مودی کو بہار اسمبلی الیکشن کے لیے ایک بڑے ایڈونچر کی ضرورت تھی جس کے لیے ہمارے ہٹ دھرم ازلی دشمن نے حسبِ روایت دہلی کے راشٹر پتی بھَون میں سکرپٹ تیار کیا اور 22 اپریل 2025ء کو پہلگام میں فالس فلیگ منصوبہ بنایا گیا‘ جس میں ابھی لاشیں بھی نہ گنی گئیں اور پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ بھارتی گودی میڈیا پر طبلِ جنگ بج گیا‘ اینکرز نے پاکستان مخالف راگ الاپنا شروع کر دیا تو ریٹائرڈ بھارتی جنرل نقشوں پر تیر چلانے لگے۔ ان سب کا ایک ہی نعرہ تھا ''گھس کر ماریں گے‘‘۔ چھ اور سات مئی کی درمیانی رات کو آپریشن سیندور کا اعلان ہوا اور پاکستان کے مساجد اور مدرسوں کو دہشت گرد کیمپ قرار دے کر نشانہ بنایا گیا۔ دعویٰ کیا گیاکہ نو ٹھکانے تباہ کر دیے اور 100سے زائد دہشت گرد مار دیے‘ اور اپنی قوم کو یقین دلایا کہ 56انچ کا سینہ آپ کی رکھشا کے لیے ہے۔ مگر دہلی بھول گیا کہ یہ 2019ء نہیں 2025ء ہے۔ یہ ہمارا روایتی حریف پاکستان نہیں بلکہ آج یہ ایک ایسا پاکستان ہے جس کے ہتھیار بھی مختلف اور عسکری کمانڈ بھی ایسی جو نیو نارمل اسٹیبلش کرنے پر یقین رکھتی ہے‘ جبکہ بھارت کے دماغ میں ایک ہی کیلکولیشن تھی کہ ایس 400 ہمارا تحفظ کرے گا‘ رافیل کا Spectra ہمیں تحفظ دے گا اور پاکستانی J-10C ہمارے سامنے نہیں آئے گا۔ مگر منظر نامہ بدل گیا اوردنیا نے دیکھا کہ چھ بھارتی جنگی جہاز‘ تین رافیل ‘ایک MiG-29‘ایک Su-30اور ایک سرویلینس ڈرون پاک فضاؤں سے دور زمین بوس ہو گئے۔ S-400گیم چینجرکے بجائے راکھ کا ڈھیر بن گیا۔پاکستان نے آپریشن بنیانٌ مرصوص کے تحت دشمن کے دانت کٹھے کر دیے۔دہلی ‘ممبئی‘ بنگلور اندھیرے میں ڈوب گئے۔بی جے پی کی ویب سائٹ پر ''پاکستان زندہ باد‘‘ نے دشمن کے ہوش اڑا دیے۔' گھس کر مارنے ‘والا بھارت خود بری طرح پٹ گیا۔
بھارتی فوج کے جنرل راجیو گھائی نے نام نہاد آپریشن سیندور کی پہلی سالگرہ پر کہا کہ بارڈر ایک ہے اور دشمن تین‘ پاکستان‘چین اور ترکیہ جبکہ پاکستان کا 80فیصد اسلحہ چینی ساختہ ہے اور آپریشن سیندور سے سبق سیکھ کر تیاری کر لی ہے ‘ لیکن بھارتی جنرل جان لیں ہمارا 80فیصد چینی ساختہ اسلحہ ہی پاکستان کی بھارت پر واضح برتری کی علامت ہے۔جہاں فضائیہ‘ میزائل فورس ‘ڈرونز ‘ریڈار اور بحری قوت ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اب پاکستان 14اگست کو ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر جیٹ J-35 کی نمائش کرنے جا رہا ہے جو بھارت کی نیندیں اڑا دے گا۔ دوسری جانب بھارت کے روسی طیارے ‘فرانسیسی رافیل ‘اسرائیلی اورامریکی نگرانی کے نظام اور روسی S-400دفاعی نظام‘ دفاعی ساز و سامان ہے یا چوں چوں کا مربہ۔ ناقدین کے مطابق یہ تنوع ایک مربوط جنگی ایکو سسٹم میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن محض فوجی تعداد یا بجٹ سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی‘ سٹریٹجک ہم آہنگی اور رسد کے مربوط نظام سے ناپا جا رہا ہے۔پاکستان اور چین نے گزشتہ چند برسوں میں جس انداز سے مشترکہ دفاعی حکمت عملی کو عملی شکل دی ہے‘ اس نے بھارتی پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔دہلی کو اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ محض مغربی اسلحہ خرید لینے سے جنگی برتری حاصل نہیں ہوتی بلکہ اصل کامیابی اس وقت ملتی ہے جب فضائی‘ بحری اور سائبر صلاحیتیں ایک ہی کمانڈ ویژن کے تحت حرکت کریں۔اسی لیے بھارتی تھنک ٹینکس اب کھل کر یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ خطے میں طاقت کا پرانا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ایک طرف بھارت ہے جو خود کو ''Net-Security Provider‘‘کہہ کر خطے کا چودھری بننا چاہتا ہے۔ دوسری جانب پاک چین سٹریٹجک اتحاد جو نہ صرف جغرافیائی توازن بدل رہا ہے بلکہ بھارتی بالا دستی کے خواب کو بھی چکنا چور کر رہا ہے۔ دہلی نے ایک خوش فہمی پال رکھی ہے کہ بحر ہند بھارت کی جا گیر ہے۔ اسی زعم میں اس نے انڈیمان نکوبار کو ناقابلِ تسخیر بحری قلعہ بنایا اور کواڈ کے نام پر امریکہ ‘جاپان اورآسڑیلیا کو علاقے میں لے آیا۔امریکی مغربی اثرورسوخ کو تقویت دینا اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ بھارت یہ سب کچھ کس کے لیے کر رہا ہے ؟ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے۔ 2020ء میں لداخ کے بعد بھارت نے جزائر انڈمان میں میزائل اور ائیر بیسز بڑھائیں‘ اس کا صاف مطلب آبنائے ملاکا کو گھیر کر چین کا گلا دبانا ہے‘ جو سکیورٹی نہیں معاشی دہشت گردی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بھارت کو خود ڈیگو گارشیا میں امریکی اڈے پر اعتراض نہیں تو چین کا گوادر میں آنا کیوں چبھتا ہے؟ دراصل بھارت گوادر کو صرف معاشی منصوبہ نہیں بلکہ اپنی بالادستی کے لیے ایک خطرہ تصور کرتا ہے۔ بحر ہند میں اصل مقابلہ اب صرف جنگی جہازوں کا نہیں بلکہ Sea denial اور chokepoints کی حکمت عملی کا ہے۔ گوادر نے کھیل بدل دیا ہے۔ تیل گوادر اترے گا اور زمینی راستے سے کاشغر جائے گا۔ نہ ملاکا کا خطرہ اور نہ ہی بھارتی بحریہ کی بلیک میلنگ۔ یہی وہ حکمت عملی ہے جس نے دہلی کے حواس گم کر دیے ہیں۔ گوادر پاکستان کے لیے chokepoint نہیں ایک ٹریڈ ہب بنتا جا رہا ہے۔ جیوانی میں مستقبل کا ائیر بیس‘ اورماڑہ میں سب میرین سمیت کراچی سے گوادر تک چین کے تعاون سے بننے والا ساحلی دفاع‘ یہ سب مل کر بھارتی بحریہ کے لیے نو گو ایریا بنتے جا رہے ہیں۔
بھارت چاہ بہار کا ڈھنڈورا پیٹتارہا‘ وہ بھی اس کے لیے نو گو ایریا بن چکا ہے۔ دوسری جانب گوادر میں چینی سرمایہ کاری 62ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں نقشہ مکمل بدل جائے گا۔ اپریل 2026ء میں پاکستان کی پہلی ہنگور آبدوز سمندر میں جا چکی ہے۔ جس کی وجہ سے بھارتی ایئر کرافٹ کا کِل زون 300کلو میٹر بڑھ چکا ہے۔ 2028ء میں چین کا چو تھا طیارہ بردار جہاز مستقل بحر ہند میں ہو گا اور دو کیریئر گروپ ہر وقت موجود رہیں گے۔ 2030ء میں گوادر میں پاک چین J-20اور J-35 کے سکوارڈنز مکمل طور پر تعینات ہوں گے جس کا مطلب بھارتی فضائیہ پر مکمل کنٹرول ہے۔ اب بھارت کیا کرے گا؟ تیجس 20سال سے اْڑ نہیں سکا‘ رافیل کی ڈیل میں فرانس سورس کوڈ نہیں دے رہا۔ نیوکلیئر آبدوز INS ارہینت ابھی تک مکمل آپریشنل نہیں۔ یعنی دہلی کے پاس نہ وقت ہے نہ ٹیکنالوجی اور نہ ہی پیسہ۔
اب بحرہند میں مقابلہ ہتھیاروں کا نہیں ویژن کا ہے۔ بھارت کا ویژن ہے اکیلے راج کرنا‘ پاکستان چین کا ویژن ہے مل کر ترقی کرنا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سمندروں پر قبضہ کرنے والے نہیں سمندروں کو ملانے والے جیتتے ہیں۔ آج پاکستان اور چین بحر ہند کو مقابلے سے نکال کر کنکٹیویٹی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایشیا کے امن‘ تجارت اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ بھارت چاہے تو اس نئے ایشیا سے جڑ جائے ورنہ ایک بارڈر تین دشمن گنتے گنتے کہیں دشمنوں کی گنتی بڑھ نہ جائے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved