تحریر : سلمان غنی تاریخ اشاعت     20-05-2026

وزیر داخلہ کا دورۂ ایران، ٹائمنگ اہم کیوں؟

وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورۂ ایران کو اس کی ٹائمنگ اور مقاصد کے حوالے سے سفارتی منظرنامے پراہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان‘ اپنے ہم منصب اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اہم حکومتی ذمہ داران سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ سفارتی حلقوں میں اس دورے کو امریکہ ایران مذاکرات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین تنائو کی کیفیت ختم ہو اور مذاکراتی عمل کی بحالی کے ساتھ معاملات نتیجہ خیزی کی جانب بڑھیں۔ وزیر داخلہ کے دورۂ ایران سے مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں۔ ایک طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ مذاکرات کیلئے امریکی پیغامات آئے ہیں‘ دوسری طرف ایرانی قیادت جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے حوالے سے پاکستانی کردار کی تعریف کرتی نظر آتی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے محسن نقوی سے ملاقات میں جنگ بندی اور امریکہ ایران تنازع کے پُرامن حل کیلئے پاکستانی لیڈرشپ خاص طور پر وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مسئلے کے پُرامن حل کا خواہاں ہے اور اس ضمن میں پاکستانی کردار کو سراہتا اور اسے ممکنہ تعاون فراہم کرتا نظر آتا ہے۔ ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد خطے سے باہر کے ممالک کی مداخلت کے امکانات کم کر سکتا ہے اور اسلامی ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد دیرپا امن واستحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جنگی صورتحال میں ایران اور پاکستان پہلے سے زیادہ قریب آئے ہیں اور یہ دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلقات کا اچھا موقع ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے خطے میں امن واستحکام کی کوششوں کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ مذکورہ ملاقات میں امن اور جنگ بندی کے خاتمے کے حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا خصوصی ذکر ہوا۔ قبل ازیں پاکستانی سپہ سالار نے خود تہران کا دورہ کیا تھا اور ان کے اس دورے کے بعد تہران نے امریکہ ایران مذاکراتی عمل میں مثبت طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا تھا۔ اب نئے پیدا شدہ حالات میں وزیر داخلہ کے دورے کو اُس دورے کا فالو اَپ اور تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکراتی عمل کی بحالی کے پیغامات آئے ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم پاکستان کے ثالثی عمل کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی نتیجہ خیزی کے حوالے سے جو بھی ممکن ہوا کریں گے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی لیڈرشپ نے امریکہ اوراسرائیلی حملے کے بعد نہ صرف جارحیت کی مذمت کی بلکہ مسائل کے سیاسی حل کیلئے عملاً کوشاں بھی رہے۔ اسی سبب امریکہ اور ایران مذاکرات کیلئے تیار ہوئے۔
پاک ایران تعلقات کی تاریخ دیکھی جائے تو ماضی قریب تک پاکستان سے ہمسائیگی کے باوجود ایران کا جھکائو بھارت کی طرف رہا لیکن ایران پر حملے کے بعد پاکستان نے ایران کے ساتھ برادرانہ رویہ اختیار کیا ۔ پاکستان کے اس طرزِ عمل کے جواب میں ایرانی لیڈرشپ کا رویہ بھی مثبت رہا۔ اب بھی جب کشیدگی اورتنائو نے پورے خطے کو غیر یقینی کیفیت میں ڈال رکھا ہے تو پاکستان کوششیں کر رہا ہے کہ وہ کسی ایک فریق کا ساتھی بننے کے بجائے توازن کی پالیسی اختیار کرے اور تنازع کے حل کی جانب پیشرفت ہو۔ وزیر داخلہ کے دورۂ تہران کو اسی سفارتی توازن کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ بلاشبہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار علاقائی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے‘ خاص طور پر ایران اور عرب ممالک کے درمیان توازن قائم کرنے میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا جسے متعلقہ ممالک بھی تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان کے عملی کردار کو دیکھا جائے تو یہ صرف امریکہ اور ایران کے مابین ہی نہیں ایران اور عرب ممالک کے درمیان بھی پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جہاں تک چین کے کردار کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ایک بات واضح ہے کہ وہ جنگوں کا قطعی حامی نہیں۔ نئی پیدا شدہ صورتحال میں بھی اس کی ترجیح ہے کہ معاملات مذاکرات سے طے ہوں۔ ثالثی کی کوششوں میں چین کی موجودگی صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ چین یہی چاہتا ہے کہ خطے میں استحکام ہو کیونکہ سی پیک‘ ایرانی توانائی اور علاقائی تجارت سب اس سے جڑے ہوئے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی جو قومی سلامتی کے اہم معاملات سے بھی منسلک ہیں‘ کے دورے کو سرحدی وعلاقائی سکیورٹی اور داخلی امن سے بھی جوڑا جا رہا ہے‘ لہٰذا یہ محض ایک سفارتی دورہ نہیں بلکہ سکیورٹی ڈپلومیسی کا حصہ ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ مضبوط روابط کے ذریعے شاید یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ خطے میں کسی ممکنہ تصادم سے خود کو دور رکھتے ہوئے ثالثی یا کم از کم رابطہ کار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وزیر داخلہ کے دورۂ تہران سے امریکہ ایران مذاکرات پر فوری براہ راست اثرات کم ہوں لیکن بالواسطہ طور پر اس دورے کی اہمیت برقرار ہے اور عالمی اور علاقاتی سطح پر بڑا واضح تاثر ہے کہ پاکستان ثالثی کے عمل پر خاموش نہیں بلکہ سرگرمِ عمل ہے اور اس چیلنج میں سرخرو ہونا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان ایران کے ساتھ سیاسی روابط مضبوط کرتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی اور امریکہ بھی اس وقت مکمل محاذ آرائی کے بجائے کنٹرولڈ انگیجمنٹ کی حکمت عملی اختیار کئے نظر آتا ہے۔ اس لیے پاکستان کا متوازن کردار واشنگٹن کیلئے مکمل طور پر منفی نہیں ہوگا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو حقیقت کے زیادہ قریب ہوگا کہ امریکہ پاکستان کی کوششوں اور کاوشوں کو مسائل کے حل میں صحت مند رجحان کے طور پر دیکھتا ہے‘ جس کی بڑی مثال گزشتہ دنوں امریکی چینل کی جانب سے ایرانی طیاروں کی نور خان ایئربیس پر موجودگی کو جواز بنا کر پاکستان کی مذاکراتی اور ثالثی کوششوں سے متعلق کنفیوژن پھیلانے کی کوشش ہے جس کے فوری بعد خود صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے ثالثی اور سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف کی گئی۔ مطلب یہ کہ شاید صدر ٹرمپ بھی امریکہ ایران مذاکراتی عمل میں کوئی ڈیڈلاک نہیں چاہتے اور پاکستان کے ثالثی عمل کو سراہتے نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف ایران اور چین کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایک مؤثر رابطہ کار ریاست بننے کی کوشش کر رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل آئے تو اسلام آباد محدود سفارتی سہولت کاری کر سکتا ہے۔ بظاہر امریکہ اور ایران کے مابین مطالبات اور شرائط پر بظاہر بات آگے نہیں بڑھ رہی اور فریقین اپنے اپنے مؤقف پر کاربند دکھائی دیتے ہیں لیکن پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ اس کیفیت کا خاتمہ ہو اور فریقین کیلئے قابلِ قبول حل نکل سکے۔
وزیر اعظم شہبازشریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس تنازع کے حل کیلئے اہم قوتوں خصوصاً امریکہ‘ چین اور روس کے محاذ پر سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ خصوصاً سعودی عرب کا محاذ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جبکہ ایران کا محاذ وزیر داخلہ محسن نقوی کے سپرد ہے۔ مطلب یہ کہ علاقائی استحکام اور پاکستان کی ثالثی کی نتیجہ خیزی کیلئے سب اپنے اپنے محاذ پر نتائج کی فراہمی کیلئے فعال نظر آ رہے ہیں۔ کیا پاکستان ان کوششوں میں کامیاب رہے گا‘ اس حوالے سے آئندہ چند روز اہم ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved