تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     21-05-2026

پنکی اور Whataboutism

وہ جو شاعرہ نے کہا تھا کہ ''بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے‘‘ تو اصل بات یہ ہے کہ بچے چالاک نہیں ہوئے‘ ہم سے زیادہ عقلمند ہو گئے ہیں۔ اب وہ دور چلا گیا جب بچوں کو سوال پوچھنے پر یا اختلاف کرنے پر ڈانٹ پڑتی تھی۔ آج کے بچوں کا وژن‘ پہلی نسل کے بزرگوں کے وژن سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ٹچ سکرین کا زمانہ ہے۔ بچے ایک ٹچ سے جان لیتے ہیں کہ سات سمندر پار کیا ہو رہا ہے۔
میں اپنی بیٹی سے بحث کر رہا تھا کہ پنکی بی بی کو یونہی پکڑ لیا گیا ہے‘ اسے سلطانی گواہ بنا کر ان لوگوں کے نام معلوم کریں جو اس کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ بیٹی کہنے لگی: پشت پناہی کرنے والے کبھی نہیں سامنے لائے جائیں گے کیونکہ عین ممکن ہے کہ پشت پناہی کرنے والوں کی سیاسی جماعتوں میں اعلیٰ پوزیشنیں ہوں یا وہ بلند مناصب پر ہوں۔ ایسے صاحبان کو سامنے لانے اور پکڑنے سے کسی پارٹی پر زد پڑ سکتی ہے‘ اقتدار کمزور ہو سکتا ہے‘ کسی کے ووٹ کم ہو سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ پنکی کو یونہی پکڑ لیا گیا ہے تو اسے بالکل صحیح پکڑا گیا ہے۔ اگر پشت پر کوئی اور تھا اور پنکی صرف آلۂ کار بنی تھی تواسے اس لیے کڑی سزا ملنی چاہیے کہ آلۂ کار بننے والے عبرت پکڑیں۔
اب میں نے ایک اور زاویے سے بات کی۔ پوچھا: آخر پنکی بی بی کی ڈرگ فروشی سے کتنے لوگ مرے ہوں گے؟ سینکڑوں مرے ہوں گے؟ بیٹی کہنے لگی: ہو سکتا ہے یہ تعداد ہزاروں میں ہو کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے یہ کام کر رہی تھی اور پھر اس کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا۔ بالکل! میں نے کہا: چلیں ہزاروں میں ہو گی پنکی کے متاثرین کی تعداد! لیکن جن کی وجہ سے لاکھوں لو گ ہلاک ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں‘ کیا انہیں پکڑا گیا؟ وہ جو افغان جنگ میں زبردستی حصہ دار بن گیا‘ محض اپنے عہدِ اقتدار کو طول دینے کیلئے‘ جس نے ملک کی سرحدوں کو ملیامیٹ کر کے جنگجو لا بسائے اور دہشت گردوں کو تخلیق کیا جو آج تک ہمارے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں‘ کیا اسے سزا دی گئی؟ کوئی مہذب ملک ہوتا تو بعد از مرگ مقدمہ چلایا جاتا۔ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں مجرموں کے جسموں کو قبروں سے نکال کر لٹکایا گیا! کیا حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں ظاہر کیے جانے والے مجرموں کو سزا دی گئی؟ کم از کم عمران خان جیسے جری انسان کو اپنی حکومت کے دوران یہ کام ضرور کرنا چاہیے تھا۔ یہ اور بات کہ اقتدار سے اترنے کے بعد انہوں نے بارہا اس رپورٹ کا نام لیا۔ اگر عمران خان جیسا دُھن کا پکا اور نڈر وزیراعظم اس رپورٹ پر عمل پیرا نہ ہو سکا تو اور کون مائی کا لعل ہو گا جو یہ بھاری پتھر اٹھا سکے؟ چلیے مان لیا پنکی کی پھیلائی ہوئی منشیات سے ہزاروں اموات ہوئی ہوں گی اس لیے وہ مجرم ہے‘ تو بچوں کے دودھ میں ملاوٹ کرنے والے کیا کم مجرم ہیں؟ غذائی اشیا میں ملاوٹ کیا قاتلانہ حملے سے کم ہے؟ کیا حکومت بتائے گی کہ پاکستان میں ڈمپروں‘ ٹرالیوں اور ٹریکٹروں کی اندھا دھند ڈرائیونگ سے ہر ہفتے کتنی اموات ہوتی ہیں؟ ایسے کتنے وحشی ڈرائیوروں کو موت یا قید کی سزا دی گئی ہے؟ دلوں میں جعلی سٹنٹ لگانے والے اور بغیر ضرورت سٹنٹ ٹھونسنے والے ڈاکٹر نما قاتلوں کے چہروں پر کپڑا ڈال کر عدالتوں میں کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟ کوئٹہ میں جس سردار نے سرکاری اہلکار کو دن دہاڑے گاڑی کے نیچے‘ افطار سے ذرا پہلے‘ روند ڈالا تھا‘ اُس سردار کو عدالت میں اس طرح کیوں نہیں پیش کیا گیا جس طرح پنکی کو پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے کہ کچھ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ان کے چہرے کپڑے سے ڈھانک دیے جاتے ہیں اور کچھ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ دو انگلیوں سے فتح کا نشان بنا رہے ہوتے ہیں۔ ریاست چاہے تو ایک سابق وزیراعظم کو اس لیے تختۂ دار پر لٹکا دیتی ہے کہ قتل کا حکم مبینہ طور پر اُس نے دیا تھا؛ اگرچہ قتل کرنے والے اور تھے‘ اور ریاست چاہے تو پنکی کی پشتیبانی کرنے والوں کا سراغ ہی نہ لگائے! اور لگائے بھی تو ان کے نام نہ افشا کیے جائیں! بغیر پشت پناہی کے چڑیا بھی پَر مارے تو پکڑی جائے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عورت ملک کے طول وعرض میں سالہا سال منشیات کی فروخت اس طرح کرتی پھرے کہ درجنوں افراد استعمال ہو رہے ہوں اور پھر بھی پکڑی نہ جائے؟ بچہ بھی سمجھ سکتا ہے اور پاگل بھی جانتا ہے کہ اس کے پیچھے مضبوط اور طاقتور لوگ ہیں۔ وہی تو اصل مجرم ہیں۔ پنکی کا قصور یہ ہے کہ وہ کاؤنٹر پر بیٹھی ہوئی تھی۔
بیٹی نے میرے یہ تقریر نما دلائل سنے۔ ہنسی اور کہنے لگی: ابو! لگتا ہے آپ Whataboutism کا شکار ہو گئے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہوتا ہے؟ وہ پھر ہنسی اور کہا کہ کسی پر لگے الزام کی اہمیت کم کرنے کیلئے And what about کہہ کر کسی اور جرم کی مثال دی جائے تو اسے Whataboutism کہا جاتا ہے۔ یعنی پانی کو گدلا کر دیا جائے تا کہ جرم ہلکا لگنے لگے۔ سرد جنگ کے زمانے میں جب امریکہ سوویت یونین پر الزام لگاتا تھا کہ لوگوں کو سائبیریا بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ سسک سسک کر مر جاتے ہیں تو روسی جواب دیتے تھے کہ What about slavery in Southern states of USA?۔ یعنی امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں کالوں کو غلام بنا کر تم نے تھوڑے ظلم ڈھائے ہیں۔ Whataboutism کو اردو میں ''انحرافی دلائل‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ باپ بیٹے کو ڈانٹتا ہے کہ تم شام گئے اتنی دیر سے لوٹتے ہو۔ بیٹا آگے سے انحرافی دلیل دیتا ہے کہ آپ بھی تو کبھی کبھی رات کو ایک بجے گھر آتے ہیں۔ بیٹی نے گفتگو جاری رکھی: ابو! آپ جب اُن اموات کا ذکر کرتے ہیں جو جعلی ادویات یا ڈمپروں کی وجہ سے واقع ہوتی ہیں تو اس سے فائدہ تو کچھ نہیں ہوتا‘ ہاں پنکی کے جرائم کی شدت کم ہوجاتی ہے!!
بیٹی میرے علم میں Whataboutism کا اضافہ کر کے اپنے بچوں کو سلانے چلی گئی مگر مجھے تشخیص کا ایک فارمولا دے گئی۔ ہمارے ملک کو بھی اسی ''انحرافی دلیل بازی‘‘ نے خوار و زبوں کیا ہے۔ ایک طرف سے سرے محل کا الزام لگتا ہے تو دوسری طرف سے ایون فیلڈ کا بتایا جاتا ہے۔ سندھ کی کرپشن کا الزام لگتا ہے تو What about کہہ کر پنجاب کے خرید کردہ جہاز کا پوچھا جاتا ہے۔ اس طرح کسی الزام کی سچائی یا عدم صداقت پر بات کرنے کے بجائے الزام‘ جوابی الزام اور الزام در الزام کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اپنے اوپر لگے الزام کا جواب کوئی نہیں دیتا۔ نہ کوئی اعتراف کرتا ہے نہ نادم ہی ہوتا ہے نہ وضاحت ہی کرتا ہے۔ موضوع پر بات کرنے کے بجائے اشتعال انگیزیاں کی جاتی ہیں۔ سچ الزامات کی تہہ میں دب جاتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ جوابی الزام لگانے سے پہلے‘ اپنے اوپر لگے الزام کا جواب دینا چاہیے۔اگر ایسا ہو جائے تو سیاستدان اور حکمران غلط کام کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں گے کہ کل الزام لگے گا تو وضاحت کرنا پڑے گی۔
ویسے جوابی الزام لگانا جرم کا اعتراف ہی تو ہے۔ میں اگر سچا ہوں تو الزام کا جواب دوں گا۔ دل میں چور ہو گا تو الزام لگانے والے کا ماضی کھنگالنا شروع کر دوں گا۔ پارٹیوں کے اندر حقیقی جمہوریت ہو تو پارٹی ارکان خود ہی اپنے سربراہ کا محاسبہ کر لیتے ہیں۔ فریق مخالف کو الزام لگانے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ جب تک سیاسی پارٹیاں خاندانی قبضوں سے نجات نہیں حاصل کرتیں‘ What about ہی سے کام نکالیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved