پاکستان ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کے لیے سفارتی محاذ پر متحرک ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ دورۂ تہران غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ تہران کے صدارتی محل میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ان کی تقریباً 90 منٹ طویل تفصیلی ملاقات محض ایک رسمی سفارتی بحالی نہیں‘ بلکہ خطے کو بڑی تباہی سے بچانے کی کوشش ہے۔ اس اہم ترین مشاورت میں ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی موجودگی اور بعد ازاں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف سے محسن نقوی کی ملاقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایران کے اعلیٰ ترین اور بااختیار حلقوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ خطے میں آگ بجھانے کا کردار ادا کیا ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل جب امریکی انتظامیہ ایران کی اہم تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر ہولناک حملوں کا فیصلہ کر چکی تھی تو پاکستان کی پس پردہ مؤثر سفارتکاری نے امریکی صدر کو اس انتہائی اقدام سے روکا۔ امریکی صدر اس کی تصدیق بھی کر چکے ہیں۔ ایرانی قیادت بھی پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کو تسلیم کرتی ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ ایران ہمارا برادر اسلامی پڑوسی ملک ہے اور اس خطے میں جنگ کے دائرہ کار کا پھیلائو خود پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ یہ سفارتی سرگرمی ایسے نازک وقت میں ہو رہی ہے جب بین الاقوامی انٹیلی جنس ذرائع اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹس یہ انکشاف کر رہی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر مشترکہ اور شدید حملے کی تیاریاں کر چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے حالات سے آگاہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل امریکی انتظامیہ پر مزید حملوں کیلئے دبائو ڈال رہا ہے‘ اگر اس بار حملہ ہوتا ہے تو یہ تہران کے تزویراتی اثاثوں اور کمانڈ سنٹرز پر ہوگا‘ جس کی شدت پہلے سے کئی گنا زیادہ ہو گی۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا حالیہ بیان اس شدید خطرے کی تصدیق کرتا ہے۔ اسماعیل بقائی کہتے ہیں کہ امریکہ ایک طرف عالمی توانائی کی منڈیوں میں امن اور استحکام کے تحفظ کے دعوے کرتا ہے جبکہ دوسری طرف ایران کے خلاف غیر قانونی جنگی اقدامات کا جواز پیدا کرنے کے لیے من گھڑت بیانیے تراش رہا ہے۔ عام طور پر دنیا کو یہ دکھایا جاتا ہے کہ یہ تنازع محض اسرائیل کے دفاع یا ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کا ہے لیکن حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پس پردہ طویل مدتی عالمی گریٹ گیم جاری ہے‘ جس کے مقاصد میں توانائی کی گزرگاہوں پر کنٹرول شامل ہے‘ جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر پر ایران کے اثر ورسوخ کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز ہمیشہ مغربی تسلط میں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی اسلحہ ساز کمپنیاں بھی نہیں چاہتیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن ہو کیونکہ جنگ کا خوف برقرار رہے گا تو کھربوں ڈالر کا اسلحہ مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کو بیچا جا سکے گا۔
تہران اور واشنگٹن کے مابین حالیہ تجاویز کا تبادلہ اسی گیم کا حصہ ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق امریکہ نے مذاکرات کے لیے جو نئی شرائط پیش کی ہیں وہ کسی بھی خودمختار ملک کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ واشنگٹن کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ایران اپنا 400 کلوگرام افزودہ یورینیم فوری طور پر امریکہ یا کسی تیسرے ملک کے حوالے کر دے‘ اپنی صرف ایک جوہری تنصیب کو محدود پیمانے پر فعال رکھے اور اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے محض 25 فیصد رقم جاری کرے گا جبکہ باقی 75 فیصد بدستور ضبط رہے گی۔ دوسری طرف ایران نے اپنے دفاع اور بقا کے لیے پانچ شرائط رکھی ہیں‘ جن میں تمام محاذوں بالخصوص لبنان اور غزہ میں صہیونی جنگی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ‘ ایران پر عائد تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ‘ دنیا بھر کے بینکوں میں منجمد تمام ایرانی اثاثوں کی غیر مشروط بحالی‘ گزشتہ حملوں سے ہونے والے جنگی واقتصادی نقصانات کا بین الاقوامی قوانین کے مطابق معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے تاریخی اور خودمختار حق کو تسلیم کرنا شامل ہیں۔ اس وقت مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی دیوار فریقین کے مابین اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ تہران کا ماضی کا تجربہ خصوصاً 2015ء کے جوہری معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ فرار سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وہ امریکی شرائط قبول کر لے‘ تب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل مستقبل میں اس پر دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔
پاکستان اور دیگر ممالک کی طرف سے کی جانے والی سفارتی کوششیں اور مذاکرات اگر خدانخواستہ ناکام ہو جاتے ہیں اور فریقین کسی پُرامن حل پر پہنچنے کے بجائے جنگ کا انتخاب کرتے ہیں تو یہ سفارتی ناکامی ہو گی۔ یہ ناکامی اس بات کا ثبوت ہو گی کہ جدید دنیا کا مروجہ بین الاقوامی نظام‘ اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر طاقتور کی جارحیت کو روکنے اور انسانیت کو مٹنے سے بچانے میں مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔ سفارتکاری کے اس زوال کا خمیازہ پوری دنیا کو ایک ایسے معاشی اور انسانی المیے کی صورت میں بھگتنا پڑے گا جس کا تصور بھی محال ہے۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 105 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان گردش کر رہی ہیں جو پہلے ہی دنیا کی سست روی کی شکار معیشتوں کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ لیکن مذاکرات کی ناکامی اور جنگ کے دوبارہ آغاز کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں جلد ہی 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائیں گی۔ جب عالمی مارکیٹ میں تیل دُگنا مہنگا ہو گا تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر اس کا اثر کسی قیامت سے کم نہیں ہو گا‘ جہاں پہلے ہی عوام کیلئے 410 روپے فی لیٹر پٹرول خریدنا محال ہو چکا ہے اور غریب طبقہ بری طرح پِس رہا ہے۔ ایسے میں پٹرول کی قیمت 1000 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچنے سے ملک میں ٹرانسپورٹیشن مفلوج ہو جائے گی اور کھانے پینے کی اشیا‘ ادویات اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہو جائیں گی‘ جس سے مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آئے گا جو معاشرتی امن وامان کو یکسر تباہ کر دے گا‘ یہی صورتحال دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک میں ہو گی۔
سفارتی ناکامی کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین بھی مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی کیونکہ اس وقت عارضی تعطل کی وجہ سے آبنائے ہرمز‘ جہاں سے دنیا کا 20 فیصد سے زائد تیل گزرتا ہے‘ سے بحری جہازوں کی آمد ورفت تاخیر سے ہی سہی‘ لیکن کسی حد تک جاری ہے۔ دوبارہ جنگ کے آغاز میں ہی ایران اس اہم گزرگاہ کو بند کر دے گا جس کے بعد دنیا کو نہ صرف توانائی کے بدترین بحران کا سامنا ہو گا بلکہ روزمرہ کے استعمال کی اشیا‘ سیمی کنڈکٹرز اور غذائی اشیا کی ترسیل بند ہونے سے کارخانے بند ہو جائیں گے اور کروڑوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔
ایسے میں پاکستان نے حالات کو کوسنے اور خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے عالمی امن کے لیے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے کا جرأت مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ شروع میں اندازہ کیا جا رہا تھا کہ حالات جلد سدھر جائیں گے مگر اب تک تمام اندازے غلط ثابت ہورہے ہیں۔ اگر عالمی برادری اب بھی بیدار نہ ہوئی اور پاکستان کی امن پسند آواز میں اپنی آواز شامل نہ کی تو مشرق وسطیٰ کی جنگ ایسی شکل اختیار کر جائے گی جس پر بعد میں پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved