تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     18-05-2026

کورونا کے بعد اب ہنٹا وائرس

ہم نے تاریخ میں بہت ساری وبائوں کے بارے میں پڑھا ہے کہ کس طرح پرانے زمانے میں طاعون‘ ہیضہ‘ چیچک‘ فلو اور بخار کی وجہ سے ہزاروں‘ لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ اُس وقت جدید طبی سہولتیں نہیں تھیں۔ پرانے زمانے میں بے ہوشی کی دوا بھی نہیں ہوتی تھی نہ ہی آلاتِ جراحی۔ چاقو کی مدد سے زخم کو کھولا جاتا اور پھر جڑی بوٹیوں کا لیپ لگا دیا جاتا۔ بے ہوشی کی دوا نہ ہونے کی وجہ سے جاگتے انسان کے خراب اعضا کلہاڑی یا تلوار سے الگ کیے جاتے تھے۔ کچھ شدتِ درد سے بے ہوش ہو جاتے اور کچھ جان کی بازی ہار جاتے۔ بیماریوں کا کوئی مستند علاج نہیں تھا‘ اکثر کی تو تشخیص ہی نہیں ہو پاتی تھی۔ عورتیں زچگی کے دوران مر جاتی تھیں‘ مرد جنگوں کے زخموں کی تاب نہ لا پاتے تھے۔ چھوٹے بچے موسمی حالات کے سبب پیدائش کے ابتدائی سالوں میں ہی جان کی بازی ہار جاتے اور بہت کم بچپن سے لڑکپن کی دہلیز عبور کر پاتے۔ وبائی امراض لوگوں کو ہزاروں نہیں‘ لاکھوں کی تعداد میں نگل جاتے تھے۔ جب وبائیں پھیلتیں تو ہر طرف خوف اور دہشت کا راج ہوتا۔ لوگ درد سے چلاتے‘ موت کی بھیک مانگنے لیکن کوئی ان کے قریب جانے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ چھوت کی بیماری سے سب ڈرتے تھے۔ بیمار شخص کو اکیلا چھوڑ دیا جاتا تھا۔ جو کوئی وبا کی زد میں آ جاتا‘ بیماری سے پہلے بھوک سے مر جاتا تھا۔
سولہویں صدی عیسوی میں لندن جب بڑے پیمانے پر طاعون کی وبا پھیلی تو اس وقت کا بادشاہ چارلس دوم خود تو آکسفورڈ جیسے محفوظ مقام پر منتقل ہو گیا لیکن اس کے سپاہیوں اور میئر نے لندن شہر کے دروازے بند کردیے اور یوں بیمار لوگ اور ان کی وجہ سے صحتمند لوگ بھی سسک سسک کر مر گے۔ لوگوں کو لندن سے باہر نکلنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔ ہر ہفتے سات ہزار لوگ طاعون کی وجہ سے مر رہے تھے‘ اس وبا نے اُس وقت لندن کی ایک تہائی آبادی ختم کر دی اور ایک لاکھ سے زائد افرادہلاک ہوئے۔ پرانی وبائوں کے قصے پڑھ کر لگتا تھا کہ ہم ماڈرن ورلڈ میں جی رہے ہیں‘ ہم ان آفات کا شکار نہیں ہوں گے۔ ہم سبھی یہ سمجھتے تھے کہ پرانے وقتوں میں طبی سہولتوں کا فقدان تھا اور ویکسین بھی نہیں ہوتی تھی‘ اس لیے لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے مگر پھر ہم سب نے 2020ء میں ایک عالمگیر وبا دیکھی۔ تمام تر جدید طبی سہولتوں اور احتیاطی اقدامات کے باوجود کورونا کی وبا دنیا بھر میں پھیل گئی اور لاکھوں جانیں چلی گئیں۔ تقدیر کی آفت میں انسان تنہا ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات بیماری کی کوئی دوا نہیں ہوتی مگر انسان اپنے صبر‘ حوصلے اور قوتِ مدافعت سے بیماری کا مقابلہ کرتا ہے۔ کبھی جیت ہوتی ہے تو کبھی ہار مقدر بن جاتی ہے۔
2020ء میں ہم سب نے پہلی بار سماجی دوری اختیار کی‘ جو بیمار ہوئے انہوں نے قرنطینہ کیا۔ اس وقت سب لوگ خوف کا شکار تھے۔ کورونا جانیں نگل رہا تھا اور انسانیت اس کے سامنے بے بس نظر آئی۔ اس سے پہلے ہسپانوی فلو اور ایبولا وائرس بھی دنیا میں پھیلے تھے لیکن پاکستان تک نہیں پہنچے تھے مگر 2020ء میں پاکستان بھی کورونا کی عالمی وبا کی زد میں آ گیا۔ لاک ڈائون کی وجہ سے مالی نقصان بھی ہوا۔ شہر کے شہر بند رہے۔ کاروبارِ زندگی معطل رہا۔ شروع میں کوئی علاج موجود نہیں تھا تو سماجی کنارہ کشی اور ماسک سے مدد لی گئی۔ اس کے بعد ویکسین آئی تو حالات کچھ بہتر ہوئے۔ بعض افراد بہت دیر تک اس وبا کے زیر اثر رہے‘ جس سے وہ خوف میں بھی مبتلا ہوئے اور معاشی بدحالی بھی دیکھی۔ اب پھر ایک وائرس منظر عام پر آیا ہے جس کی وجہ سے سفر کرنے والوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ہنٹا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو قرنطینہ کیا جا رہا ہے۔ یہ وائرس چوہوں کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ چوہوں کا لعاب یا فضلہ و گندگی انسانی جسم میں داخل ہوکر اس وائرس کا سبب بنتی ہے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق عام طور پر یہ وائرس ایک سے دوسرے انسان میں نہیں پھیلتا‘ سوائے چند مخصوص اقسام (جیسے اینڈیز وائرس) کے جو انتہائی قریبی رابطے سے منتقل ہو سکتی ہیں۔ تاہم چوہوں کی گندگی اگر ہوا میں پھیل جائے اور انسان اس ماحول میں سانس لے رہا ہو تو اس کو یہ بیماری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کبھی بھی کترنے والے جانوروں اور حشرات کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ جس جگہ ان کی موجودگی ہو‘ وہاں صفائی کرتے ہوئے ماسک اور دستانے پہنے جائیں اور جراثیم کش سپرے کیا جائے۔
اس وائرس کے حوالے سے شور تب اٹھا جب بحر اوقیانوس میں ایک بحری جہاز میں چوہوں کی وجہ سے ہنٹا وائرس کا کیس سامنے آیا اور اس سے جہاز پہ موجود تین افراد کی موت ہو گئی۔ بہت سے لوگ بیمار بھی ہوئے۔ یہ ایک پُرتعیش جہاز تھا اور اکثر لوگ ٹرپ کے لیے اس پر سوار تھے۔ ہنٹا وائرس سے متاثر ہونے والے دو مسافروں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔ یہ جہاز یکم اپریل کو ارجنٹائن سے روانہ ہوا اور 11 اپریل کو پہلے مسافر کے ہلاک ہونے کی خبر ملی‘ اس وقت جہاز بحر اوقیانوس میں تھا۔ اس مسافر کی بیوی کی طبیعت بھی خراب تھی جسے ہیلی کاپٹر سے جنوبی افریقہ منتقل کیا گیا اور 26 اپریل کو وہ جنوبی افریقہ میں دم توڑ گئی۔ 2 مئی کو ایک اور مسافر کی موت کی خبر ملی۔ اس جہاز پر کُل 149 افراد سوار تھے‘ جن میں تقریباً 88 مسافر اور باقی عملے کے ارکان تھے۔ 19 کا تعلق برطانیہ‘ 17 کا امریکہ‘ 13 کا سپین اور 8 کا نیدرلینڈز سے تھا۔ اس کے علاوہ آسڑیلیا‘ نیوزی لینڈ‘ جرمنی‘ سوئٹزر لینڈ‘ بھارت‘ پرتگال اور پولینڈ کے مسافر بھی اس جہاز پر سوار تھے۔ کریو میں فلپائن‘ یوکرین‘ نیدرلینڈز اور برطانیہ کے لوگ شامل تھے۔ اب تک جو لوگ ہلاک ہوئے ان میں ایک نیدرلینڈز کا جوڑا اور ایک جرمن خاتون شامل ہیں۔ بحری جہاز میں ہنٹا وائرس کی تصدیق کے بعد ان مسافروں کو سپین کے پاس روک لیا گیا۔ کچھ کو طبی امداد دی جا رہی اور کچھ کو قرنطینہ کیا گیا ہے۔ اس کی علامات میں فلو‘ بخار‘ پٹھوں میں درد‘ سر میں درد‘ متلی اور ہیضہ جیسی علامات شامل ہیں۔ اگر یہ بگڑ جائے تو پھیپھڑوں کا مسئلہ اور گردے فیل ہو سکتے ہیں۔ ابھی اس کی کوئی ویکسین نہیں ہے اور نہ ہی علاج موجود ہے۔ ہنٹا وائرس کی علامت 42 دنوں تک ظاہر ہوتی ہیں لہٰذا عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات کے مطابق مریضوں کو چھ ہفتوں تک فرنطینہ کرایا جاتا ہے اور علامات کے مطابق علاج کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مرض سے بچنے کے لیے عالمی ادارۂ صحت نے کچھ احتیاطی تدابیر جاری کی ہیں کہ کھانے پینے کی جگہ‘ کچن‘ سٹاک والی جگہ پر چوہے نہیں ہونے چاہئیں۔ صحت وصفائی کا خاص خیال رکھا جائے‘ بھیڑ والی جگہوں پر ماسک پہنا جائے۔ اگر کسی جگہ چوہے موجود ہوں تو وہاں صفائی کرتے ہوئے ماسک اور دستانے پہنے جائیں۔ اس کے ساتھ جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو بھی کیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ وائرس عالمی وبا بن کر دنیا میں پھیل سکتا ہے؟ اس حوالے سے عالمی ادارۂ صحت یہ کہہ رہا ہے کہ اس کا امکان نہایت کم ہے۔ ان کے مطابق ہنٹا عالمگیر وبا نہیں بنے گا‘ تاہم سب کو ازخود احتیاط کرنا ہو گی۔ جہاز پر مختلف ممالک کے لوگ سوار تھے لہٰذا ان تمام ممالک میں اس حوالے سے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جہاز کے عملے کی اکثریت کا تعلق فلپائن سے تھا‘ فلپائن بھی اس حوالے سے خصوصی انتظامات کر رہا ہے۔ پاکستان میں پبلک جگہوں اور گوداموں میں‘ ہر جگہ چوہے موجود ہوتے ہیں۔ کیا ان کو تلف کرنے کے لیے کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ مرض چوہوں کو وجہ سے پھیل رہا ہے۔ چوہوں کے فضلے سے یہ وائرس انسانی سانس میں منتقل ہوتا ہے اور انسان اس مہلک بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب تک کوئی علاج یا ویکسین نہیں آ جاتی‘ تب تک احتیاط ہی اس کا واحد حل ہے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کو اپنا کر ہی ہم خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ یہ وائرس عالمگیر وبا نہ بنے اور اس میں مبتلا لوگ جلد صحت یاب ہوجائیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved