کسی بھی معاشرے میں شہریوں کی بنیادی ضرورت جان کا تحفظ اور امن و امان کا احساس ہے۔ جس معاشرے سے تحفظ کا احساس ختم ہو جائے اور شہریوں کے جان و مال خطرات کی زد میں ہوں وہ معاشرہ اپنے باسیوں کے لیے عدم تحفظ کا استعارہ بن جاتا ہے۔ جب گھر کے افراد خوف کا شکار ہوں تو وہ کسی دوسرے کو سلامتی کا یقین کیسے دلا سکتے ہیں؟ خیبرپختونخوا میں معیشت سمیت ہر سطح پر عدم تحفظ کا گہرا تاثر موجود ہے۔ علمائے کرام سے لے کر صحافیوں تک‘ تاجر برادری سے لے کر سیاسی و سماجی رہنماؤں تک سبھی عدم تحفظ کی زد میں ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کا سب سے خطرناک پہلو اس کا ''بے چہرہ‘‘ ہونا ہے۔ ان حملہ آوروں کا نہ تو کوئی واضح ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی اعلانیہ مطالبہ۔ یہ عناصر رات کے اندھیرے میں یا اچانک گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں‘ معصوموں لوگوں کا خون بہاتے ہیں اور پلک جھپکتے ہی واپس اپنی خفیہ پناہ گاہوں میں جا چھپتے ہیں۔ ان شرپسندوں کا کوئی واضح نظریہ یا فکری سوچ نہیں۔ ان کا ہدف صرف وہی ہوتا ہے جو انہیں سرحد پار یا پس پردہ بیٹھے بیرونی سرپرستوں کی طرف سے فنڈنگ اور ٹارگٹ کی صورت میں سونپا جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں خوف کی یہ تاریک فضا اس وقت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ اضلاع جو افغانستان کی سرحد سے متصل ہیں اس وقت شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ چند برس قبل تک سکیورٹی فورسز نے ضربِ عضب اور رد الفساد جیسے بڑے عسکری آپریشنز کے ذریعے جن قبائلی اضلاع کو دہشت گردوں سے پاک کیا تھا وہ علاقے دوبارہ شرپسندوں کی آماجگاہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ باجوڑ‘ بنوں‘ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور لکی مروت میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات اسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے تانے بانے افغان سرحد کے اُس پار سے ملتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوان صفِ اوّل پر رہ کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ وہ ان بزدل دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہیں اور ان کی قربانیاں پوری قوم کا فخر ہیں۔ لیکن اس نوعیت کی جنگ محض عسکری طاقت کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی۔ اس بحران پر مستقل قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کی سیاسی پشت پناہی‘ انتظامی جانفشانی اور صوبے کے وسائل کا رخ اس خوف کی فضا کو ختم کرنے کی طرف موڑنا ازحد ضروری ہے۔ پائیدار امن کے لیے صوبائی حکومت اور اداروں میں ہم آہنگی وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
صوبے میں گزشتہ بارہ برس سے مسلسل ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ بارہ سال کا عرصہ کسی بھی صوبے کی تقدیر بدلنے‘ سکیورٹی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے لیکن خیبرپختونخوا گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مستقل سیاسی تجربات‘ دھرنوں اور احتجاجی بیانیے میں الجھا ہوا ہے۔ جب صوبائی حکومت اور اس کی کابینہ کا بیشتر وقت صوبائی معاملات چلانے‘ پائیدار پالیسیاں وضع کرنے اور امن و امان پر توجہ دینے کے بجائے وفاق کے خلاف محاذ آرائی میں گزرے گا تو بیوروکریسی اور پولیس کا مورال کیونکر بلند ہو گا؟ بارہ سال سے برسرِ اقتدار رہنے کے بعد بھی صوبائی حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں اور ترجیحات کے بگاڑ کا ملبہ کسی دوسرے پر نہیں ڈال سکتی۔ دیگر صوبوں کا موازنہ خیبرپختونخوا سے کریں تو ایک واضح فرق نظرآتا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں تمام تر سیاسی اختلافات اور بحرانوں کے باوجود ترقیاتی کاموں اور معاشی منصوبوں میں مسابقت نظر آتی ہے۔ وہاں آئے روز کسی نئے انفراسٹرکچر‘ ہسپتالوں یا دوسرے منصوبوں کے آغاز کی خبریں آتی ہیں۔ لیکن خیبر پختونخوا داخلی سیاسی لڑائیوں کی وجہ سے معاشی جمود کا شکار ہے۔ جب وزیر اعلیٰ کی سب سے بڑی ترجیح امن و امان کا قیام اور عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے اڈیالہ جیل میں قید اپنے سیاسی قائد کے لیے آواز اٹھانا اور وفاق کے خلاف جلسے جلوس نکالنا ہو تو صوبے کے عوام کا پرسان حال کون ہو گا؟ جب صوبے کا کپتان ہی انتظامی امور چھوڑ کر سیاسی معرکہ آرائی میں مصروف ہو تو امن کی کشتی کو ساحل تک پہنچانا محال ہو جاتا ہے۔
دہشت گردی اور سرحد پار سے آنے والے خطرات جیسے بڑے چیلنجز سے کوئی بھی صوبہ تنہا نبردآزما نہیں ہو سکتا‘ اس کے لیے وفاق کی معاونت اور ریاستی اداروں کا اشتراکِ عمل ناگزیر ہے۔ بلوچستان کی مثال دیکھیں تو وہاں سکیورٹی کے شدید ترین خطرات کے باوجود صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ وفاق بلوچستان کو سکیورٹی‘ انٹیلی جنس شیئرنگ اور مالیاتی سطح پر ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے کیونکہ وہاں کی صوبائی حکومت نے محاذ آرائی کے بجائے وفاق کے ساتھ مل کر چلنے کا راستہ چنا ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی اسی طرح وفاق کی بھرپور مدد حاصل ہو سکتی ہے‘ لیکن اس کا راستہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے یا ریاستی اداروں سے سینگ پھنسانے سے نہیں بلکہ آئینی اورسیاسی رابطوں سے نکلتا ہے۔
بیرونی دشمن ہمیشہ آپ کے اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ جب دہشت گرد اور ان کے سر پرست یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری صفوں میں گہرے اختلافات موجود ہیں اور جب اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات ان اختلافات کو سلجھانے کے بجائے کھلے عام اور فخریہ انداز میں اچھالتی ہیں تو دشمن ان دراڑوں کو مزید گہرا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے۔ وفاق اور صوبے کی سرد جنگ دشمن کو تقویت پہنچانے کا سبب بنتی ہے اور یہ سیاسی کھینچا تانی سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کو ثمر آور نہیں ہونے دیتی۔ یوں سیاسی کشیدگی کا خمیازہ خیبر پختونخوا کے چار کروڑ سے زائد عوام جانوں کے ضیاع‘ کاروبار کی تباہی اور معاشی بدحالی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ صوبائی قیادت اپنے سیاسی مفادات اور ذاتی انا کے حصار سے نکل کر تلخ حقائق کو تسلیم کرے۔ وفاق اور صوبے کا مثالی تعاون صرف اسی صورت ممکن ہے جب صوبائی حکومت محاذ آرائی کے بجائے صوبے کے مفادات کو مقدم رکھے۔ اڈیالہ جیل کے چکروں اور وفاق سے مستقل الجھاؤ کے بجائے اپنی توانائیاں خیبر پختونخوا کو امن کا گہوارہ بنانے‘ پولیس کو جدید آلات سے لیس کرنے اور وفاق کے ساتھ مل کر افغان سرحد سے آنے والے خطرات کے خلاف مضبوط اور یکجا قومی بیانیہ تشکیل دینے پر صرف کی جائیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved