جوانی کا ایک منظر ہے جو کبھی ذہن سے فراموش نہیں ہوا۔ لارنس کالج کے ماحول سے نکلے تو کوئی آدھا سال گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم رہے۔ لاہور کے مال پر وائے ایم سی اے ہاسٹل اُس زمانے میں بڑا اچھا سمجھا جاتا تھا۔ قیام وہاں تھا اور شام کو الفلاح کی طرف سیر کرنے نکلتے۔ لاہور کا ماحول اُن دنوں مختلف ہوتا تھا۔ مال پر بڑے خوبصورت کیفے اور ریستوران ہوا کرتے تھے اور شام کی چائے کے وقت یہ سارے کیفے بھرے پڑے ہوتے۔ کیا لارڈز کیا شیزان‘ کیا انڈس اور گارڈینیا‘ کافی ہاؤس‘ ٹی ہاؤس وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے ان میں کہاں جانا ہوتا‘ جیب کی کیفیت واجبی سی ہوتی تھی اور یقینا اتنی نہیں کہ شیزان میں چائے پینے چلے جاتے۔ جسے لاہور کی آپ جینٹری کہہ سکتے ہیں وہ اُس وقت ان چائے خانوں میں موجود ہوتی تھی۔
شام ڈھلنے کا وقت آتا تو چائے کے میز خالی ہونے لگتے اور یہی جینٹری کے لوگ اپنے اپنے شب کدوں کی طرف چل نکلتے‘ یعنی چائے کی رونق شب کدوں میں منتقل ہو جاتی۔ یہ مقامات‘ جن کا تعلق شب ڈھلنے کی کارروائیوں سے منسلک ہوتا تھا‘ ان کا ایک اپنا ٹائم ہوتا اور جب وہ ٹائم نزدیک آنے لگتا تو ان میں سے بہت ایسے ہوتے جو تانگہ یا ٹیکسی پر شاہی قلعے کے عقبی محلے کا رخ کرتے۔ کشش کس نوعیت کی تھی اس سوال کا جواب قارئین خود ہی دے سکتے ہیں۔ جہاں تک اپنا تعلق ہے اگر چائے کے پیسے نہ ہوتے تو کسی اور کشش کے کیا ہونے تھے۔
شروع میں جس منظر کا ذکر کیا وہ یہ تھا کہ فٹ پاتھ پر لارڈز ریستوران سے کچھ آگے ایک پرانی سفید رنگ کی کیڈیلک گاڑی کھڑی ہوتی۔ یہ بڑی مہنگی امریکی گاڑی تھی لیکن اس کی ظاہری صورت سے پتا چلتا تھا کہ دھلائی وغیرہ کے کسی انتظام سے یہ گاڑی عموماً مستثنیٰ ہی رہتی۔ ایک دو بار البتہ صاحبِ گاڑی نظر آئے‘ اونچے قد کے‘ متاثر کن شخصیت کے مالک اور ہمیشہ ڈبل برسٹڈ سوٹ میں ملبوس۔ ڈرائیور کوئی نہ ہوتا اور خود ہی گاڑی کے ویل کے پیچھے بیٹھتے اور پھر کہیں چل دیتے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا کہ صاحبِ گاڑی کا مسکن کہیں قریب ہی تھا‘ یہ بھی ظاہر ہوتا کہ سارا دن مسکن پر ہی رہتے اور اُن کے نکلنے کا ٹائم وہی شب کا وقت ہوتا جب شب کدوں کی رونق بننے لگتی۔ میں اکیلا وہاں سے گزرتا اور اُس گاڑی اور صاحبِ گاڑی کو دیکھ کر خیالات کی دنیا میں گم ہو جاتا کہ پتا نہیں یہ صاحب فلیٹیز جا رہے ہیں یا اِنٹرکانٹی نینٹل۔ وہاں پتا نہیں کون ان کے دوست ہوں گے‘ کوئی انتظار ان کا کر رہا ہوگا یا نہیں۔ 60سال ہوئے ہیں اس تصویر کو دیکھے اور اب بھی یوں لگتا ہے وہ منظر سامنے ہے۔
وجہ جو بھی ہو گورنمنٹ کالج ٹھہر نہ سکے اور بغیر امتحان دیے چکوال لوٹ آئے جو کہ وقت نے ثابت کیا بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ ڈگری ہاتھ میں تھی نہیں اور سرٹیفکیٹ صرف سینئر کیمبرج کا تھا تو سوائے فوج کے کسی اور دروازے پر دستک دینا محال تھا۔ لہٰذا سال بعد عمر پوری ہوئی تو کاکول کے لیے درخواست دے دی اور یوں نہ چاہتے ہوئے فوج کی افسری کے لیے تیار ہو گئے۔ کتنا اس شعبے میں جی لگا وہ الگ کہانی ہے‘ بس جو عرصہ تھا جیسے ہو سکا گزارا۔ ہم ماحول سے تنگ ہمارے کمانڈنگ آفیسر ہم سے تنگ۔ شکر کیا جب باہر نکلنے کا کوئی راستہ نصیب ہوا۔ بہرحال صاحبِ گاڑی کا ذکر اس لیے کہ ذہن کے کسی کونے میں یہ خیال ہمیشہ رہا کہ بڑی عمر کے ہوں گے تو شام گزارنے کا یہی طریقہ اچھا لگے گا۔ شب کے سائے دراز ہوں اور نہا دھو کے اچھے کپڑے پہن کر مال کے ہی کسی فلیٹ سے ہم نمودار ہوں‘ نئی گاڑی نہیں ایک پرانی گاڑی سہی لیکن جس نے اچھے دن دیکھے ہوں ہماری منتظر ہو۔ بیٹھیں اور پاس ہی کسی شب کدے پہنچ جائیں جہاں سب کو پتا ہو ہمارا میز کون سا ہے۔ خدمتگاروں کو ہماری پسند بھی پتا ہو اور بغیر پوچھے ہماری پسند سامنے آ جائے۔ یہ ساری منظر کشی اُن صاحبِ گاڑی اور اُن کی کیڈیلک کی وجہ سے۔ لیکن زمانے کا تغیر دیکھیے کہ نہ وہ مال رہا نہ اُس کی دل نشینیاں۔ سڑک تو ہے لیکن اُس کا حلیہ بگڑ چکا ہے اور جو اُس کی روح تھی‘ یا یوں کہیے مال کی جو ادائیں ہوتی تھیں‘ وہ سب کچھ غائب ہو چکا ہے۔ اُس قسم کے لو گ بھی کم نظر آتے ہیں‘ کیفے اور ریستوران وہاں کوئی رہا نہیں اور وہ نہ رہے تو شب کدوں کی جگہیں کہاں رہنی تھیں۔ یعنی ہمارا وقت آیا تو مملکت کی ہوائیں بدل گئیں‘ ماحول بدل گیا‘ آوازیں مختلف ہو گئیں۔
یہی وجہ ہے کہ لاہور جانا بہت کم ہو گیا ہے۔ جائیں بھی تو کیا جھک ماریں گے۔ پبلک جگہیں تو رہی نہیں جہاں آدمی شب کا کچھ وقت گزار سکے۔ معمول کہاں بدلتے ہیں لیکن سب کچھ جب اندر چلا گیا ہو‘ یعنی باپردہ ہو گیا ہو‘ تو کون سے دوستوں کی تلاش رہے کہ دعوت ملے اور کسی کونے میں کہیں بیٹھا جائے۔ ویسے بھی زیادہ سوٹڈ بوٹڈ محفل کبھی پسند نہیں رہی۔ جگہ ایسی ہو جہاں مرضی سے جا سکیں‘ فنِ ثقافت کا کچھ مظاہرہ ہو جائے جیسا کہ بھلے وقتوں میں لاہور اور دیگر شہروں میں ہوا کرتا تھا تو سونے پہ سہاگہ۔ شاہی قلعہ کی جانب جانے والا راستہ اور اُس کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ رونقیں اُن علاقوں کی کب کی گئیں۔ پاکستانی شعور کا انوکھا انداز ہے کہ کہیں بہت تیر چلانا ہو تو ایک فوڈ سٹریٹ کا اعلان ہو جاتا ہے۔ بادشاہی مسجد کے قریب بھی ایک فوڈ سٹریٹ قائم ہو چکی ہے۔ کڑاہیوں پر حملہ کرنا مقصود ہو تو وہاں کوئی شریف آدمی چلا جائے۔ لیکن لاہور میں اس سوال کا اب تک خاطر خواہ جواب نہیں مل ہو سکا کہ انسان کتنا کھا سکتا ہے اور ہفتے میں کتنی بار ان فوڈ سٹریٹوں کا درشن ہو سکتا ہے۔
لاہور کی نسبت اسلام آباد ہمیں زیادہ قریب پڑتا ہے‘ دنیا کا واحد دارالحکومت جو اپنی خوبصورتی‘ کچھ اصلی کچھ فرضی‘ کا خود اقرار کرتا ہے... اسلام آباد دی بیوٹیفُل۔ دنیا کے کسی اور کونے میں ایسی خود پسندی کی مثال شاید نہ ملے۔ لیکن وہاں جنہیں پوش سیکٹر کہا جاتا ہے وہاں کیفے اور چائے خانے بہت کھل چکے ہیں۔ البتہ ہمیں اتنی عمر گزرنے کے بعد بھی یہ سلیقہ نہیں آیا کہ پوری شام محض چائے یا کافی پہ کیسے گزاری جائے۔ جب اسلام آباد کے مکین تھے پارٹیوں وغیرہ میں جایا کرتے تھے لیکن عمر اور تھی اب اتنا تردد ہوتا نہیں۔ اس لیے زیادہ شامیں ہماری چکوال یا بھگوال میں ہی گزرتی ہیں۔ اور سچ پوچھیے کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا کہ ہائے لاہور نہیں جا سکے‘ اسلام آباد کی روشنیوں سے محروم ہیں۔ کچھ کتابیں کچھ پرانے گانے کچھ موسیقی اور اِن چیزوں سے کام صحیح چل جاتا ہے۔
قوم کی معماری کے خواب کب کے ترک ہو چکے۔ اب احساس ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں یہاں کسی معجزے نے رونما نہیں ہونا۔ حالات جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ یوں بھی مجموعی کار گزاری اُس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ کسی قسم کی امید لگانا بے وقوفوں کا کام لگتا ہے۔ کچھ کتب بینی ہو جاتی ہے‘ کچھ کالم نویسی اور مولا کی مہربانی اتنی ہے کہ شامیں خالی محسوس نہیں ہوتیں۔ رنگِ کائنات میں بہت کچھ ہے‘ یہ تو اپنے پہ منحصر ہے کہ زندگی کو کن رنگوں سے سجایا جائے۔ البتہ وہ کیڈیلک والا منظر یاد کبھی ضرور آتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved