محترم الطاف حسن قریشی صاحب سے ہمارا تعلق رسمی‘ واجبی اور تلامذانہ رہا۔ ہمیشہ ان سے کچھ سیکھنے کو جی چاہتا کہ وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ صحافت اور کئی تحریکوں کی چلتی پھرتی مفصل کتاب تھے۔ یہ اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ ان جیسے اساطیری دانشور‘ صحافی اور انسانی قدروں کی حامل شخصیت سے ملاقاتیں رہیں۔ کچھ ماہ‘ بلکہ اب تو یاد نہیں کب اُن سے آخری مرتبہ فون پر بات کرنے کی سعادت حاصل کی۔ انہیں زحمت دینا گوارا نہ تھا۔ جب کبھی اُن سے ملے یا فون پر بات کی ہمیشہ وہی مسکراہٹ‘ دبی دبی ہنسی اور خوشبودار اپنائیت محسوس ہوئی۔ اسلام آباد سے فون کرتا تو کہتے: لاہور کب آ رہے ہو‘ ضرور مل کر جانا۔ گزشتہ دو سالوں سے اُن کی زیارت سے محروم رہا۔ اتنی خوبیاں شاذ ونادر ہی ہم ایک انسان میں دیکھتے ہیں۔ شناخت تو ان کی صحافتی پیشے سے تھی مگر اس حوالے سے وہ اپنے معاصرین سے وژن‘ استقلال‘ مزاحمت اور ادارہ سازی میں کئی سال آگے تھے۔ ان کے نام سے واقفیت سکول کے زمانے میں اردو ڈائجسٹ پڑھنے سے ہوئی۔ ہمارے ایک استاد محترم اس رسالے کے مستقل قاری تھے۔ وہ ان کے اداریے پڑھنے کے بعد ان پر تبصرہ بھی کرتے تھے۔ ہمیں اس کتابچے کے صفحے الٹنے پلٹنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ یہ مرقع ہوا کرتا تھا‘ اور اب بھی وہ روایت قائم ہے کہ اس میں سیاست‘ تاریخ‘ شخصیات‘ عمومی دلچسپی کے موضوع‘ کتابوں کا تعارف اور شاہکار ادبی پاروں کے ترجمے شامل ہوتے ہیں۔ ڈائجسٹ ادب اور روایت کے بانی تھے۔ ان کے قاری روایتی خاندان‘ متوسط اور میانے طبقات تھے۔ سکول کے زمانے میں ہماری دلچسپی اردو ڈائجسٹ کے تاریخی اور تحریکی مضامین اور شروع کے صفحات میں قریشی صاحب کے اداریے میں ہوا کرتی تھی۔ شہروں میں تو ظاہر ہے کہ لوگ اردو ڈائجسٹ پڑھتے تھے لیکن یہ واحد رسالہ ہے جس کے قارئین دور دراز کے دیہات میں بھی آج تک موجود ہیں۔ میرے نزدیک اس پہلے ڈائجسٹ کے مقابلے میں کوئی اور قدم نہیں جما سکا۔ اس کی مقبولیت سے متاثر ہوکر شاید سینکڑوں ڈائجسٹ اب شائع ہو رہے ہیں جو اردو ادب کی ترویج اور ترقی میں نہایت ہی اہم پیش رفت ہے۔ اس نوع کے ادب کی ابتدا‘ فروغ اور قومی سطح پر اجاگر کرنے کا کریڈٹ قریشی صاحب کو ہی جاتا ہے۔
میری دوسری بالمشافہ ملاقات 1986ء میں ہوئی جب انہوں نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیشنل افیئرز کی بنیاد رکھی۔ اس کی افتتاحی تقریب میں اس درویش کو بھی دعوت ملی اور بعد کے سالوں میں وقتاً فوقتاً اس ادارے میں مختلف موضوعات پر اکابرین کو سننے اور اپنی بات کہنے کا موقع ملتا رہا۔ ان میں آخری عمر تک ایک کبھی نہ تھمنے والی تڑپ محسوس کی جو ملک اور معاشرے کی اصلاح‘ ترقی‘ خوشحالی اور استحکام کے لیے تھی۔ عام دانشوروں اور ان میں فرق یہ دیکھا کہ وہ ملک کیلئے جو بہتر خیال کرتے اس کے لیے خود پہل کاری کرتے اور دوستوں اور احباب پر زور دیتے کہ کچھ کریں۔ ایک مرتبہ وہ قائداعظم یونیورسٹی تشریف لائے۔ غالباً یہ 1980ء کی دہائی کے اوائل کے سال تھے۔ ایک مورخ ہمکار دوست کے پاس تشریف لائے تھے۔ آمد کا سنا تو اُن کی کشش ہمیں بھی کھینچ لے گئی۔ بار بار وہ کہتے رہے کہ اردو اور انگریزی میں پاکستان کی تاریخ کے بارے مختصر مگر جامع کتاب تحریر کریں۔ عالم فاضل لوگ تو بڑی بڑی کتابیں پڑھتے ہوں گے ہمیں ایسی تاریخ نویسی کی ضرورت ہے جو عام آدمی کی ذہنی دسترس میں آ سکے‘ دلچسپ ہو اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں مقبول ہو جائے۔ ایک کتاب کیا کئی کتابیں جو اپنی معاشرت‘ روایات اور تہذیب کے سب رنگ نوجوان نسل کے لیے متاثر کن انداز میں پیش کریں۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوئی یہی جذبہ اور تحریک دیکھی۔ گاہے گاہے وہ اپنے اس احساس کو سامنے بیٹھے دوستوں کے دلوں میں شفقت سے اتار دیتے۔
جب درس وتدریس کی دنیا میں قدم رکھا تو کالم نگاری کی ابتدا بھی اُسی زمانے میں ہوئی۔ کئی صحافیوں‘ دانشوروں اور ادیبوں کو پڑھ کر استفادہ کیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ الطاف حسن قریشی صاحب کی ذاتی جدوجہد‘ استقامت تو قابلِ رشک ہے ہی مگر ان کی تحریر میں جو فصاحت‘ بلاغت‘ سادگی اور فطری روانی تھی وہ بہت کم اردو کے لکھاریوں میں ملتی ہے۔ ادبی صنف میں تو بہت ہیں مگر صحافتی میدان میں شاید ان کے ہم پلہ معدودے چند ہی ہوں گے۔ ایسے سب اہل قلم کو ہم اپنا استاد مانتے ہیں۔ اُن کے طرز تحریر کو قابلِ تقلید اور مسحور کن پا کر اپنی استعداد بڑھانے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ قریشی صاحب کو کئی مرتبہ استادِ محترم کہہ کر بھی مخاطب ہوا تو ہنس کر جواب میں کہتے: بھئی آپ تو خود استاد ہیں۔ یہ تو میں اپنی بات کر رہا ہوں۔ نجانے کتنے صحافی اور دانشور ہوں گے جن کے ذہنی رجحان‘ تربیت اور علمی استعداد میں ان کی تحریروں میں اثر ڈالا ہوا۔ دکھ کی بات کہ اُن کا سایہ ہمارے سروں سے اُٹھ چکا ہے۔ ایسے نابغۂ روزگار لوگ معاشروں کی زینت‘ سماجی اثاثہ اور علمی روشنی کا مرکز ہوتے ہیں۔ قریشی صاحب کو خراجِ عقیدت تو کئی حوالوں سے پیش کیا جا سکتا ہے یہاں دو حوالوں سے دو ادوار کا ذکر اختصار سے کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
نظریاتی اعتبار سے قریشی صاحب پاکستان پیپلز پارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کے ناقد تھے۔ انہوں نے اس دور میں نیشنلائزیشن کی اقتصادی پالیسی اور حزبِ اختلاف کو دبانے کے خلاف تقریر وتحریر کی آزادی کی خاطر اپنے اداریوں میں پُرزور آواز بلند کی۔ وہ وقت دائیں‘ بائیں‘ لسانی اور دیگر ہر نوع کی آزادیٔ تحریر کے حامیوں کیلئے غیر موافق تھا۔ بڑے بڑے شاعروں‘ سیاسی رہنماؤں‘ دانشوروں اور صحافیوں کو قید وبند اور اذیتناک صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خود الطاف حسن قریشی صاحب کے رسالے بھی بند ہوئے مگر آزادیٔ رائے پر انہوں نے سودے بازی نہ کی۔ وہ صرف ایک شخص کی دردناک کہانی نہیں اس میں سینکڑوں ہیں جو وقت کے جبر کے پیش نظر خاموش ہوتے ہوتے قبرستانوں کی خموشی کا حصہ بن گئے۔ اس دور میں استاد دامن‘ حبیب جالب کے ساتھ سینکڑوں بلوچ و پشتون رہنما اور دانشور اسیری میں رہے تو قریشی صاحب کے قلم کی کاٹ کو کون معاف کر سکتا تھا۔
اُس سے قبل جب 1970ء کے تاریخی انتخابات ہوئے تو قریشی صاحب نے قوم کو آگاہ رکھنے کیلئے مشرقی پاکستان کے تب کے حالات کے بارے میں جو لکھا وہ آنے والے وقتوں کیلئے ایک سند کے طور پر رہے گا۔ کاش اس وقت ہی کوئی اس غیر جمہوری دور میں پڑھ کر غور کر سکتا۔ آج بھی ان کی وہ تحریریں ہمیں دعوتِ فکر دے رہی ہیں کہ آخر ہمارے حکمران معروضی حالات کو دیکھنے‘ سمجھنے اور دانش مندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم کیوں رہے۔ اب تو وہ سب مضامین ایک ضخیم کتاب میں دستیاب ہیں۔ یاد آیا کہ ان کی تصنیف ''ملاقاتیں کیا کیا‘‘ کتنے ہی سیاسی ادوار کے تلخ حقائق کی تصویر اہلِ فکر کے لیے پیش کرتی ہے۔ اتنا وسیع حلقۂ اثر اور انمول تاریخی خزانے کا ورثہ ایک عمر میں وہ بھی اپنے ملک کے مشکل ترین حالات میں چھوڑ جانا بہت کم صحافیوں اور دانشوروں کے حصے میں آتا ہے۔ ہمیں اُن کے جذبوں کی صداقت‘ گفتگو کی ملائمت اور قدروں کی خوشبو عمر بھر مسحور رکھے گی۔ خدا آپ کی مغرفت کرے اور اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved