جس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہ ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے‘ لہٰذا جس نے بھی کہا ہے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ کوئی دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ ہم نے اپنا بہت کچھ خود ہی بگاڑ لیا ہے۔ ہم آئی ایم ایف کے رحم وکرم پر ہیں اور قرض لینے کے لیے اس کا ہر جائز وناجائز مطالبہ اور شرطیں مان رہے ہیں۔ حکمرانوں کی بے حسی کے باعث پاکستان کے غریب عوام اس وقت مہنگائی کی چکی میں پس رہے۔ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے‘ اس لیے کوئی دشمن ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا کیونکہ اس ملک کے غریب عوام کے پاس کھانے کو روٹی ہے نہ پہننے کے لیے کپڑا اور نہ ہی سر چھپانے کے لیے مکان ہے۔ یہ وہ بنیادی ضرریاتِ زندگی ہیں جن سے پاکستان کے 25میں سے 18کروڑ عوام محروم ہیں۔ لاہور جیسے ترقی یافتہ میٹرو پولیٹن سٹی میں روزانہ لاکھوں افراد بھیک مانگ کر کھانا کھاتے ہیں۔ اقبال ساجد نے اس امر کی عکاسی کچھ یوں کی ہے: آج کے دن بھی مرا رزق نہ مجھ پر اُترا ؍ آج کے دن بھی پڑوسی مرے رازق ٹھہرے۔
لاہور میں آج بھی ہزاروں بے گھر افراد پارکوں‘ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں اور ان میں سے اکثر کے پاس اپنا پورا بدن ڈھانپنے کیلئے کپڑے بھی نہیں ہیں؛ البتہ اسی عالم میں مرنے کے بعد انہیں کفن کی صورت میں کسی رفاہی ادارے کی طرف سے فراہم کردہ کورے لٹھے کا لباس اور قبر کی صورت میں مستقل مکان مل جاتا ہے۔ تفریق کا یہ سفر مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ بقول شاعر: رہا تفریق کا سفر جاری بعد از مرگ بھی محسن ؍ نہ قبریں ایک جیسی ہیں نہ کتبے ایک جیسے ہیں۔
مقتدر طبقات کے ہاتھوں ملک کے حالات کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہر طرف گہری مایوسی اور بے بسی ہے۔ زندگی میں غریب آدمی کی اب کوئی امید پوری نہیں ہوتی اور کوئی راستہ یا حل نظر نہیں آتا جو عام آدمی کے دکھوں کو کم کر سکے۔ جب ہر طرف تاریکی اور مایوسی ہوتی ہے تو ہر مسئلے یا ضرورت کا حل ناممکن لگتا ہے۔ شرمناک مہنگائی میں غریب آدمی کو مر مر کر زندہ رہنا پڑ رہا ہے۔ اس کا دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہو چکی ہے۔ لیکن بے حس حکمرانوں کو بالکل بھی اس کا خیال نہیں آتا۔ بقول غالب:کوئی امید بر نہیں آتی ؍ کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
سولر کی صورت میں سورج کی روشنی کے بعد اور اب 'پانی پر ٹیکس‘ لگنے جا رہا ہے۔ اگلا مرحلہ سانس پر ٹیکس ہوگا؟ اگر آپ گھر کے اندر بھی استعمال کیلئے زیر زمین پانی نکالنا چاہتے ہیں تو حکومت کو ٹیکس دینا ہو گا۔ موٹر آپ کی‘ بجلی آپ کی‘ بور آپ کا‘ سارا خرچہ آپ کا اور اس پر بھی کئی قسم کے ٹیکس جبکہ الگ سے پانی پر ٹیکس بھی دینا ہو گا۔ یعنی اب حکومت نے غریب عوام کو پیاسا رکھ کر مارنے کا پلان بنا لیا ہے۔ حکومت خود پانی نہیں دے گی اور زمین سے پانی نکالنے کی اجازت کی صورت میں ٹیکس لے گی۔ روشنی کے بعد پانی پر ٹیکس۔ اب اگلے مرحلے میں شاید سانس پر بھی ٹیکس لگایا جائے گا لہٰذا زندہ رہنا ہے تو سورج کی روشنی‘ ہوا اور پانی پر بھی ٹیکس دینا ہو گا۔
ہر تل پہ ہر رخسار پہ بھی ٹیکس لگے گا ؍ اب وصل کے اصرار پہ بھی ٹیکس لگے گا؍ بھر جائے گا اب قومی خزانہ یہ ہے امکاں؍ ہر عشق کے بیمار پہ بھی ٹیکس لگے گا؍ اب باغ کی رونق کو بڑھائے گا بھلا کون؍ ہر پھول پہ ہر خار پہ بھی ٹیکس لگے گا
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اشرافیہ کی چرا گاہ اور اس ملک کے غریب عوام ان کا پسندیدہ چارہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومت اپنی نالائقی‘ عیاشی اور لوٹ مار کو عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بہانوں کے پیچھے چھپا رہی ہے‘ لیکن ایسا ممکن نہیں۔ یہ صرف ایک بہت بڑی اور منظم واردات کے حقائق چھپانے کی کوشش ہے کہ حکومت کاکوئی قصور نہیں‘ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت سچ بول رہی ہے‘ یا یہاں بھی عوام سے ہاتھ کیا جا رہا ہے؟ درحقیقت حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو کمائی کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے‘ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ عالمی سطح پر مہنگائی نہیں‘ اگر ایسا ہوتا تو پورے ایشیا میں سب سے زیادہ مہنگا پٹرول پاکستان میں ہی کیوں ہوتا؟ ہم تو آبنائے ہرمز کے بالکل دروازے پر بیٹھے ہیں‘ پوری دنیا کیلئے بند ہونے والی آبنائے ہرمز پاکستان کیلئے تو ایک روز بھی بند نہیں ہوئی۔ جو ممالک یہاں سے ہزاروں کلومیٹر دور ہیں‘ جہاں تک آئل ٹینکر پہنچانے میں ان کا پاکستان سے بہت زیادہ خرچ آتا ہے‘ ان میں بھی پٹرول اتنا مہنگا نہیں۔ بھارت‘ بنگلہ دیش اور حتیٰ کہ ڈیفالٹ کر جانے والے ملک سری لنکا میں بھی پٹرول پاکستان کی نسبت سستا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پٹرول تقریباً 417 روپے فی لٹر ہے‘ پٹرول پر فی لٹر 200 روپے کے صرف ٹیکسز عائد ہیں‘ ٹیکسز کے بغیر پٹرول کی قیمت صرف 215 روپے بنتی ہے‘ پٹرول کی قیمت میں پریمیم‘ لیوی ٹیکس‘ کسٹم ڈیوٹی‘ تیل کمپنیوں کا منافع‘ ڈسٹری بیوشن مارجن‘ فریٹ مارجن اورکلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔ یہی حال ڈیزل کا ہے۔ یہ ہے وہ اصل واردات جس نے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے‘ اور یہ براہِ راست حکومت کی ناکامی کی عملی مثال ہے۔ حکومت کو سال بھر سرکاری ادارے چلانے اور سود کی قسطیں ادا کرنے کیلئے جو ہزاروں ارب روپے درکار ہوتے ہیں ان کو اکٹھا کرنا ایف بی آر کا کام ہے۔ ایف بی آر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑے بڑے مگرمچھوں سے ٹیکس اکٹھا کرے جس سے حکومتی خرچے پورے کیے جا سکیں۔ لیکن یہ اربوں روپے کمانے والوں کو ٹیکس چوری کروا دیتے ہیں اور سارا بوجھ ان غریبوں پر ڈال دیا جاتا ہے جن سے ٹیکس لینا ریاست کیلئے جائز ہی نہیں۔ جن بیچارے غریبوں کو سہارا دے کر غربت سے نکالنا ریاست کی ذمہ داری ہے ریاست الٹا اُن سے پٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ٹیکس وصولیاں کر رہی ہے اور وہ روز بروز خطِ غربت کی لکیر کے نیچے دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ اگر ٹیکس اسی طرح بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں ہی ڈال کر لینا ہے تو پھر ایف بی آر کی کیا ضرورت ہے؟ کم از کم ان کی عیاشیوں پراٹھنے والے اربوں روپے تو بچیں گے۔
ابھی میں نے آئی پی پیز کو دینے والے سالانہ دو ہزار ارب روپے کا ذکر نہیں کیا جو حکومت اشرافیہ‘ حکومت میں ہی بیٹھے مافیاز اور ان کے رشتے داروں کو بجلی بنائے بغیر ہی دے رہی ہے۔ آئی پی پیز کو لگام نہ ڈالی گئی تو یہ خدانخواستہ ملک کو لے ڈوبیں گے۔ ابھی ان 500 ارب روپے کا کوئی ذکر نہیں‘ جو چند درجن شوگر ملز مالکان نے چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے غریب عوام کی جیبوں سے نکالے۔ ابھی ان 300 ارب روپے کا ذکر بھی نہیں‘ چند گھی ملز مالکان نے پوری دنیا میں سویا بین سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں گھی کی قیمتیں کم نہ کرکے غریبوں کی جیبوں سے نکالے ہیں۔ ابھی ان 17 ارب ڈالرز کا بھی ذکر نہیں‘ جو آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا حکمران طبقہ اپنی مراعات پر لگا دیتا ہے۔ ان وارداتوں پر کوئی نہیں بولے گا۔ کوئی ہزاروں ارب روپے کے یہ سرکاری خرچے کم نہیں کروائے گا۔ حکمرانوں کو تازیانہ برسانے کیلئے فقط غریب کی ننگی کمر ہی نظر آتی ہے جو پہلے ہی مرا ہوا ہے‘ جس کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں‘ جس کے بچوں کے تن پر کپڑے نہیں‘ جس کے بچے سکول نہیں جا سکتے ہیں‘ جن کے گھر مریض کو دینے لیے دوا تک نہیں۔ اور جن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved