تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     17-05-2026

اندرا گاندھی اور وزیراعظم ہاؤس کی ایمبولنس

روز کوشش ہوتی ہے کہ سونے سے پہلے کچھ دیر کسی کتاب کا مطالعہ ضرور کیا جائے۔ کبھی نئی کتاب‘ کبھی پرانی۔ چند صفحات پڑھتے ہی نیند آنکھوں پر اُترنے لگتی ہے۔ پرانی کتابوں کی اپنی ایک مہک‘ اپنا ذائقہ اور الگ ہی لذت ہوتی ہے۔ ان کے صفحات میں کئی زمانوں کی کہانیاں اور قصے چھپے ہوتے ہیں اسی لیے مجھے ایسی کتابیں بہت پسند ہیں۔
کچھ دن پہلے پرانی کتابوں کی ایک دکان سے بی بی سی کے دو معروف صحافیوں مارک ٹلی اور ستیش جیکب کی لکھی ہوئی ایک کتاب ہاتھ لگی جو انہوں نے اندرا گاندھی کے گولڈن ٹیمپل آپریشن اور قتل کے بعد اگست 1985ء میں لکھی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کے حقوق پاکستان میں آرمی ایجوکیشن پریس نے حاصل کیے اور اسے لاہور کے مال روڈ پر واقع ایک مشہور بُک سیلر سے شائع کروایا۔ یہ جنرل ضیا الحق کا دور تھا اور پاکستان کی جانب سے اس کتاب میں دلچسپی ظاہر کرنا بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ امر ہے۔ یہ کتاب اندرا گاندھی کے قتل کے ایک سال کے اندر اندر شائع ہو گئی تھی۔ بی بی سی کے یہ دونوں نام پاکستان میں تقریباً ہر اُس گھر میں پہچانے جاتے تھے جہاں ریڈیو موجود تھا۔ مارشل لاء کے دور میں عوام خبریں سننے کیلئے رات آٹھ یا دس بجے کا بی بی سی کا نیوز بلیٹن سنتے تھے۔ مارک ٹلی کا نام تو خاص طور پر بہت مشہور تھا۔ چاہے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی احتجاجی تحریک کی رپورٹنگ ہو‘ بھٹو صاحب کو دی جانے والی پھانسی کی خبر ہو یا پھر جنرل ضیا کے دور میں پریس پر عائد پابندیاں‘ پاکستانی عوام مارک ٹلی کی ساکھ پر یقین رکھتے تھے۔ مارک ٹلی اس قدر معروف ہو چکے تھے کہ اگر کوئی شخص بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا تو لوگ ہنستے ہوئے کہتے: ''اوئے تُوں مارک ٹلی لگا ایں‘‘۔
اب اس میں دلچسپ پہلو یہ دیکھیے کہ جس جنرل ضیا نے بھٹو صاحب کی جیل میں لکھی گئی کتاب ''اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘ پاکستان میں شائع نہیں ہونے دی‘ اسی جنرل ضیا کے دور میں اندرا گاندھی کے قتل پر لکھی گئی کتاب پورے اہتمام کے ساتھ پاکستان میں چھاپی گئی۔ بھٹو صاحب کی کتاب بھی پہلی مرتبہ بھارت میں شائع ہوئی تھی اور جس طرح اس کا مسودہ جیل کی کوٹھری سے باہر نکلا‘ وہ اپنی جگہ ایک الگ داستان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب کے دوست‘ ڈینٹسٹ ڈاکٹر ظفر نیازی ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس جیل سے چھپا کر باہر لاتے تھے۔ بعد میں ظفر نیازی کو بھی بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیا کے دور میں شدید مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ عرصہ انہیں پاکستان سے باہر بھی رہنا پڑا۔ ظفر نیازی سے میری زندگی میں صرف ایک ہی ملاقات ہوئی تھی اس وقت جب میں اسلام آباد میں ایک انگریزی اخبار میں رپورٹر تھا۔ ایک روز ہمارے مرحوم بیوروچیف ضیا الدین صاحب نے مجھے میانوالی بھیجا جہاں ڈاکٹر نیازی نے مقامی بچوں کیلئے ایک بہت اعلیٰ سکول قائم کیا تھا۔ ان کی بیٹی نے بتایا تھا کہ میانوالی کے لوگ اکثر ان کے والد کے پاس مدد کیلئے آتے تھے۔ اس پر انہوں نے سوچا کہ وہ آخر کتنے لوگوں کی مالی مدد کر سکتے ہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ وہاں ایک اچھا سکول قائم کردیا جائے تاکہ نئی نسل تعلیم حاصل کرکے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے اور انہیں کسی کے سامنے مدد کیلئے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں۔ زندگی میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ صرف ایک مرتبہ ملتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کا تاثر عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔ میں بھی ڈاکٹر نیازی سے صرف ایک بار ملا۔ ان کی وفات کو بیس بائیس برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر ان کی میٹھی‘ خوشگوار اور خوبصورت شخصیت کا تاثر آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔
خیر‘ بات کتاب کی ہو رہی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب اندرا گاندھی کے دور میں بھارت میں شائع ہوئی اور بعد ازاں جنرل ضیا کے دور میں اندرا کے قتل پر کتاب پاکستان میں چھپی۔ غالباً جنرل ضیا کے ذہن میں یہی خیال ہو گا کہ اگر بھارت بھٹو کی کتاب سمگل کرکے شائع کرسکتا ہے تو پاکستان بھی اندرا گاندھی کے قتل پر لکھی گئی کتاب شائع کر سکتا ہے‘ جو بی بی سی کے انہی نمائندوں نے لکھی تھی جن کی خبریں پاکستانی حکمرانوں کو اکثر ناگوار گزرتی تھیں۔ اس کتاب میں بہت کچھ ہے۔ یہ بھی کہ اندرا گاندھی کس طرح قتل ہوئیں اور قتل سے پہلے شاید اُن کی جبلت انہیں خبردار کر چکی تھی کہ ان کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ بینظیر بھٹو کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی شہادت سے پہلے اکثر کہا کرتی تھیں کہ ایک دن انہیں قتل کردیا جائے گا۔ اندرا گاندھی نے بھی اپنی موت سے ایک رات پہلے اوڈیسہ کے جلسے میں کہا تھا کہ ''میں اس بات پر پریشان نہیں ہوں کہ میں زندہ رہتی ہوں یا نہیں۔ جب تک میرے اندر سانس ہے میں آپ لوگوں کی خدمتگار رہوں گی۔ اور جب بھی مروں گی میرے خون کا ہر قطرہ بھارت کو طاقت اور اتحاد دے گا‘‘۔
اندرا گاندھی کے نئی دہلی جلد واپس آنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گرینڈ چلڈرن کی گاڑی کا حادثہ ہوگیا تھا۔ گولڈن ٹیمپل آپریشن کے بعد پورے گاندھی خاندان کو دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں اور مسز گاندھی کو خدشہ تھا کہ یہ حادثہ دراصل ان کے پوتے پوتیوں پر حملہ تھا۔ اندرا گاندھی سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ انتہائی سادہ ساڑھی پہنتی تھیں۔ وزیراعظم ہاؤس بھی برطانوی دور کی سادگی کا عکس تھا۔ ایک سفید رنگ کا سادہ سا گھر‘ جو انگریزوں نے کلکتہ سے دہلی دارالحکومت منتقلی کے وقت تعمیر کیا تھا۔ اندرا کے پاس وسائل کی کمی نہ تھی لیکن وہ اپنے بیٹے راجیو گاندھی‘ بہو سونیا گاندھی اور ان کے دو بچوں کیساتھ سادہ انداز میں زندگی گزارتی تھیں۔ ان کی صبح کا آغاز ''درشن‘‘ سے ہوتا تھا جب بھارت کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مختلف گروپس خصوصاً غریب بچے ان سے ملاقات کرتے تھے۔ لیکن 31اکتوبر 1984ء کی اس صبح درشن نہیں تھا کیونکہ وہ اچانک اوڈیسہ سے نئی دہلی واپس آئی تھیں۔ وہ صبح سویرے ایک انٹرویو دینے کیلئے تیار ہو رہی تھیں۔ مسز گاندھی اپنے پرسنل اسسٹنٹ دھاون کے ساتھ تھیں۔ وہاں ڈیوٹی پر موجود سکھ سب انسپکٹر بیانت سنگھ کو دیکھ کر مسکرائیں۔ جیسے ہی وہ مسکرائیں بیانت سنگھ نے پستول نکالا اور اندرا گاندھی پر فائر کھول دیا۔ وہ زمین پر گریں تو دوسرے محافظ ستونت سنگھ نے اپنی سٹین گن کی پوری میگزین اندرا گاندھی پر خالی کردی۔ فائرنگ کے بعد اس نے اپنا واکی ٹاکی دیوار پر رکھا اور دونوں ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے کہا: ''جو میں نے کرنا تھا کر دیا ہے۔ اب جو آپ نے کرنا ہے کرلیں‘‘۔ اس نے گولڈن ٹیمپل پر حملے کا بدلہ لے لیا تھا۔
دونوں کو گرفتار کرلیا گیا لیکن وہاں موجود انڈین تبت بارڈر پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ ان کی تلخ کلامی شروع ہو گئی جو وزیراعظم ہاؤس کی بیرونی سکیورٹی پر مامور تھے۔ اسی دوران دونوں پر گولیاں چلادی گئیں۔ بیانت سنگھ موقع پر مارا گیا جبکہ ستونت سنگھ شدید زخمی ہوگیا۔ پھر اچانک سب کی توجہ اندرا گاندھی کی طرف گئی جو خون میں لت پت زمین پر پڑی تھیں۔ تب معلوم ہوا کہ وزیراعظم ہاؤس میں تو کوئی ایمبولینس ہی موجود نہیں تھی جو ایسی ایمرجنسی میں وزیراعظم یا کسی اور زخمی کو فوری ہسپتال پہنچا سکتی۔ وزیراعظم ہاؤس میں گولیوں کی آوازوں سے کہرام مچا ہوا تھا اور سب پریشان تھے کہ اب کیا کیا جائے۔ زخمی وزیراعظم کو ہسپتال کیسے لے جایا جائے جبکہ ان کا خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ اسی دوران گولیوں کی تڑتڑاہٹ سن کر وزیراعظم ہاؤس سے سونیا گاندھی باہر نکلیں۔ وہ دوڑتی ہوئی آئیں‘ اپنی زخمی ساس کو دیکھا اور پھر پرسنل اسسٹنٹ دھاون کی مدد سے انہیں ایک عام سی گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئیں جو وہاں سے تقریباً تین کلومیٹر دور تھا۔دہلی کی سڑکوں پر حسبِ معمول ہجوم اور ٹریفک رواں تھی۔ کسی کو علم نہیں تھا کہ ان کے ملک کی وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے اور اس ایمبسڈر گاڑی میں گولیوں سے چھلنی اندرا گاندھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں۔ گاڑی پوری رفتار سے ہسپتال کی طرف بڑھ رہی تھی۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved