تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     20-05-2026

اندرا گاندھی اور وزیراعظم ہائوس کی ایمبولنس… (2)

یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کی رہائشگاہ پر کوئی ڈاکٹر یا ایمبولینس نہیں ہوگی۔ ایمرجنسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم بات تھی کہ امرتسر میں گولڈن ٹیمپل پر فوجی چڑھائی کے بعد اندرا گاندھی اور ان کے خاندان کو روزانہ دھمکیاں مل رہی تھیں۔ گزشتہ رات اندرا گاندھی کی اُڑیسہ جلسے سے جلد بازی میں دہلی واپسی کی وجہ ان کے پوتے پوتی کی گاڑی کا حادثہ تھا جسے ان دھمکیوں سے جوڑا جارہا تھا لیکن اس کے باوجود وزیراعظم ہائوس میں سکیورٹی‘ ایمبولینس‘ بلڈ سپلائی یا خصوصی میڈیکل ٹیم کچھ بھی نہیں تھا۔ ان اہم ایشوز پر کبھی کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔ یہی وجہ تھی کہ اب سونیا گاندھی اپنی زخمی ساس کو اندرا گاندھی کے سیکرٹری کی مدد سے ایمبیسڈر گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے جارہی تھیں۔ جب لہولہان اندرا کو گاڑی میں لے کر آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچے تو وہاں ان کا سامنا جونیئر ڈاکٹرز سے ہوا‘ جن کے باقاعدہ ہاتھ پائوں پھول گئے کہ ملک کی وزیراعظم خون میں لت پت ان کے سامنے پڑی تھی۔ جب تک ان کے سینئرز وہاں پہنچے‘ اندرا گاندھی کو ہارٹ؍ لَنگ بائی پاس مشین پر ڈالا جا چکا تھااور انہیں خون لگایا جا رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے اندرا گاندھی کو دوپہر دو بج کر بیس منٹ تک مردہ قرار نہیں دیا تھا۔ تاہم یہ طے تھا جب انہیں ہسپتال لایا گیا تھا تو طبی طور پر ان کی موت ہوچکی تھی۔ ہسپتال کے ایم ایس نے بعد میں کہا کہ اندرا گاندھی کے جسم میں بیس گولیاں لگی تھیں۔ ان گولیوں نے وزیراعظم کے جگر‘ گردوں‘ بازوئوں او ر جسم کے دائیں حصوں کو بری طرح نشانہ بنایا تھا۔ اگرچہ اندرا گاندھی کی موت ہوچکی تھی لیکن آل انڈیا ریڈیو کو ابھی تک سرکاری طور پر یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ یہ خبر نشر کر سکے۔ شام چھ بجے ریڈیو کو کہا گیا کہ اب وہ یہ خبر نشر کر سکتے ہیں۔ جب ریڈیو سے یہ خبر نشر کی گئی تو اس سے پانچ گھنٹے پہلے ہی لاکھوں بھارتیوں کو بی بی سی‘ لوکل نیوز ایجنسی اور دیگر نیوز اداروں سے علم ہوچکا تھا کہ وزیراعظم کو قتل کر دیا گیا ہے۔
باقی بھارتیوں کو چھوڑیں کہ انہیں بی بی سی سے پتا چلا‘ وزیراعظم کے بیٹے راجیو گاندھی کو بھی بی بی سی کی خبر سے اپنی ماں کے قتل کا علم ہوا‘ جو اس وقت کلکتہ سے دور ایک علاقے میں اپنی پارٹی کانگریس کیلئے الیکشن مہم چلا رہے تھے۔ ایک پولیس پارٹی نے ان کے جلوس کو راستے میں روکا اور انہیں کہا گیا کہ وہ فوراً دہلی پہنچیں کیونکہ وہاں کچھ بہت خطرناک ہوا ہے۔ راجیو گاندھی کو ہیلی پیڈ کی طرف لے جایا گیا جہاں سے انہیں کلکتہ ایئرپورٹ پر لایا گیا۔ وہاں راجیو گاندھی نے حالات جاننے کیلئے بی بی سی ریڈیو ورلڈ سروس کی ساڑھے بارہ بجے کی خبریں سنیں جہاں ستیش جیکب یہ رپورٹ دے رہے تھے کہ اندرا گاندھی کی حالت بہت خراب ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ستیش جیکب نے لندن میں بی بی سی ہیڈکوارٹر کو یہ خبر کنفرم کی کہ بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی ہلاک ہوگئی ہیں۔ راجیو گاندھی کلکتہ سے نیو دہلی فلائٹ لے کر پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر ان کے سب سے قریبی دوست اور فلم سٹار امتیابھ بچن نے انہیں ریسو کیا۔ امیتابھ بچن نے بعد میں بتایا کہ راجیو گاندھی جونہی جہاز سے باہر نکل کر ان سے ملے تو سب سے پہلا سوال یہ پوچھا کہ ان کی بیوی اور بچے خیریت سے ہیں ؟ پھر انہوں نے سکیورٹی کا پوچھا۔ راجیو گاندھی ایئرپورٹ سے سیدھا ہسپتال پہنچے جہاں ان کی ماں کی میت رکھی تھی۔ جب ہسپتال کے گیٹ پر پہنچے تو وہاں بہت رش تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ راجیو گاندھی کیلئے ہسپتال کے اندر جانا مشکل ہورہا تھا۔ اچانک راجیو نے اپنے ساتھ موجود امیتابھ بچن سے ان کی بیماری کے بارے پوچھا اور کہا: تم خود کیسے ہو ؟ کیسی طبیعت ہے تمہاری؟ راجیو امتیابھ بچن کو بتانے لگا کہ جب میں کلکتہ میں تھا تو وہاں ایک بندہ انہیں ملا جس نے کہا کہ اس کے پاس تمہاری بیماری کا علاج ہے‘ میں چاہتا ہوں کہ تم اس بندے سے ملو‘میں تمہیں اس کے بارے بتائوں گا۔ مارک ٹلی راجیو کے بارے میں لکھتا ہے کہ اس کی شخصیت کی خوبصورتی دیکھیں کہ ماں قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوچکی ہے‘ وہ ہسپتال کے گیٹ پر عوام کے رش کی وجہ سے اندر نہیں جا پا رہا لیکن اسے کو اس حالت میں بھی اپنے دوست امتیابھ بچن کی بیماری اور علاج کی فکر تھی اور اس کا وہ اپنے تئیں علاج ڈھونڈ لایا تھا۔ راجیو گاندھی کی اس ایک بات نے مارک ٹلی کو بہت متاثر کیا۔
اندرا گاندھی جو تیسری دفعہ وزیراعظم بنی تھیں‘ وہ قتل ہونے والی پہلی بھارتی وزیراعظم تھیں۔ اگرچہ اپنے باپ جواہر لال نہرو کی طرح ان کی موت بھی بطور وزیراعظم ہی ہوئی تھی۔ لال بہادر شاستری بھی اس وقت وزیراعظم تھے جب 65ء کی جنگ کے بعد جنرل ایوب کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد وہ اسی رات تاشقند میں انتقال کر گئے تھے۔ جب نہرو اور شاستری کی وفات ہوئی تو ان کی جگہ فوری طور پر سینئر وزیر کو نگران وزیراعظم کا چارج دیا گیا تاکہ پارٹی کو نیا وزیراعظم منتخب کرنے کا موقع مل سکے۔تاہم اس دفعہ سینئر کانگریس لیڈر پرناب مکھرجی‘ جو کلکتہ کی الیکشن مہم میں راجیو گاندھی کے ساتھ تھے‘ انہوں نے فوراً فیصلہ کیا کہ اس روایت کو توڑ کر فوری طور پر 39 سالہ سابق پائلٹ راجیو گاندھی کو وزیراعظم بنایا جائے۔ اسی شام دربار ہال میں سکھ صدر گیانی ذیل سنگھ نے راجیو گاندھی سے ایوانِ صدر میں نئے وزیراعظم کا حلف لیا۔ اگرچہ اپوزیشن راہنمائوں نے اس روایت کو توڑنے پر شدید تنقید کی لیکن بعد میں ثابت ہو گیا کہ یہ درست فیصلہ تھا۔
اندراگاندھی نے وزیراعظم ہوتے ہوئے کسی کو اوپر نہیں ابھرنے دیا کہ جس کا قد کاٹھ اتنا بڑا ہوتا کہ وہ اس خطرناک اور غیر یقینی صورتحال میں ملک کو سنبھال پاتا۔ ملک میں استحکام قائم رکھنے کا اُس وقت ایک ہی حل تھا کہ نہرو خاندان ہی کے کسی ممبر کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔ اگرچہ راجیو گاندھی کے پاس اُس وقت کوئی سرکاری عہدہ یا وزارت نہ تھی لیکن ان کی ایک خاصیت ایسی تھی جو ملک چلانے کیلئے پورے بھارت میں کسی اور کے پاس نہیں تھی اور وہ تھی نہرو خاندان کا فرزند ہونا۔ سیاسی وراثت کا اکلوتا وارث۔ جب اندرا گاندھی کی ہلاکت کی خبر پھیلی تو اسی شام نیو دہلی میں سکھوں کا قتلِ عام شروع ہو گیا۔ دو سکھ گارڈز نے اندرا کو قتل کیا تھا لہٰذا انتقام کے طور پر ہندوئوں نے سکھوں کو مارنا شروع کر دیا۔ دو سے تین ہزار سکھ اس دوران مارے گئے‘ ان کے گھر جلائے گئے۔ نیو دہلی میں دو دن تک خون کی ہولی کھیلی گئی۔ کانگریس پارٹی کے ورکرز جھتے بنا کر سڑکوں اور گلیوں میں مسلح ہو کر پھرتے اور جو سکھ نظر آتا اسے کاٹ ڈالتے۔ بعض جگہوں پر تو پولیس نے بھی ان کے ساتھ مل کر سکھوں کا قتلِ عام کیا۔ سکھوں کو ٹرینوں سے اتار کر قتل کیا گیا‘( وہی مناظر جو 1947ء میں نظر آئے تھے)۔ افواہیں پھیلائی گئیں کہ سکھ اندرا گاندھی کے قتل پر جشن منا رہے تھے۔ اگرچہ کچھ جگہوں پر سکھوں نے مٹھائی بھی بانٹی۔ ایک ٹرین پنجاب سے دہلی پہنچی تو اس میں سکھوں کی لاشیں بھری تھیں۔ بعد میں حکومت نے تسلیم کیا کہ 2717 سکھ مارے گئے‘ جن میں 2150 صرف نیو دہلی کے فسادات میں مارے گئے۔ باہر سے لا کر دہلی میں سکھوں کو مارا گیا۔ بعض سکھوں کو لوکل ہندوئوں نے گھروں میں پناہ دے کر ان کی جان بچائی۔
سکھوں کا دہلی میں قتل عام جاری تھا کہ راجیو گاندھی کو بتایا گیا کہ انہیں فوری کچھ کرنا ہوگا ورنہ پورا دہلی جلا دیا جائے گا اور کوئی سکھ نہیں بچے گا۔ راجیو گاندھی کی ماں کی میت ابھی وہیں رکھی تھی اور آخری رسومات ہونے والی تھیں‘ جب یہ پیغام ملا۔ یہ اندرا گاندھی کے قتل کا چوتھا روز تھا اور ہر طرف موت کا راج تھا۔ راجیو نے کچھ دیر سوچا اور اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور بولا: آئو چلیں۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved