اپنے بارے میں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ دھر لیے جائیں اور 48 یا 72 گھنٹے زیر حراست رہیں تو کوئی بھی بیان دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سفید کاغذ ہمارے سامنے رکھنے کی دیر ہو اور فوراً سے پہلے ہم دستخط کر دیں۔ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اپنی ہمت کا اندازہ ہے۔ اس لیے حیرانی ہوئی یہ دیکھ کر کہ انمول پنکی نامی خاتون کو عدالت میں پیش کیا گیا اور کس دھڑلے سے اس نے بولنے کی کوشش کی۔ مناظر دیکھ کر لگا یوں کہ کراچی کی آدھی پولیس انتظامیہ اسے چپ کرانے کی کوشش میں ہے اور خاتون اپنی آواز بلند کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ پولیس کے جوانوں نے یہ تماشا بھی لگایا کہ پنکی نے آواز نکالی اور انہوں نے ہو ہو کرنا شروع کر دیا تاکہ اس کی بات کی سمجھ نہ آئے۔ پہلی پیشی پر بنی گالہ کا بھی کہیں ذکر ہوا کہ مجھ سے پتا نہیں کس قسم کے بیان دلوانے کی کوشش کی گئی۔ الزام پنکی پر کوکین کی سپلائی کرنے کا ہے اور بنی گالہ کا ذکر شاید اس ضمن میں آیا۔ ہم ہوتے تو بنی گالہ چھوڑ کر شمالی کوریا کے کسی شخص کے خلاف بیان دینے کا کہا جاتا تو دیر نہ کرتے۔
سنا ہے کہ خاص طبقات میں کوکین کا استعمال پاکستان میں خاصا عام ہے۔ دیگر اشیا کے بارے میں تو کچھ نہ کہیں گے لیکن کوکین اور اس قسم کی چیزوں سے کبھی آشنائی نہیں رہی۔ اخلاقی بنیادوں پر نہیں‘ یہ واضح کرنا ضروری ہے‘ بلکہ کئی چیزیں طبیعت کو بھاتی ہیں اور کئی ناگوار لگتی ہیں۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری سمجھ رہے ہیں کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ کوکین کی مبینہ سپلائی کے ضمن میں ہماری کوئی ہمدردی ہو سکتی ہے۔ بہرحال کچھ شک اس امر سے ابھرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ لازم نہیں کہ جو نظر آتا ہے وہ ہی حقیقت ہو۔ جس طریقے سے انمول پنکی کا سکینڈل منظرِعام پر آیا اور خبروں کی زینت بنایا گیا قدرتی طور پر سوال اٹھتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی اور مسئلہ تو نہیں؟
جس طریقے سے انمول پنکی کی پہلی پیشی ہوئی اور ایک دم سے شور اٹھا کہ دیکھیں بغیر ہتھکڑی اسے لے جایا جا رہا ہے اور پولیس اسے پروٹوکول دے رہی ہے حالانکہ ہماری گناہگار آنکھوں نے ان تصاویر میں کوئی پروٹوکول نام کی چیز نہیں دیکھی‘ تو شک گزرا کہ اس طرح یہ مسئلہ کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ پھر تواتر سے خبریں آئیں کہ کوکین سپلائی کرنے کے دھندے کی کوئی بہت ہی بڑی کردار ہیں اور ان کے گاہکوں کی بہت لمبی چوڑی فہرست ہے اور ان کا کاروبار لاہور سے کراچی تک پھیلا ہوا ہے۔ سب باتیں ہم مان گئے لیکن کچھ دھڑکا سا دل میں محسوس ہوا یہ پڑھ کر کہ انمول پنکی نے لاہور میں کہیں 45 ہزار ماہانہ پر گھر لیا ہوا تھا۔ ہم سمجھے تھے کہ اتنی بڑی ڈرگ ملکہ ہیں تو کوٹھیاں کہیں پوش علاقوں میں ہوں گی‘ چمکیلی گاڑیوں کی قطار ہو گی‘ کلاشنکوفیں اٹھائے کالی وردیوں میں ملبوس محافظ ہوں گے۔ 45 ہزار ماہانہ کا سن کر یوں سمجھیے دل بیٹھ گیا کہ کیسی ڈرگ ملکہ اور کیسا اس کا دھندا۔ ویسے بھی سارے الزامات درست ہوں تب بھی اتنی تشہیر اور آہ و بکا کی کیا ضرورت؟
دھندے مختلف ہماری سرزمین پر چلتے ہی ہیں‘ یہ کوئی نئی بات تو نہیں۔ شبِ غم کی جو خاص دوا مانی جاتی ہے اس کا دھندا وسیع پیمانے پر مملکت کے ہر بڑے شہر میں پایا جاتا ہے۔ کوئی چھاپے نہیں پڑتے کوئی سرخیاں نہیں بنتیں کیونکہ بڑے منظم اور شریفانہ طریقے سے یہ دھندے چلائے جاتے ہیں۔ مبینہ طور پر متعلقہ حکام کو منتھلیاں پہنچتی رہتی ہیں اور شرفا کے کام میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ یہ تو بے چارے چھوٹے پیمانے کے وارداتیے پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ تصاویر اور خبریں تو ہم سب نے دیکھی ہیں کہ کسی تھانے میں تھانیدار صاحب اور کچھ ساتھ اہلکار میز کے پیچھے بیٹھے ہیں‘ میز پر بوتلوں کی ایک لائن ہے اور کمرے کے دائیں بائیں سڑیل قسم کے مشتبے کھڑے ہیں۔ بڑے لوگ جو اِن دھندوں میں ملوث پائے جاتے ہیں وہ کبھی تھانوں کی زینت نہیں بنتے۔ پنکی کے بارے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کہانی کے پیچھے کیا ہے اور اتنی تشہیر کا مقصد کیا ہے۔ یعنی سامنے تو ہم پنکی کو دیکھ رہے ہوں لیکن اصلی ٹارگٹ اس سارے ماجرے کا پتا نہیں کیا یا کون ہو۔
تھوڑی زیادہ عمر کے لوگوں کو یاد ہو گا کہ میاں نواز شریف کی دوسری وزارتِ عظمیٰ میں مولانا سمیع الحق مرحوم سینیٹ میں ایک تقریر کر بیٹھے جو (ن) لیگ حکومت پر گراں گزری۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اگلے ہی روز ایک انگریزی معاصر میں ایک سنسنی خیز خبر چھپی کہ میڈم طاہرہ نامی ایک خاتون ہیں جو اسلام آباد میں اونچے لیول کا قحبہ خانہ چلاتی ہیں اور ان کے گاہکو ں میں کئی بڑے نام شامل ہیں اور اشارہ مولانا مرحوم کی طرف کیا گیا۔ سکینڈل کو ایسا اچھالا گیا اور اس میں وہ وہ تفصیلات بیان کی گئیں کہ کردار کشی کی حد ہو گئی۔ مولانا خبر کی تردید کرتے بھی تو کیا کرتے کیونکہ جب اتنا شور اٹھے تو تردید یا انکار بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ حکمران جماعت نے جو وقتی فائدہ اٹھانا تھا وہ اٹھا لیا اور کسی کو کوئی ندامت محسوس نہ ہوئی کہ ایک سیاسی مقصد پورا کرنے کے لیے اتنا گھناؤنا ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ اس دن سے لے کے آج تک یہ نہ معلوم ہو سکا کہ وہ قحبہ خانہ کس پتے پر چلتا تھا اور میڈم طاہرہ کون تھیں یا اصل میں تھیں بھی یا نہیں۔ یاد پڑتا ہے کہ چند دوستوں سے ہم نے پوچھا کہ میڈم طاہرہ کا ایڈریس تو پتا چلے‘ لیکن اس کا کوئی جواب نہ مل سکا۔
انمول پنکی کی حقیقت جو بھی ہو ہم تو اس کی ہمت کو دیکھ رہے ہیں۔ ہماری گناہگار آنکھوں نے تو یہ دیکھا ہے کہ دباؤ پڑنے پر بڑے بڑے رستم سرنگوں ہو جاتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہیں لیکن اکثریت ہمارے جیسوں کی ہوتی ہے کہ دباؤ پڑا یا زیر حراست ہوئے تو ہر چیز ماننے کو تیار ہو گئے۔ پنکی کا کتنے روز کا جسمانی ریمانڈ ہوا ہے؟ پولیس جسمانی ریمانڈ مانگے جا رہی ہے اور متعلقہ جج یا مجسٹریٹ بھی بہت سخی ثابت ہو رہے ہیں کہ ریمانڈ دیے جا رہے ہیں۔ لیکن منظر ہمارے سامنے ہے کہ پنکی ٹوٹی نہیں اور کسی شمالی کوریا قسم کا بیان نہیں دے رہی۔ کل کیا ہو‘ نہیں کہہ سکتے لیکن اب تک تو بڑے بڑوں سے پنکی کی ہمت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
اس سارے افسانے سے تو وہ روداد یاد آتی ہے جو سعید مہدی کی حالیہ کتاب میں درج ہے۔ لکھتے ہیں کہ جب انڈر ٹریننگ اسسٹنٹ کمشنر ملتان میں تھے تو تب کے کمشنر کے خلاف ایک انکوائری ہو گئی۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء کا زمانہ تھا۔ کمشنر صاحب کے خلاف جنہوں نے گواہیاں دیں وہ سب ان کے ماتحت افسر رہ چکے تھے۔ یعنی انہیں کوئی شرم نہ آئی کہ اپنے سابقہ باس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ کمشنر صاحب کو گانوں کی محفلوں کا شوق تھا اور اس ضمن میں مشہور گلوکاراؤں اقبال بانو اور ثریا ملتانیکر کو بھی انکوائری میں بلایا گیا۔ ان دونوں خواتین نے کمشنر صاحب کے خلاف ایک لفظ کہنے سے انکار کر دیا۔ بڑے بڑوں کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ بڑے بڑوں کے جھوٹ ہمارے سامنے ہیں۔ کردار کے حوالے سے اقبال بانو یا ثریا ملتانیکر کا مقابلہ ہمارے نام نہاد بڑے لوگ کیا کریں گے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved