انسان جب رات کے سناٹوں میں آسمان کی طرف دیکھتا ہے‘ چاند کو اپنی خاموش روشنی بکھیرتے ہوئے پاتا ہے‘ سمندر کی لہروں کو بیتابی سے اٹھتے اور گرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اُسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کائنات محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک عظیم حکمت کا زندہ مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین کے لیے رات اور دن کا دورانیہ چوبیس گھنٹے مقرر فرمایا ہے۔ زمین پر سب سے بڑی مخلوق سمندر ہے‘ اور اللہ تعالیٰ نے چاند کی روشنی میں ایسی کشش رکھ دی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ سمندروں کے پانی کو اوپر نیچے کر دیتی ہے۔ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں‘ اس پر تو سورج کی روشنی کا عکس پڑتا ہے‘ مگر اسی عکس سے سمندروں میں مدّو جزر پیدا ہوتا ہے۔ انگریزی میں اسے Tide, Rise and Fall یا Ebb and flow کہا جاتا ہے‘ جبکہ ہمارے ہاں اسے جوار بھاٹا کہتے ہیں۔
جب سورج‘ چاند اور زمین ایک ہی لائن میں آ جاتے ہیں تو سمندر کے پانی پر چاند کی کششِ ثقل کا اثر زیادہ ہو جاتا ہے۔ پانی بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے‘ ساحلوں سے لہریں ٹکراتی ہیں اور لوگ حیرت سے اس منظر کو دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ پھر جب زمین کا یہ حصہ چاند سے دور ہو جاتا ہے تو کشش کم پڑ جاتی ہے‘ پانی ساحل سے دور ہٹ جاتا ہے۔ یہ سب زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ہوتا ہے۔
انسانی زندگی بھی سورج‘ چاند اور زمین کی طرح ایک عظیم باطنی نظام کے تحت چل رہی ہے۔ جیسے سورج روشنی اور توانائی پیدا کرتا ہے اور اس کا عکس چاند پر پڑ کر سمندروں میں ہلچل پیدا کرتا ہے‘ اسی طرح روح قوت اور توانائی کا مرکز ہے۔ جب اس توانائی کا عکس نفس پر پڑتا ہے تو نفس روشن ہو جاتا ہے اور یہی روشنی انسانی جسم میں حرکت اور اضطراب پیدا کرتی ہے۔ جس طرح سورج اور چاند الگ الگ حقیقتیں ہیں‘ اسی طرح روح اور نفس بھی الگ الگ حقیقتیں ہیں۔ یاد رہے کہ نفس ایک ہی ہے مگر اس کی تین حالتیں ہیں۔ قرآنِ مجید نے ان حالتوں کو بیان فرمایا ہے۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائی کی طرف اکساتا ہے‘ یعنی نفسِ امّارہ۔ دوسرا وہ جو برائی پر ملامت کرتا ہے‘ یعنی نفسِ لوامہ۔ اور تیسرا وہ جو اطمینان اور سکون پا لیتا ہے‘ یعنی نفسِ مطمٔنہ۔ انسان کے اندر پیدا ہونے والی خرابی دراصل نفس کی خرابی ہے‘ اور نفس کو شیطان خراب کرتا ہے۔ جنات خود ایک انرجی ہیں جو آگ کے تیز ترین شعلے سے پیدا کی گئی ہے۔ انسانی نفس کی وہ منعکس توانائی جو روح سے حاصل ہوتی ہے‘ جب جسم سے نکلتی ہے تو انسان کے گرد ایک ہالہ بنا دیتی ہے۔ شیطان اسی انرجی سے رابطہ قائم کر کے اپنی منفی توانائی کے ذریعے انسان کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے۔
انسان کے سینے میں دل قدرے بائیں جانب ہوتا ہے اور شیطان عموماً بائیں طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید نے دل کو ''قلب‘‘ کہا ہے جبکہ ''فُؤَاد‘‘ کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے۔ ترجمہ کرنے والوں نے 'فُواد‘ کا ترجمہ بھی دل کیا ہے‘ حالانکہ فُؤَادْ ''فئید‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا لغوی معنی حرارت اور حدّت ہے۔ گویا ایک ایسا نادیدہ غلاف جو دل کے گرد موجود ہے۔ شیطان جن اسی کے ذریعے وسوسہ اندازی کرتے ہوئے دل تک پہنچتے ہیں‘ پھر دل کے ذریعے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں گردش کرتے ہیں اور جہاں انہیں ٹھکانہ مل جائے وہاں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں واضح فرما دیا کہ انسانی نفس میں اس کی پرہیزگاری اور اس کی برائی‘ دونوں الہام کر دی گئی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نفس میں موجود برائی کے بڑھتے ہوئے لیول کو کم کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر موجود تقویٰ کو مضبوط کرے تاکہ وہ برائی کا مقابلہ کر کے اسے شکست دے اور تقویٰ کو غالب مقام تک لے آئے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ کے آخری رسولﷺ نے ایک عظیم دعا تعلیم فرمائی۔ جامع ترمذی میں حسن سند کے ساتھ اور امام حاکم نے امام مسلم کی شرط پر اسے روایت کیا: ''اے اللہ! میرے نفس میں بھلائی الہام فرما اور مجھے میرے نفس کی برائی سے بچا لے‘‘۔
رسولِ کریمﷺ نے برے وسوسوں کا علاج بھی تعلیم فرمایا کہ بائیں کندھے پر تین بار ہلکا سا تھو تھو کرے اور تین مرتبہ ''اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ پڑھے‘ اللہ تعالیٰ وسوسوں کو دور فرما دے گا۔ اگر رات کو ڈراؤنے یا شیطانی خواب آئیں تو اٹھ کر یہی عمل کرے۔ جب بھی وسوسوں سے پریشانی محسوس ہو‘ یہی علاج جاری رکھے۔ وسوسے دماغ میں پیدا ہوں تب بھی یہی علاج مؤثر ہے۔ قرآنِ مجید کی آخری دو سورتیں ( خصوصاً سورۃ الناس) ان وسوسوں کے علاج کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اگر انسان ان دونوں سورتوں کے معنی اور مفہوم کو دل میں رکھتے ہوئے بار بار تلاوت کرے تو دل پر عجب سکون کی کیفیت اترتی ہے۔ ضروری ہے کہ انسان رات کوسونے لگے تو بستر پر بیٹھنے سے پہلے ''بسم اللہ‘‘ پڑھے اور ہاتھ سے بستر کو اس طرح جھاڑے جیسے کسی نادیدہ چیز کو ہٹا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی غیر موجودگی میں کوئی شیطانی اثر وہاں موجود ہو تو دور ہو جائے۔ پھر دائیں کروٹ لیٹے‘ سونے کی دعائیں پڑھے‘ خاص طور پر آیت الکرسی اور آخری تین قل تین تین مرتبہ پڑھ کر سوئے۔ اگر ان کا مفہوم ذہن اور دل میں رکھ کر پڑھے تو فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے‘ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
جب کوئی انسان دوسروں پر ظلم کرتا ہے‘ کسی کا حق مارتا ہے‘ حق دینے میں ٹال مٹول کرتا ہے‘ وعدہ خلافی کرتا ہے‘ دوسروں کی جائیدادوں پر قبضہ کرتا ہے‘ کرایہ دار ہو کر قابض بننے کی کوشش کرتا ہے‘ قانون کے چور دروازے استعمال کر کے ظلم کرتا ہے تو شیطان اس پر بہت جلد مسلط ہو جاتا ہے۔ رحمت کے فرشتے اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ حسد کرنے والا‘ دوسروں کی نعمتوں پر بری نظر رکھنے والا‘ چغلیاں کر کے معاشرے میں فساد پھیلانے والا‘ پڑوسیوں کی عزتوں کو بری نگاہ ڈالنے والا دراصل شیطان کے لیے اپنے اندر کے راستے کھول دیتا ہے۔ اگر انسان اصلاح چاہتا ہے تو اسے اپنے نفس کو ملامت کرنے کے مقام تک لانا ہوگا۔ یعنی جب نفس برائی کی طرف مائل ہو تو اس کے اندر ایسی ندامت اور ملامت پیدا ہو کہ وہ خود کو برائی کرنے سے روکنے لگے۔ پھر اس نفس کو مطمٔنہ کے مقام تک پہنچانے کی کوشش کرے‘ اور جب وہاں پہنچ جائے تو مرتے دم تک اس مقام کی حفاظت کرے۔ اس حفاظت کا ایک طریقہ رسول اللہﷺ نے یہ بتایا کہ اولادِ آدم کا ہر انسان تین سو ساٹھ جوڑوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ ہر روز ہر جوڑ کا صدقہ ادا کرنا چاہیے۔ یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اللہ اکبر‘ الحمدللہ‘ لا الہ الا اللہ‘ سبحان اللہ اور استغفر اللہ کا ورد کرتا ہے‘ لوگوں کے راستے سے پتھر‘ کانٹا‘ ہڈی یا کوئی نقصان دہ چیز ہٹاتا ہے‘ نیکی کو پھیلاتا اور برائی کو دور کرتا ہے تو یہ بھی صدقہ ہے‘ گویا وہ اپنی نیکیوں سے‘ اپنے ذکر اذکار سے اپنے جوڑوں کا صدقہ ادا کر دیتا ہے۔ پھر وہ اس دن زمین پر چلتا ہے تو اس کا نفس آگ سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دوسروں کی بھلائی کے چھوٹے چھوٹے کام بھی انسان کو وسوسوں کی شیطانی آگ سے دنیا میں محفوظ رکھتے ہیں‘ اور قیامت کے دن جہنم کی آگ سے اس کے تین سو ساٹھ جوڑوں کی حفاظت کا ذریعہ بن جائیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved