آپشنز موجود ہیں۔ ایران جانتا ہے کہ چین کو ایران کا سستا تیل چاہیے۔ اس لیے وہ مکمل طور پر جھکنے کے بجائے سودے بازی کرتا ہے۔ 2025ء کی جنگ میں چین ہی نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کیا تھا لیکن یہ تب ممکن ہوا تھا جب ایران کو محسوس ہوا کہ جنگ جاری رکھنا اس کیلئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔ حالیہ دورے سے قبل بھی امریکی صدر ٹرمپ نے چین سے کہا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز کھلے اور جنگ ختم ہو۔ چینی میڈیا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ چین نے ایران کو جنگ بندی پر راضی کرنے میں کردار ادا کیا لیکن یہ دباؤ یکطرفہ نہیں تھا۔ چین نے یہ کام اس لیے کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے چین کو تیل کی ترسیل میں خلل آ رہا تھا۔ علاوہ ازیں امریکہ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر چین تعاون کرے تو ٹیرف اور تجارتی سہولتوں میں نرمی ہو سکتی ہے۔ چین ایران پر معاشی اور سفارتی دباؤ بڑھا سکتا ہے‘ اور ماضی میں بڑھایا بھی‘ لیکن یہ دباؤ یکطرفہ نہیں تھا کیونکہ چین ایران کو اپنے قریب رکھنا چاہتا ہے۔ عام طور پر سفارتی اور تجارتی تعاون مشروط ہوتا ہے اور چین اس کے بدلے امریکہ سے تجارتی اور سفارتی مراعات چاہتا ہے۔ یہ دباؤ ہمیشہ غیر اعلانیہ ہوتا ہے‘ چین کبھی اعلانیہ طور پر یہ سب نہیں کہے گا۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ دورے میں دونوں ممالک میں ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق امور بھی زیر بحث آئیں گے۔ اسی ضمن میں ایرو سپیس‘ زراعت‘ توانائی‘ مصنوعی ذہانت اور فینٹینائل کنٹرول پر تعاون کے معاہدے متوقع ہیں۔ چین امریکہ میں مینوفیکچرنگ فنڈ قائم کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ بلاشبہ عالمی سیاست‘ صنعت و تجارت اور معیشت کیلئے چین اور امریکہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں اور منڈیاں ہیں۔ ان کے تعلقات کا رخ پوری دنیا کی معیشت‘ سپلائی چین اور سلامتی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی سفارتکاری چین امریکہ باہمی تعلقات کو سٹرٹیجک رہنمائی دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسے علامتی اہمیت کا ایک بڑا دورہ قرار دیا گیا ہے۔ نو سال بعد کسی امریکی صدر کا چین جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ فریقین اپنے سفارتی روابط اور تجارتی تعاون میں استحکام کے حامی ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کوئی بریک تھرو متوقع نہیں لیکن ایرو سپیس‘ زراعت اور توانائی میں چھوٹے معاہدے ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ چین امریکہ تجارتی اور سرمایہ کاری بورڈ کے قیام پر بھی کام ہو رہا ہے۔
اس دورے کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ یہ دورہ علامتی اہمیت اور سودے بازی کا امتزاج ہے۔ مگر صدر ٹرمپ خود کہتے ہیں کہ وہ امریکی عوام کیلئے اچھی ڈیلز لے کر آئیں گے۔ اس تناظر میں حالیہ دورے کی کامیابی کو جانچنے کے یہ تین پیمانے ہو سکتے ہیں۔ اول‘ کیا ایران پر چین کا دباؤ بڑھتا ہے؟ دوم‘ کیا تجارتی جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے؟ سوم‘ کیا تائیوان اور ٹیکنالوجی پر تصادم کم ہوتا ہے؟ دونوں رہنمائوںکا ماننا ہے کہ چین اور امریکہ کو ' شراکت دار اور دوست‘ ہونا چاہیے۔ لیکن حقیقتاً دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا فقدان ہے اور یہ دورہ اسی اعتماد کو جزوی بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved