تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     20-05-2026

آتشِ رفتہ

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں کالج میں پڑھتا تھا۔ اُن دنوں تفریح کے ذرائع بہت کم تھے اور میری تفریح تو صرف کتابوں اور رسالوں تک محدود تھی۔ اُس زمانے کے ڈائجسٹوں میں اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ نمایاں تھے۔ انہی دنوں سید قاسم محمود نے اپنی شاہکار کتابوں کی اشاعت کا آغاز کیا تھا اور اشاعتی حلقوں میں ہلچل سی مچ گئی تھی۔ شاہکار کتابوں کی سیریز میں قاسم محمود معروف ادیبوں کی کتابیں شائع کرتے۔ ہر ہفتے ایک نئی کتاب شائع ہوتی۔ شاہکار کتابیں کتابی سائز‘ پاکٹ سائز اور میگزین سائز میں شائع ہوتیں۔ اس سیریز میں کیسی کیسی کتابیں شائع ہوئیں۔ اس اشاعتی انقلاب کی خاص بات یہ تھی کہ شاہکار کتابوں کی قیمتیں بہت کم ہوتی تھیں۔ تقریباً ایک تہائی! اب ہمارے لیے کتاب خریدنا مشکل نہ رہا تھا۔ اسی سیریز میں جمیلہ ہاشمی کا ناولٹ آتشِ رفتہ شائع ہوا۔ یہ میرا جمیلہ ہاشمی سے پہلا تعارف تھا۔ اس کے بعد منصور حلاج کے حوالے سے ان کا ناول دشتِ سوس شائع ہوا اور اردو دان طبقے میں خاصا مقبول ہوا۔ خاص طور پر اس کی ڈِکشن کا بڑا چرچا ہوا جس میں ایک خاص نغمگی اور غنائیت تھی۔ شاید اس لیے جمیلہ ہاشمی نے اس کا نام دشتِ سوس (ایک غنائیہ) رکھا تھا۔
اس بات کو کئی برس بیت گئے۔پھر 2013ء آ گیا جب مجھے ایک ورکشاپ کے سلسلے میں نیپال جانے کا اتفاق ہوا۔ ورکشاپ کے شرکا میں اور لوگوں کے علاوہ معروف تجزیہ کار اور مصنفہ عائشہ صدیقہ بھی تھی۔ ہم ایک ہفتہ نیپال میں رہے‘ اس دوران اکیڈیمک سیشنز کے علاوہ نیپال کے سیاحتی مقامات کی سیر بھی کی۔ یہ ایک یادگار وقت تھا۔ ایک دن ہم لنچ کر رہے تھے۔ میری میز پر عائشہ بیٹھی تھیں۔ باتوں باتوں میں اردو ادب کا ذکر آگیا اور پھر آتشِ رفتہ اور دشتِ سوس کی مصنفہ جمیلہ ہاشمی کا تذکرہ۔ عائشہ جمیلہ ہاشمی کے ذکر پر مسکرائیں اور مجھے کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے جمیلہ ہاشمی میری والدہ تھیں۔ یہ میرے لیے ایک انکشاف تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کیسا اتفاق ہے کہ ماں بیٹی دونوں اپنی پُر اثر تحریروں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔ تب میں نے عائشہ کو بتایا کہ کس طرح آتشِ رفتہ نے مجھے جمیلہ ہاشمی سے متعارف کرایا۔ یوں تو عائشہ سے تعارف پہلے سے تھا لیکن اب جمیلہ ہاشمی کا بھی حوالہ نکل آیا تھا۔ یوں عائشہ کی شخصیت میرے لیے اور محترم ہو گئی۔ پھر عائشہ طویل عرصے کیلئے پاکستان سے باہر چلی گئیں۔
اب تو ان سے ملے ایک مدت ہو گئی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ زندگی کے راستے بھی کتنے بے ترتیب سے ہوتے ہیں۔ کچھ پتا نہیں چلتا اگلے موڑ پہ کیا ہو جائے۔ تب ایک دن اچانک جمیلہ ہاشمی کی یاد نے پھر سے میرے پہلو میں سر اٹھایا۔ اُس روز میں یونیورسٹی سے گھر پہنچا تو ایک پیکٹ میرا انتظار کر رہا تھا۔ کھول کر دیکھا تو یہ جمیلہ ہاشمی کے ناولٹ آتشِ رفتہ کا نیا ایڈیشن تھا ۔یہ پیکٹ مجھے کسی دوست نے بھیجا تھا۔ آتشِ رفتہ مجھے اُس دور میں لے گیا جب میں راولپنڈی کے گورڈن کالج میں پڑھتا تھا اور جب پہلے پہل میں جمیلہ ہاشمی سے متعارف ہوا تھا۔ وہ بھی کیا دن تھے آتشِ رفتہ کی کہانی نے ایک عرصے تک مجھے اپنے حصار میں لیے رکھا۔ اور آج مدت کے بعد میں یہ کہانی پھر سے پڑھ رہا تھا۔
آتشِ رفتہ کی کہانی کیا ہے۔ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کی داستان ہے جو چار نسلوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ جس میں محبت‘ جبر‘ انتقام‘ روایت‘ یادداشت‘ وقت اور تجدید کے موضوعات شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی کہانی ہے لیکن علامتوں کے آئینوں میں معانی عکس در عکس نمودار ہوتے ہیں‘ یوں 'آتشِ رفتہ‘ کی کہانی ایک عام کہانی نہیں رہتی بلکہ ایک خاص فکری متن میں بدل جاتی ہے۔ آتشِ رفتہ ایک ایسی آگ ہے جو بظاہر تو بجھ چکی ہے مگر اس کی تپش اور حرارت ایک اضطراب کی شکل میں باقی ہے۔ آتشِ رفتہ کی علامت ایک طرف تو انفرادی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے جن میں کردار اپنی گزری ہوئی زندگی کے واقعات کو یاد کرتے ہیں اور دوسری سطح پر یہ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کی داستان ہے جس کی راکھ وقت کے آتش دان میں ابھی تک سلگ رہی ہے۔ ناول کی ڈکشن میں ایک خاص طرح کی نغمگی اور لطافت ہے جو جمیلہ ہاشمی کے اسلوب کا اختصاص ہے۔ ناول کے امیجز‘ تشبیہات اور استعارے پنجاب کی دیہی زندگی کے گرد و پیش سے کشید کیے گئے ہیں جو کہانی کی تفہیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ناول کی ایک اہم جہت اس کے جیتے جاگتے کردار ہیں جو زندگی سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں‘ لیکن داخلی کشمکش اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
ناول کا مرکزی کردار دلدار سنگھ ہے جس کے باپ کو قتل کے الزام میں پھانسی ہو جاتی ہے اور جس کی دادی اس دن کا انتظار کر رہی ہے جب وہ جوان ہو کر سردار امرسنگھ سے اپنے باپ کا بدلہ لے گا۔ دوسری طرف دیپو (کلدیپ کور) کا کردار ہے جو سردار امر سنگھ کی بیٹی ہے اور جس کا سراپا دلدار سنگھ کی آنکھوں میں بس گیا ہے۔ دلدار سنگھ کی دادی کرتار کور بھی ناول کاایک اہم کردارہے جو تمام تر سماجی دباؤ کے باوجود ایک پدر شاہی معاشرے میں پوری جرأت اور بے خوفی سے زندگی اپنی شرائط پر جینا چاہتی ہے۔ ناول کی کہانی Non-linear انداز میں آگے بڑھتی ہے اور مسلسل ماضی اور حال کے درمیان سفر کرتی ہے۔ دلدار سنگھ‘ جو اس کہانی کا راوی بھی ہے‘ کہانی سناتے سناتے ایک مقام پر خود سامع بن جاتا ہے اور اس کی دادی راوی کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں دادی اور بچوں کے درمیان مکالمے سے ایک طرف کہانی کی گرہیں تہہ در تہہ کھلتی ہیں اور دوسری طرف کہانی کے کچھ نادیدہ گوشوں کے بارے میں تجسّس بڑھ جاتا ہے۔ ناول میں وقت اور یادداشت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ماضی کے مٹتے ہوئے واقعات جو دادی کی یادداشت میں زندہ ہیں‘ کہانی کے میڈیم کے ذریعے نئی نسل تک پہنچتے ہیں۔ مجموعی طور پر 'آتشِ رفتہ‘ ماضی کے جھٹپٹے میں انفرادی اور اجتماعی یادداشت اور شناخت کی بازیافت کی کہانی ہے جسے جمیلہ ہاشمی کے سحرانگیز اسلوب نے امر بنا دیا ہے۔
آج مدت بعد آتشِ رفتہ کی کہانی پڑھ کر مجھے اس کی ایک نئی تفہیم ملی۔ مجھے یوں لگا کہ میں بھی ایک آتشِ رفتہ کا اسیر ہوں۔ وہ آگ جو کب کی سرد ہو چکی ہے لیکن جس کے خاکستر میں چنگاریاں اب بھی باقی ہیں۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب میں گورڈن کالج میں پڑھتا تھا۔ راولپنڈی کے چائے خانے ہماری آماجگاہ ہو اکرتے تھے۔ جب راولپنڈی بینک روڈ پر ہم پہروں بے مقصد گھومتے رہے تھے۔ جب دھوپ ڈھل جاتی تو ہم گورڈن کالج کے عقب میں کالج روڈ پر واقع زمزم ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے جہاں ہوٹل کے باہر ایک قدیم سایہ دار درخت کے نیچے لکڑی کی کرسیاں اور میز بچھے ہوتے اور جہاں چائے کانچ کے چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں ملا کرتی تھی۔ اب نہ زمزم ہوٹل رہا اور نہ وہاں بیٹھنے والے۔ کالج روڈ جو کبھی ایک پُرسکون سڑک ہوا کرتی تھی اب ایک مصروف تجارتی مرکز بن گئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ماضی سے جڑی سب چیزیں وقت کے غبار میں چھپ گئی ہیں۔ آج جمیلہ ہاشمی کے ناولٹ آتشِ رفتہ نے ماضی کے بند دریچے کھول دیے ہیں اور میں تصور کے گلی کوچوں میں ہر چیز کو حیرت سے دیکھ رہا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کیا واقعی میں کبھی ان منظروں کا حصہ تھا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved