تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     18-05-2026

الطاف صاحب کی یاد میں

ایک صدی کا قصہ ہے‘ اسے ایک کالم میں کوئی کیسے قلمبند کرے۔ اس کے بیان کے لیے کتاب چاہیے۔
افسانہ کہ گفت نظیری کتاب شد
الطاف حسن قریشی ایک فرد کا نام نہیں‘ ایک تاریخ کا عنوان ہے۔ وہ صحافت کے ایک پورے عہد کے بانی ہیں۔ اس میں مبالغہ نہیں کہ اردو صحافت میں ان کی کوئی مثال نہیں۔ وہ ایک طرف ہماری روایت کے امین تھے اور دوسری طرف ایک نئے دور کے بانی۔ انہوں نے صحافت کو ادب اور نظریے سے جوڑے رکھا‘ جو ہماری روایت تھی۔ وہی تھے جنہوں نے اردو صحافت میں ڈائجسٹ کے کلچر کی بنیاد رکھی۔ اس کو ایک پاکیزہ لہجہ دیا۔ 'اردو ڈائجسٹ‘ آج ایک روایت کا سرنامہ ہے۔ تین نسلوں نے اس سے تہذیب سیکھی۔ وہ تہذیب جو علم اور حسنِ بیان سے عبارت ہے۔
الطاف صاحب اردو صحافت میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مو لانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی روایت کا تسلسل تھے۔ مولانا مودودی ان کے نظریاتی قائد بھی تھے۔ اپنے بڑے بھائی حافظ افروغ حسن کی معرفت مولانا سے متعارف ہوئے اور پھر ان کے فکر میں رنگے گئے۔ تادمِ مرگ اس سے وابستہ رہے۔ چند ماہ پہلے ان کی تحریروں کا جو آخری مجموعہ شائع ہوا ہے‘ اس کا عنوان ہے 'پیارے مولانا‘۔ اس سے مولانا مودودی سے ان کے تعلقِ خاطر کا اظہار ہوتا ہے۔ دل کے ا س رشتے کی بنیاد ادب سے ان کی محبت پر استوار ہے۔ پہلے مولانا کے اسلوب نے فتح کیا اور اس راستے سے وہ ان کے فکر تک پہنچے۔ محبت اور فکر کا یہ تعلق پھر ٹوٹنے نہیں پایا۔ مولانا کا معاملہ ایسا ہی تھا۔
ساری دنیا سے دور ہو جائے؍ جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
پاکستان کے نظریاتی تشخص کے باب میں ایک طویل معرکہ لڑا گیا۔ یہ کئی دہائیوں کو محیط ہے۔ یہ جنگ ایک سے زیادہ میدانوں میں لڑی گئی۔ ایک میدانِ صحافت بھی تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس میدان میں ایک گروہ کے سرخیل الطاف حسن قریشی اور ان کے بھائی اعجاز حسن قریشی تھے۔ بعد میں جناب مجیب الرحمن شامی بھی اس میں شامل ہوئے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے۔ میں جب اپنی بچپن کی یادوں کو سمیٹتا ہوں تو میرے لیے قریشی وشامی میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ توام دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ صحافت میں یک جان دو قالب تھے۔ وہ اگر جریدے کے صفحات پر ایک ساتھ دکھائی دیے تو پسِ زنداں بھی ہم رکاب و ہم زنجیر ملے۔ 1972ء میں‘ مارشل لاء قوانین کے تحت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ الطاف حسن قریشی‘ اعجاز حسن قریشی اور مجیب الرحمن شامی صاحب کے ساتھ 'پنجاب پنچ‘ کے مدیر حسین نقی اور پبلشر مظفر قادر بھی شامل تھے۔ ان پانچوں کی طرف سے عدالت میں جو بیان داخل کیا گیا‘ وہ شامی صاحب کے قلم کا شاہکار ہے۔ اس میں مولانا ابوالکلام آزاد کے تاریخی بیان کی جھلک ہے جو انہوں نے انگریز جج کے سامنے دیا تھا اور'قولِ فیصل‘ کے عنوان سے آج بھی شائع ہوتا ہے۔ ان پانچوں نے فوجی عدالت اور مارشل لاء کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ عدالت نے ایک سال قیدِ بامشقت کے ساتھ ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ساتھ یہ بھی کہ وہ عمر بھر کسی جریدے کے مدیر نہیں بن سکتے۔ یہ اتنی کھلی ناانصافی تھی کہ عدالتِ عظمیٰ تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ گئی۔
الطاف صاحب نے ماہنامہ‘ ہفت روزہ اور روزنامہ‘ تینوں طرح کی صحافت کی اور سب میں نئی طرح ڈالی۔ 'اردو ڈائجسٹ‘ جیسا ماہنامہ شاید دوسرا موجود نہ ہو۔ ایک دور میں اس کی اشاعت سوا لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ نومبر 1960ء میں اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ 1969ء میں ہفت روزہ 'زندگی‘ جناب مجیب الرحمن شامی کی ادارت میں اس قافلے میں شامل ہوا۔ 1970ء میں الطاف صاحب کی ادارت میں روزنامہ 'جسارت‘ پہلے ملتان اور پھر کراچی سے نکلنا شروع ہوا۔ تینوں کا انداز جدا اور منفرد تھا۔ تینوں کو روایت ساز کہا جا سکتا ہے۔ ماہناموں میں جو حیثیت اردو ڈائجسٹ کو حاصل تھی‘ ہفت روزوں میں وہی حیثیت 'زندگی‘ کی تھی۔ 'چٹان‘ جیسے ہفت روزے کے ہوتے ہوئے اس صف میں مقام پیدا کرنا آسان نہ تھا۔ نظریاتی کشمکش میں یہ گروہ پاکستان کے اسلامی تشخص کا علمبردار تھا۔ ان کے لیے کبھی ممکن نہیں رہا کہ وہ اسلام ا ور پاکستان کو ایک دوسرے سے الگ کر سکیں۔ صحافتی محاذ پر انہوں نے یہ جنگ پوری یکسوئی اور عزیمت کے ساتھ لڑی۔ صحافت میں بھٹو صاحب کے فسطائی اندازِ حکمرانی کا سب سے بڑا شکار یہی گروہ تھا۔
الطاف صاحب نے جو نثر لکھی‘ وہ ادب کے ہر پیمانے پر پورا اترتی ہے۔ جو شعر کہے‘ وہ بھی کمال ہیں۔ ادب میں ایک خاص نظریاتی گروہ کے غلبے کی وجہ سے الطاف صاحب کی نثر کو وہ پذیرائی نہیں ملی‘ وہ جس کی مستحق تھی۔ چند ممتاز ادیبوں کے استثنا کے ساتھ جو صحافت بھی کرتے تھے‘ شاید ہی کسی نے ان سے خوبصورت نثر لکھی ہو۔ صحتِ زبان کے باب میں بھی وہ محتاط تھے۔ ان کی شہرہ آفاق تحریر 'محبت کا زمزم بہہ رہا ہے‘ کا ایک اقتباس دیکھیے: ''ڈھاکہ کا موسم خنک اور خوشگوار تھا۔ اُودی گھٹائیں دبے پاؤں یوں چلی آ رہی تھیں جیسے یادوں کے قافلے اچانک دل کی پہنائیوں میں اتر آتے ہیں اور صبر وقرار کے کنول چن کر لے جاتے ہیں... وہ کنول جو آنسوئوں کی جھیل میں کھلتے ہیں۔ دوشیزہ فطرت ابھی بن سنور کر نکلی تھی۔ خبر نہیں اس کے عزائم کیا تھے۔ اچھے کیا ہوں گے؟ یوں سرِ بازار کون نکلتا ہے؟ مشتاقانِ جمال خیر مقدم کے لیے آگے بڑھے اور پھر وہی منظر دیکھا جسے شاعر کی نگاہ ایک صدی پہلے دیکھ چکی تھی:
یاں لعلِ فسوں ساز نے باتوں میں لگایا
دے پیچ اُدھر، زلف اڑا لے گئی دل کو‘‘
ان کی ایک غزل کے دو اشعار سنیے!
قحطِ آشفتہ سراں ہے یارو؍ شہر میں امن و اماں ہے یارو
ہائے‘ اربابِ وفا بھی یہ کہیں؍ اب جنوں کارِ زیاں ہے یارو
الطاف صاحب کا حافظہ بلا کا تھا۔ چند ماہ پہلے تک لکھے کالموں میں بھی‘ انہوں نے قدیم واقعات کو جس طرح جزئیات کے ساتھ بیان کیا وہ حیرت انگیز ہے۔ شامی صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ انٹرویو کے دوران میں کبھی نوٹس نہیں لیتے تھے۔ اس کے باوصف‘ ان کے لیے گئے انٹرویو ایسے ہیں کہ تحریر ذہن کے پردے پر ایک چلتا پھرتا منظر تخلیق کر دیتی ہے۔
میں چند بار ہی ان سے مل سکا۔ رئوف طاہر مرحوم پہلی مرتبہ مجھے ان کے پاس لے گئے۔ چند ملاقاتوں کی یاد اور ان کے دستخطوں کے ساتھ موصول ہونے والے ان کے مضامین اور انٹرویوز کے مجموعے میرے سامنے رکھے ہیں۔ یہ سب پیغام دے رہے ہیں کہ فرد کو فنا ہے مگر اس کے کام کو نہیں۔ مشرقی پاکستان کے آخری ایام میں الطاف صاحب ان محبِ وطن لوگوں میں شامل تھے جو پاکستان کو متحد رکھنے کے شدید خواہشمند تھے۔ وہ فطری طور پر اس گروہ کے مخالف تھے جو حقوق کے نام پر پاکستان کو دولخت کرنے پر آمادہ تھا۔ اس کے باوجود‘ انہوں نے ریاست کو یہی مشورہ دیا کہ وہ طاقت کے بجائے مکالمے کا انتخاب کرے۔ 'محبت کا زمزم بہہ رہا ہے‘ کے عنوان سے لکھے گئے سلسلہ مضامین کے آخر میں انہوں نے مفاہمت ہی کے لیے تجاویز پیش کیں۔ بطور صحافی انہوں نے بحران کے دنوں میں بارہا مشرقی پاکستان کا سفر کیا تاکہ حالات کا مشاہدہ کریں اور کوئی رائے قائم کریں۔ ایسے ہنگامہ خیز ماحول میں افراط وتفریط کا شکار ہو جانا فطری ہے۔ تاہم ان کے بعض تجزیوں سے اتفاق وعدم اتفاق سے قطع نظر‘ اس میں کچھ کلام نہیں کہ اردو صحافت میں ان جیسا کوئی نہیں تھا۔ ان کا نقش اتنا گہرا ہے کہ تادیر مٹ نہیں سکے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved