تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     19-05-2026

معین نظامی کی پیش گوئیاں

قارئین! یہ عاجز تو سوشل میڈیا پر نہیں ہے تاہم ایک دوست نے برادرِ عزیز معین نظامی‘ جو نظم کے میرے پسندیدہ ترین شاعر ہیں‘ کی بیس عدد پیش گوئیاں بھیجی ہیں جنہیں میں صدقہ جاریہ سمجھ کر من و عن آپ تک پہنچا کر اپنا فرض پورا کر رہا ہوں۔
اگر آپ سب صدقِ دل سے زندگی بھر مجھے بھی خلوص اور محبت سے یاد کرنے اور دعائیں دیتے رہنے کا وعدہ کریں تو آج میں بھی چند سچی اور سدا بہار پیش گوئیاں کرتا ہوں۔ آپ بھی کیا یاد کریں گے۔ اتنی دو ٹوک اور بکثرت پیش گوئیاں معلوم انسانی تاریخ میں اس سے پہلے شاید ہی کبھی اکٹھی پیش کی گئی ہوں۔ ان کے حتمی استخراج اور اظہار میں خداداد ذہانت‘ موروثی صلاحیت‘ برسوں کی مطالعاتی‘ تقابلی اور تجزیاتی ریاضت اورمختلف النّوع مخفی علوم و فنون کی مستقبل افروز معاونت شامل ہے۔ ان پیش گوئیوں کو دھیان سے پڑھیں اور جب جب ان کی تصدیق سے ملتا جلتا کچھ بھی واقعہ ہو تو فوراً میری تحریر‘ تصویر اور آڈیو یا وڈیو کلپ وسیع پیمانے پر شیئر کر کے میری ہمہ جہت بصیرت کو داد ضرور دیں اور ہو سکے تو عاقبت بالخیر کی دعائے خاص سے بھی نواز دیں۔ کیا خبر اللہ کریم آپ کی زبان زندگی میں پہلی بار ہی سہی‘ مبارک فرما دے اور مجھے باعزت راستے سے شہرت و مقبولیت کے بامِ عروج پر پہنچا دے‘ جہاں سے اتر کر باعزت واپسی کا زینہ بھی موجود ہو۔ اب برسوں کی عرق ریزی سے نکالی گئی قطعی‘ سچی اور نادر پیش گوئیاں خالص اس صفحے پر پہلی بار عوام و خواص کی بھلائی کیلئے بالکل مفت ملاحظہ کریں:
1: اسلام سے پہلے کے تین چار قدیم مذہب ہمیشہ اسلام کے درپے رہیں گے۔ ان کے مابین جنگیں بھی ہوں گی‘ کبھی کوئی غالب رہے گا تو کبھی کوئی۔ 2: مسلمانوں کو دنیا بھر میں اغیار سے زیادہ اپنوں سے نقصان پہنچا کرے گا۔ نقصان پہنچانے والے اندرونی زعما اپنے اپنے معاشروں میں عزت دار بھی ہوا کریں گے۔ ایک زور دار بیانیہ ان کی پشت پناہی کرتا رہے گا۔
3: مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا جائے گا لیکن صدیوں تک ان کی عددی برتری کا مطلب علمی‘ تحقیقی‘ تکنیکی‘ اقتصادی‘ ثقافتی اور سیاسی تفوق نہیں ہو سکے گا۔ 4: دنیا بھر میں مساجد‘ نمازیوں‘ دینی مدارس‘ دینی طالب علموں‘ خانقاہوں‘ آستانوں‘ درگاہوں‘ روحانی و نفسیاتی علاج گاہوں اور رنگ برنگے رفاہی اداروں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جائے گی۔ ان کے مذہبی‘ اخلاقی اور سماجی ثمرات کم و بیش وہی رہیں گے جو اَب ہیں۔ 5: بہت سے واقعات‘ امور اور باتوں کی صحیح صورت کبھی کسی کو پتا نہیں چل سکے گی۔ ان کے تعلق سے دس دس‘ بارہ بارہ سے زائد نہایت ثقہ آرا پائی جاتی رہیں گی اور ہر رائے ایک سخت گیر گروہ کا بنیادی مؤقف بن جایا کرے گی۔6: اسلامی ممالک کبھی خود کفیل ہو کر ایک دوسرے پر بھرپور اعتماد کر کے ایک دوسرے کے مضبوط دست و بازو نہیں بن سکیں گے۔ ان میں سے بعض کے وقتی مفادات انہیں محدود مدت کے لیے ایک دوسرے کے قریب کریں گے۔ ان میں صحیح معنوں میں کوئی قد آور تاریخ ساز راہنما بھی پیدا نہیں ہو گا۔ بہت سے خانہ ساز اور خانہ زاد راہنماؤں کے غباروں میں البتہ بوقتِ ضرورت ہوا بھری جاتی رہے گی اور مقررہ وقت پر یا اس سے قدرے پہلے نہایت صفائی سے نکال لیجایا کرے گی۔
7: پاکستان طرح طرح کے اندرونی اور بیرونی خطرات میں گھرا رہے گا۔ اس کے زیادہ تر محاذ محفوظ اور قابلِ اطمینان نہیں ہوں گے۔ پاکستان کے قرب و دور کے کئی ہمسایے ٹوٹ بکھر کر کچھ کمزور اور کچھ مضبوط ہو جائیں گے۔ 8:پاکستان پانی کو اپنی لائف لائن قرار دیتا ہے مگر یہ اس لائف لائن کے بغیر زندہ رہ کر یہ ثابت کر دکھائے گا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ کبھی اسے بہ رضا و رغبت اپنے اساسی اور مرکزی اجزا کی قربانی بھی دینی پڑے۔ 9: پاکستانی پاسپورٹ عرصۂ دراز تک ممالکِ عالم کی فہرست میں اپنی‘ نیچے سے اول‘ دوم یا سوم پوزیشن برقرار رکھنے میں کما فی السابق کامیاب و کامران رہے گا۔ 10: اکثر و بیشتر مشرقی و مغربی اور مسلم و غیر مسلم ممالک کی نظروں میں پاکستانی افراد اپنا موجودہ وقار صدیوں برقرار رکھیں گے بلکہ ترقیٔ معکوس کے امکانات زیادہ روشن لگ رہے ہیں۔
11: بار بار حج اور عمرہ کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد حیرتناک حد تک بڑھتی رہے گی اور معاشرے کی مختلف سطحوں پر اس کے گہرے اچھے اثرات اسی طرح رہیں گے‘ جیسے اب ہیں۔ 12: سماجی رابطوں کے ہر دستیاب قومی و بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستانیوں کے سوقیانہ اندازِ فکر اورسطحی اسلوبِ بیان میں روز افزوں ترقی ہو گی۔ سنجیدہ‘ گہری اور مفید باتوں کی جگہ روز بروز سکڑتی جائے گی۔ سطحیت واحد قابلِ فخر معیار بن جائے گی۔ 13: اسلامی ممالک میں افراد کے مقابلے میں اداروں اور نااہل کے مقابلے میں اہل کو مضبوط کرنے کی غلطی کبھی نہیں کی جائے گی۔ 14: عالمِ اسلام میں اکا دکا استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر انصاف کی جلد از جلد فراہمی کا کوئی مؤثر نظام کبھی وضع نہیں ہو سکے گا۔ غالباً حضرت مہدی موعود کی تشریف آوری پر مختصر سی مدت کیلئے یہ بنیادی حق بحال ہو سکے گا‘ خوش نصیب نسلیں اسے دیکھیں گی اور فائدہ اٹھا سکیں گی۔ 15: اسلامی دنیا میں پیغمبری‘ مہدیت‘ امامت‘ مجددیت اور شیخیتِ کبریٰ کے علانیہ یا در پردہ جھوٹے دعویدار تسلسل سے جنم لیتے رہیں گے۔ ان میں سے بعض کے عزائم سیاسی ہوں گے‘ وہ ناکام رہیں گے۔ جن کے اہداف تاثر سازی اور کاروباری ہوں گے‘ ستارے ان کا ہر ممکن ساتھ دیں گے۔
16: پاکستان میں سرکاری ملازمتیں نجی ملازمتوں جیسی ہو جائیں گی بلکہ اس سے بھی بدتر۔ قانون ساز اداروں اور افسر شاہی وغیرہ سے وابستہ لوگوں کی نظر آنے والی مراعات کئی کئی گنا بڑھتی جائیں گی اور دکھائی نہ دینے والی مراعات اس سے بھی زیادہ پھولیں پھلیں گی۔ 17: سفارش‘ رشوت‘ اقربا پروری‘ دھونس دھاندلی‘ رسہ گیری‘ قبضہ سازی اور انتقام جوئی کی شرحِ افزائش میں اضافہ ہو گا اور ان پرکبھی آنچ نہیں آئے گی۔ ان کے مضرات میں توقع سے زیادہ اضافہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ 18:قیامت اور جزا و سزا کا بکثرت ذکر کرنے والوں کو بھی دل سے اس کا یقین نہیں ہو گا مگر قیامت آ کر رہے گی اور حساب کتاب بھی ضرور ہو گا۔ کمزوروں‘ محروموں اور محکوموں کو اس کا یقینِ کامل رکھنا چاہیے۔ 19: ہمارے خطے میں پانی‘ زرعی زمین‘ ماحولیات‘ پیداواری وسائل اور قدرتی ذخائر کی حالت مزید پتلی ہوتی جائے گی۔ خشک سالی‘ قحط‘ جنگ اور خانہ جنگی کے امکانات اور مواقع بڑھتے جائیں گے۔ بجلی‘ گیس اور پٹرول وغیرہ کے بحران کسی نہ کسی طور پر جاری و ساری رہیں گے۔ 20:خاندانی اکائی‘ برادری کی یکجائی‘ صلہ رحمی‘ اعزہ و اقربا کی خیر خواہی‘ حق شناسی‘ حق گوئی‘ مہمان نوازی اور ایسی ہی بہت سی پرانی اقدار فرسودہ اور ناقابلِ عمل قرار پا کر آہستہ آہستہ نیست و نابود ہو جائیں گی۔ بہت سے گھروں کے باورچی خانوں میں چولہے محض آرائشی خانہ پری کیلئے باقی رہ جائیں گے‘ جیسے بعض پرانے گھروں میں دیواری آتش دان۔
قارئین ! کم از کم مجھے تو معین نظامی کی ان پیش گوئیوں میں بڑی جان لگ رہی ہے تاہم آپ اپنی مرضی کے مالک و مختار ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved