اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے۔ آسمان کا لغوی معنی رفعت اور بلندی ہے۔ عربی کا زبان کا لفظ ''سُمُوٌ‘‘ آسمان سے لیا گیا ہے۔ جس شخص کا اخلاق اور کردار بہت بلند ہو اسے ''سُمُوٌ‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ الطاف حسن قریشی کا شمار بھی انہی شخصیات میں ہوتا ہے‘ جو پاک سرزمین کے آسمان کا ایک روشن آفتاب تھے۔ الطاف حسن صاحب سے بات کرکے لطف آتا تھا‘ نرمی اور گداز کا احساس ہوتا تھا۔ ان کی ایک خوبصورت عادت تھی کہ ہر رمضان میں کسی ایسے دوست کو افطاری کی دعوت دیتے جس کے ساتھ ان کے مزاج میں ہم آہنگی کا سامان ہوتا اور پھر کھل کر تبادلۂ خیالات ہوتا۔ یہ بات انہوں نے مجھے اُس وقت بتائی جب افطار کی دعوت کے بعد دیر گئے تک ہم تبادلۂ خیال کرتے رہے۔ وہ میرے بزرگ بھی تھے اور دوست بھی۔ میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا کہ انہوں نے افطار کے مہمانوں کی پُرلطف فہرست میں مجھ جیسے عاجز کو بھی شامل کیا۔ مجھے 'اردو ڈائجسٹ‘ میں کچھ عرصہ لکھنے کا بھی موقع ملا۔ ان کے ڈائجسٹ نے معاشرے کو سنورا۔ تہذیب پیدا کی‘ اخلاق درست کیے۔ قوم کے اندر حضور نبی کریمﷺ کی محبت کے فانوس روشن کیے۔ پاکستانیت کے چراغ جلائے۔ فرقہ پرستی کے کینسر کو دلائل کی شعاعوں سے ادھ موا سا کر دیا۔ قائدؒ اور اقبالؒ کی فکر کو پاک سرزمین کا آسمان بنانے کی بھرپور جدوجہد کا بیڑہ اٹھایا۔
ان کا جسد خاکی جامعہ اشرفیہ کی علمی سرزمین پر تھا تو روح آسمانوں کی رفعتوں میں اللہ تعالیٰ کے پاس تھی۔ ان کے بھتیجے جناب ذکی اعجاز کا شکریہ کہ ان کی اطلاع پر بروقت جنازے میں پہنچ گئے۔ الطاف صاحب کی میت کے ساتھ ہمسفر ہونے کا موقع یوں ملا کہ ان کے فرزند ارجمند طیب قریشی نے مجھے بھی اس گاڑی میں بٹھا لیا جس میں میت کی چار پائی تھی۔ میانی صاحب کی زمین میں کتنے آسمان مدفون ہیں‘ اس کا شمار نہیں۔ یہاں موجود ہم سب لوگوں نے صحافت کے ایک درخشاں و تاباں آفتاب کو زمین میں مدفون کر دیا۔ اللہ کے آخری رسول حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے کسی مسلمان کا جنازہ پڑھا اسے ایک ''قیراط‘‘ کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح جس نے تدفین میں حصہ لیا اسے بھی ایک قیراط کا اجر ملے گا۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ایک قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔ یعنی جو جنازے کی دعائوں میں شامل ہو گیا اور پھر قبر پر جو دعا مانگی جاتی ہے‘ اس میں بھی شامل ہو گیا تو وہ دو قیراط کا ثواب لے گیا۔ میری خوش قسمتی کہ جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی قبر پر دعا کرانے کا اعزاز مجھے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت کا گلستان بنائے۔
اللہ کے رسولﷺ کے فرامین کی روشنی میں مومن کے الوداعی سفر کی کیفیت کچھ یوں ہے کہ مومن کا ایک قدم جب دنیا میں ہوتا ہے اور دوسرا قدم اگلے جہان میں تو مومن کے مقام ومرتبے کے مطابق فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں۔ کسی کے پاس چند فرشتے‘ کسی کے پاس سینکڑوں‘ کسی کے پاس ہزاروں‘ اور کوئی خوش قسمت ایسا بھی ہوتا ہے کہ جہاں تک مومن کی نظر جاتی ہے فرشتے ہی فرشتے نظر آتے ہیں۔ یہ بہت بڑا استقبال اور ایسا نورانی استقبال ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی زبان اس کی عظمت ورفعت کا حال بیان نہیں کر سکتی۔
آخر پر موت کا فرشتہ آتا ہے۔ السلام علیکم کہتا ہے‘ اور سر کے پاس (سرہانے) بیٹھ جاتا ہے۔ مومن مرد یا مومن خاتون کو مخاطب کرکے کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی جانب آ جائو۔ پاکیزہ انسان کی پاکیزہ روح خوشیوں سے سرشار ہو کر بیتاب ہو جاتی ہے کہ جسم کے اس قید خانے سے نکلے اور اپنے رب کریم کے پاس پہنچ جائے۔ اب وہ اس طرح نکلتی ہے جیسے پانی کی مشک سے ایک قطرہ ٹپک پڑتا ہے اور ''ملک الموت‘‘ کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ جنت سے لائے گئے لباس میں یہ روح محو استراحت ہو جاتی ہے۔ اس سے کستوری کی خوشبوئیں پھوٹ پھوٹ نکلتی ہیں۔ فرشتے اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور آسمان کی جانب محو پروازہو جاتے ہیں۔ آسمانِ دنیا کا دروازہ آتا ہے تو دربان پوچھتا ہے: کون ہے؟ روحانی مومن کا نام مع ولدیت بتایا جاتا ہے تو ''مرحبا‘‘ کہتے ہوئے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر دروازے سے گزر کر پروٹوکول کے ساتھ ساتویں آسمان پر روحانی انسان پہنچتا ہے تو اس کے خالق و مالک کی جانب سے ندا آتی ہے: اے بندے! تجھ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں اور اس جسم پر بھی کہ جسے تو چھوڑ آیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ روحانی مومن انسان اپنے چھوڑے ہوئے وجود کے پاس آتا ہے تو میت پہ رونے والوں کو آواز دیتا ہے کہ اس کو جلدی سے لے چلو۔ وہ اس لیے جلدی چاہتا ہے کہ کہاں ساتوں آسمانوں کے نظارے اور کہاں اس فانی دنیا کی کوڑا نما زندگی کہ جس سے جان چھوٹ گئی۔ جی ہاں! آخرکار خاکی وجود مٹی کی نذر ہوا اور مومن کے روحانی وجود کو قرار آ گیا۔
لیجئے جناب! جسدِ خاکی قبر میں اتارا گیا‘ دعا کا اختتام ہوا اور لوگ چل دیے۔ اللہ تعالیٰ نے جانے والوں کے قدموں کی چاپ اپنے روحانی بندے کو بھی سنوا دی۔ دنیا سے رابطہ ختم ہوا اور اب حساب کتاب والے فرشتے آ گئے۔ مومن کے سامنے اب ایک نیا منظر ہے۔ آفتاب غروب ہونے کو ہے۔ بندۂ مومن فرشتوں سے کہتا ہے: ارے بھئی! ذرا ٹھہرو! ٹائم تھوڑا ہے‘ مجھے عصر کی نماز ادا کر لینے دو۔ اللہ اللہ! کامرانی کا یہ پہلا زینہ ہے۔ مومن نمازی ہے۔ کامران ہو گیا ہے۔ اب فرشتے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ میرا رب ہے۔ اسلا م میرا دین ہے۔ حضرت محمدﷺ میرے نبی ہیں۔ خالق و مالک کی طرف سے آواز آتی ہے: میرے بندے نے سچ کہا۔ میرا بندہ کامیاب ہو گیا۔
اب اگلا منظر کچھ یوں ہے جیسے ہلکا سا اندھیرا چھا گیا ہو۔ مگر ساتھ ہی ایک انتہائی خوبصورت اور نورانی وجود سامنے آ جاتا ہے۔ اس وجود کا چہرہ بے حد روشن ہے۔ کامیاب مومن یا مومنہ کہتے ہیں: ہم اکیلے کے پاس آپ کون ہیں؟ اس قدر مونس وغمخوار‘ سراپا پیار ہی پیار۔ الفت و محبت اور نور ہی نور۔ وہ کہتا ہے: میں تمہارا نیک عمل ہوں۔ اللہ اللہ! کامیاب وکامران روحانی انسان کے سامنے اب اس کا اپنا عمل ایک نیک وجود کی صورت میں ہے۔ وہ جو انسانیت کا غمخوار بنا رہا‘ بے بسوں کے کام آتا رہا‘ بیوائوں اور یتیموں کا سہارا بنا رہا‘ چغل خوری‘ حسد‘ لالچ‘ حرام خوری اور بدگمانی سے محفوظ رہا... اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے: میرے بندے کے لیے جنت کے دروازے کھول دو۔ ریشمی بستر لگا دو۔ جی ہاں! اب علیین والے گلستانوں میں اس کو مرتبے کے مطابق اعلیٰ مقام مل جاتا ہے۔ فوت شدہ جنتی رشتہ داروں سے ملاقاتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ جنت کے دروازے کھل کر اپنے اندر کے نظارے دکھلاتے ہیں۔ مومن کہتا ہے: اللہ کریم! قیامت قائم فرما! تاکہ میں جنت میں داخل ہو جائوں۔
اے اللہ کریم! اپنے بندے الطاف حسن قریشی اور ہم سب کے پیاروں کے لیے ایسے نظارے مقدر فرما دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved