شاعرِ بے مثال چچا غالب کے پاس بہرحال بحیثیت شاعر یہ سہولت اور آسانی میسر تھی‘ ان کے پاس اپنا سر پھوڑنے کیلئے ایک سے زائد در موجود تھے‘ تبھی تو وہ فرماتے ہیں کہ: وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہر؍ تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو۔
عاشقوں اور چچا غالب کی طرح لیکن ہم کالم نویسوں کو ایسی سہولت اور آسانی میسر نہیں کہ ایک در سے خیر نہ ملی تو دوسرے در پر جا دستک دی۔ سو ہم ایک ہی سنگِ آستاں پر روز سر پھوڑتے ہیں اور اگلے روز پھر اسی در پر بیکار میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ ہم ناکام تو ہوتے ہیں مگر شکر ہے کہ ناامید نہیں ہوتے۔ بقول فیض:
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے؍ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
سو ہم قلم گھسیٹنے والے آج لکھتے ہیں اور یہ دیکھنے کے باوجود کہ اس پر کوئی عمل نہیں ہوا کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی‘ اصحابِ اقتدار واختیار نے لکھے کو پرِکاہ کی حیثیت نہیں دی کل دوبارہ اسی جذبے کے ساتھ لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ پڑھے کو حیثیت نہ دینے سے خیال آیا کہ لکھے کو حیثیت دینے کا امکان تو تب پیدا ہوتا ہے اگر کسی نے پڑھا ہو‘ لاپروائی‘ لاعلمی اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ جنہیں پڑھنا چاہیے وہ ایسی چیزیں سرے سے پڑھتے ہی نہیں اور جب پڑھا ہی نہیں تو کسی نے اس پر خاک عمل کرنا یا ایکشن لینا ہے۔ لیکن کیا اس بات پر لکھنے والا اپنا کام چھوڑ دے؟ ہم سے تو ہمارے کام کے بارے میں سوال ہوگا۔ ہمارے لکھے پر خرابی سدھارنے اور درستی کرنے یا نہ کرنے کا سوال انہی سے ہوگا جو اس کام کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ان کے ذمے ہے جنہیں مالکِ کائنات نے کچھ ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ اب وہ جانیں اور ان کا کام‘ ہم تو اپنا کام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ایسے موقعوں پر ہمیں اپنے بہت پیارے دوست کنور اعجاز راجہ کی ایک مرصع غزل یاد آ جاتی ہے۔ سب دھندوں کو چھوڑیں پہلے غزل سے لطف لیں۔
اپنی خواہش میں جو بس گئے ہیں وہ دیوار و در چھوڑ دیں؍ دھوپ آنکھوں میں چبھنے لگی ہے تو کیا ہم سفر چھوڑ دیں؍ دست بردار ہو جائیں فریاد سے اور بغاوت کریں؍ کیا سوالی تیرے قصرِ انصاف زنجیرِ در چھوڑ دیں؍ جب لعابِ دہن اپنا تریاق ہے دست و بازو بھی ہیں؍ سانپ گلیوں میں لہرا رہے ہیں تو کیا ہم نگر چھوڑ دیں؍ شہر یاروں سے ڈر جائیں‘ ہم حق پرستی سے توبہ کریں؍ اپنے اندر بھی اک آدمی ہے اسے ہم کدھر چھوڑ دیں؍ ہم نے دیکھا ہے دریاؤں کا رُخ کنور شہر کی سمت ہے؍ شہر والے اگر بے خبر ہیں تو کیا بے خبر چھوڑ دیں
ایک طرف ہم جیسے لکھنے والے معترض ہیں تو دوسری طرف سرکار نے ہر بگڑے ہوئے کام کا حل یہ نکالا ہے کہ خرابی کی درستی کے بجائے خرابی کا باعث بننے والا ادارہ‘ محکمہ یا شعبہ سرے سے بند کر دیا جائے یا پرائیویٹائز کر کے جان چھڑوا لی جائے۔ تعلیمی ادارے‘ ہسپتال اور صفائی ستھرائی‘ سب پرائیویٹائز ہو رہے ہیں۔ ہر خرابی کا حل یہ نکالا ہے کہ خرابی کو ٹھیک کرنے کے بجائے خرابی کا بیج ہی مار دیا جائے تاکہ نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔
یہ عاجز کپاس کی بربادی اور کسمپرسی پر بارہا لکھ چکا ہے۔ سالانہ ایک کروڑ 50 لاکھ گانٹھ پیدا کرنے والے ملک کی پیداوار گھٹتے گھٹتے 50 لاکھ گانٹھ سے نیچے جا چکی ہے اور صورتحال کسی قسم کی بہتری کے بجائے مزید تنزلی کی طرف رواں دواں ہے۔ محکمہ زراعت کے اربابِ اختیار کے دعوے اپنی جگہ لیکن صورتحال یہ ہے کہ بہاولنگر‘ چولستان‘ سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں کے علاوہ کپاس کا مستقبل تاریک اور معاملہ تقریباً صاف ہو چکا ہے اور اس کی بنیادی وجوہات حکومتی کارکردگی‘ توجہ‘ مدد اور نگرانی سے چشم پوشی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کپاس کی فصل بارے تحقیق کرنے والے زرعی تحقیقاتی ادارے نہ تو ترقی دادہ نئے بیج ایجاد کر سکے اور نہ ہی وائرس کا کوئی حل نکال سکے۔ ضرورت تھی کہ زرعی سائنسدان کم وقت میں تیار ہونے والی کپاس کی ورائٹیاں متعارف کراتے‘ زیادہ حدت برداشت کرنے والی کپاس کی شروعات کرتے اور کم پانی سے اُگنے والی فصل کا اہتمام کرتے‘ لیکن یہ خود غرض اور لالچی زرعی سائنسدان کچی پکی اور دوسرے ممالک سے چوری شدہ میٹریل سے تیار کردہ اپنی نام نہاد ورائٹیاں بلیک میں بیچ کر نوٹ کماتے رہے اور کپاس کی فصل کا دھڑن تختہ ہو گیا۔
سرکار کا کام تھا کہ زرعی سائنسدانوں کی کارکردگی کو مانیٹر کرتی‘ اُن کی تحقیق کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے مستقبل کا تعین کرتی۔ اپنے زرعی تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھتی‘ ان کے تحقیقاتی کام کی بنیاد پر ان کیلئے فنڈز مختص کرتی‘ ان کو تحقیقی کاموں کے ٹارگٹ دیتی اور ان کے نتائج کے حوالے سے جزا یا سزا کا میکانزم بناتی‘ مگر سائنسدان موج میلہ کرتے رہے‘ ادارے نالائقی کا نمونہ اور بے عملی کا گڑھ بن گئے جبکہ سرکار ستو پی کر سوئی رہی۔ ایسے تمام اداروں کی بربادی کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ جب بربادی مکمل ہو گئی اور خرابی ناقابلِ اصلاح حد تک تنزلی کی آخری گہرائی پر پہنچ گئی تو سرکار نے اداروں سے ہی جان چھڑانے کی ٹھان لی۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بہت سے ادارے تو صوبائی حکومتوں کے حوالے کر دیے گئے جن کے پاس ان اداروں کو چلانے کیلئے نہ تو مہارت ہی میسر تھی‘ نہ ان کو چلانے کیلئے پیسے تھے اور نہ ہی ان کو درست کرنے کا کوئی ارادہ یا نیت تھی۔ ایسے میں زرعی تحقیق کا کیا حشر ہونا تھا اس کے بارے میں زیادہ سوچنے اور تردد کرنے کی ضرورت نہیں۔ جہاں وفاقی حکومت نے زیادہ تر ایسے اداروں کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کے اپنا بوجھ ہلکا کیا وہیں باقی ماندہ بچے کھچے اداروں میں بیج پر تحقیق کرنے کے بجائے ان کا ہی بیج مارنے کا منصوبہ بنایا اور انہیں پوری طرح غیر فعال اور سفید ہاتھی بننے کی کھلی چھوٹ دے دی تاکہ جب ان کا بوریا بستر لپیٹا جائے تو کسی کے پاس ان کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز بھی موجود نہ ہو۔ملتان میں سینٹر ل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام یکم جولائی 1970ء کو عمل میں آیا۔ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کے زیرانتظام سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ پاکستان میں مکمل طور پر صرف کپاس کی تحقیق کیلئے وجود میں آنے والا پہلا ادارہ تھا۔ یہاں کپاس کے بہت سے متعلقہ شعبوں میں بہت قابلِ ذکر کام بھی ہوا اور اٹھائیس کے لگ بھگ نئے بیج بھی ایجاد ہوئے تاہم آہستہ آہستہ دیگر سرکاری اداروں طرح اسے بھی کرپشن‘ نااہلی‘ نالائقی اور آرام طلبی کی دیمک نے کھوکھلا کر دیا۔ اس طرح تحقیقی میدان میں شاندار کارکردگی کا حامل یہ ادارہ سفید ہاتھی بن گیا۔ یہی حال اس کے سرپرست ادارے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کا ہوا۔ سرکار نے اسے فعال کرنے‘ متحرک بنانے اور نتائج دینے والا ادارہ بنانے کے بجائے اس سے جان چھڑانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
ملتان میں 116 ایکڑ پر مشتمل کپاس کے اس قدیمی ادارے کیساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اس کی 15 ایکڑ زمین پر جمخانہ بنانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ میں اس پروجیکٹ پر تنقید کسی منفی ذہنیت کے تحت نہیں کر رہا کہ میں ذاتی طور پر ملتان میں جمخانہ ٹائپ کسی اچھے سول کلب کا نہ صرف حامی ہوں بلکہ اسکے اولین محرکین میں سے ہوں‘ لیکن ریسرچ کے برباد شدہ ادارے کو بامقصد بنانے کے بجائے اسکی بندر بانٹ کے خلاف ہوں۔ جمخانہ کہیں اور بن سکتا ہے مگر یہ ادارہ مٹ گیا تو دوبارہ نہیں بنے گا۔ ایک بار پندرہ ایکڑ پر جمخانہ بننے دیں پھر دیکھیں کہ بقیہ 101ایکڑ کو شکرے کس طرح شکار کرتے ہیں۔ یہ پندرہ ایکڑ اس سلسلے کی پہلی کڑی ثابت ہوں گے۔ ایک اینٹ نکل جائے تو پھر باقی ساری دیوار چند ہی دنوں میں وجود سے عدم کا سفر طے کر لیتی ہے۔ 116ایکڑ پر مشتمل ایک زرعی تحقیقاتی ادارے کے حوالے سے یہ عاجز تو اس پہلی اینٹ کو اکھڑنے سے بچانے کی سعی کر رہا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved