تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     17-05-2026

خالی ہاتھ

منشی مرزا محمد رضا معجزؔ کا ایک معروف شعر یاد آ رہا ہے:
مہیا گرچہ سب اسباب ملکی اور مالی تھے
سکندر جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے
کچھ ایسی ہی صورتحال مجھے دورۂ چین کے بعد وطن واپس جاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محسوس ہوئی۔ سکندر کے دونوں ہاتھ دنیا سے جاتے ہوئے خالی تھے تو صدر ٹرمپ کے دونوں ہاتھ دورۂ چین سے واپس جاتے ہوئے خالی نظر آئے‘ حتیٰ کہ وہ صدر شی جن پنگ سے ٹیرف پر بھی بات نہیں کر سکے۔ گزشتہ برس اس معاملے پر دونوں ملکوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دونوں رہنماؤں کے مابین خاصی ٹھنی ہوئی تھی۔ الٹا صدر شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ پر یہ واضح کر دیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکہ تعلقات میں سب سے اہم ہے‘ اگر تائیوان کا مسئلہ درست طریقے سے نہ سنبھالا تو امریکہ اور چین کشیدگی کی طرف جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ صاحب کی شی جن پنگ سے ملاقات تو ہوئی لیکن وہ چینی صدر کے ساتھ معانقہ نہ کر سکے‘ ملاقات مصافحہ تک ہی محدود رہی۔
اگرچہ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے طور پر اس دورے کو کامیاب قرار دیا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ دورے سے پہلے اور دورے کے بعد کی صورتحال میں تبدیلی کیا واقع ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خلیج فارس میں واقع حساس آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ایران کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش پر اتفاق کیا اور توانائی کے آزادانہ بہاؤ کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ میرا خیال ہے کہ ملاقات سے پہلے بھی دونوں کا یہی مؤقف تھا۔ چین کبھی بھی آبنائے ہرمز کی بندش کے حق میں نہیں رہا حالانکہ ایران چینی جہازوں کو وہاں سے گزرنے دے رہا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ چین اور ایران کے قریبی اور گہرے تعلقات ہیں۔ بیجنگ کو تہران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے سبب اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین ایرانی تیل اپنی چھوٹی اور آزادانہ طور پر کام کرنے والی ریفائنریوں کے ذریعے درآمد کرتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ جاری جنگ میں ایران پر مالی اور معاشی دباؤ بڑھانے اور آمدنی کے ذرائع روکنے کے لیے ان آزاد قسم کی ریفائنریوں پر پابندیاں عائد کرتا رہتا ہے۔ دو ہفتے پہلے بھی امریکہ نے چین کی کئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ چین کی وزارتِ تجارت نے اس پر واضح کیا کہ وہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتی اس لیے چینی کمپنیوں اور اداروں کو بھی امریکی پابندیوں کو نہیں ماننا چاہیے‘ چینی حکومت ہمیشہ ان یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی آئی ہے جو اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر نہیں لگائی جاتیں۔
ڈی ڈبلیو نے لکھا ہے کہ جمعہ 15 مئی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے طیارے ایئر فورس وَن کے ذریعے واپس امریکہ کے لیے روانگی تک کسی نمایاں پیش رفت کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ دیگر ممکنہ معاہدوں کی صورتحال کے بارے میں بھی کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں‘ البتہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شاندار تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین نے بوئنگ کمپنی کے 200طیارے خریدنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے لیکن بیجنگ میں چینی وزارتِ خارجہ نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی اور صرف یہ کہا کہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کی بنیاد باہمی مفاد ہے۔
اگر کسی کو میری بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو ڈی ڈبلیو کی یہ رپورٹ پڑھنے کے بعد وہ سمجھ گیا ہو گا کہ میرا مدعا کیا ہے۔ وہ جو بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا لیکن جب اس کو چیرا گیا ہے تو اک قطرۂ خوں بھی اس میں سے برآمد نہیں ہوا ہے۔ دشمنی اور مخاصمت ایک دورے سے تو ختم نہیں ہوتی۔ پہلے آپ چین کو نیچا دکھانے کے لیے ٹیرف بڑھانے کا کھیل کھیلتے رہے اور اب آپ چاہتے ہیں کہ چین آپ کو ایرانی جنگ کی دلدل سے نکالے۔ اس کمبل سے جان چھڑائے جسے آپ تو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن کمبل اب آپ کو نہیں چھوڑ رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا خواب حقیقت نہ بننے کی کئی وجوہات ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی اور موجودہ صدارت کے دوران کئی بار یہ دعویٰ کیا کہ وہ چین کے ساتھ بہترین معاہدہ کریں گے اور تعلقات بہتر بنائیں گے لیکن عملی طور پر ان کی پالیسیاں دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافے کا سبب بنتی رہی ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی چین سے متعلق حکمت عملی تضادات کا شکار رہی‘ جس کی وجہ سے چینی قیادت ان سے خائف ہے۔ ٹرمپ نے چین پر تجارتی بے ضابطگیوں‘ امریکی مصنوعات کی نقل اور غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کے الزامات لگائے۔ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی اشیا پر اضافی ٹیکس نافذ کر دیے۔ اس تجارتی جنگ یا ٹیرف وار نے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو متاثر کیا بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی بے یقینی پیدا کر دی۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کار خوف کا شکار ہوئے اور عالمی تجارت میں سست روی مشاہدے میں آئی۔
امریکی حکومت مختلف حوالوں سے مسلسل چین پر دباؤ ڈالتی رہی جبکہ چین نے بھی اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ یوں معاملات کو درست نہج پر لانے کے لیے کی جانے والی سفارتی ملاقاتیں محض بیانات تک محدود رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں تسلسل کی کمی بھی اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایک طرف وہ چین کے صدر کی تعریف کرتے تھے اور دوسری جانب سخت بیانات جاری کرتے رہے۔ اس دوغلی حکمت عملی نے نہ صرف امریکی اتحادیوں کو پریشان کیا بلکہ چین کو یہ پیغام بھی دیا کہ واشنگٹن کی پالیسی غیر واضح ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے چین کو صرف معاشی حریف نہیں بلکہ سٹریٹجک خطرہ بھی قرار دیا تھا۔ جنوبی بحیرۂ چین‘ تائیوان اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات ہیں‘ بلکہ بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر چینی کمپنیوں پر پابندیاں اور ہواوے کے خلاف اقدامات نے کشیدگی میں اضافہ کیا۔ دونوں ملکوں کی ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ امریکی وفد نے چین کے دورے کے دوران الیکٹرانک جاسوسی‘ ڈیٹا چوری اور ہیکنگ کے خدشات کے پیشِ نظر چین کی جانب سے دیے جانے والے الیکٹرانک آلات وہیں چین میں چھوڑ دیے۔ ان آلات کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی پروٹوکول کے تحت تلف کر دیا گیا تاکہ اہم سرکاری اور خفیہ معلومات تک چینی انٹیلی جنس کی رسائی روکی جا سکے۔ امریکی وفد میں موجود صحافی ایملی گڈان نے چین سے روانگی کے وقت اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ایئر فورس وَن میں سوار ہونے سے پہلے امریکی عملے نے چینی حکام کی طرف سے دی ہوئی ہر چیز جیسے شناختی کارڈز‘ عارضی برنر‘ فونز وغیرہ سب جمع کر کے وہیں سیڑھیوں کے نیچے موجود ایک ڈبے میں پھینک دیں۔
یہی وہ وجوہ ہیں جن کی بنیاد پر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ٹرمپ اپنے دورۂ چین سے کوئی خاص Gain نہیں کر سکے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ یہ دورہ کتنا کامیاب رہا اس کا اندازہ صدر ٹرمپ کے آج کے بیان سے لگا لیں۔ انہوں نے فرمایا ہے: تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی‘ ممکن ہے دیں اور ممکن ہے نہ دیں‘ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مطلب پرنالہ وہیں پر ہے جہاں پہلے تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved