تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     23-05-2026

جنگل کا قانون

دو تین روز پہلے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں مذاکرات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اسے سن اور پڑھ کر ہر شخص کو یوں لگا: میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ دونوں زعما نے دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کی نہایت دو ٹوک انداز میں ترجمانی کی ہے۔ چین اور روس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپسی کے خطرے سے دوچار ہے۔ اگرچہ میں اپنے نہاں خانۂ دل کی یہ ترجمانی پڑھ کر خوشی سے جھوم اٹھا ہوں‘ تاہم میں ان زعما سے بصد ادب ذرا سا اختلاف کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ بالعموم جب ''جنگل کا قانون‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہاں نہ کوئی قاعدہ‘ نہ ضابطہ اور نہ کوئی اصول نہ قانون ہوتا ہے۔
دلوں کی ترجمانی کرنے والی ایک شاعرہ زہرا نگاہ نے ایک اور زاویۂ نگاہ سے جنگل پر نظر ڈالی ہے اور اپنے تاثرات ایک نظم ''سنا ہے‘‘ میں بیان کیے ہیں۔ چند سطریں ملاحظہ کیجئے:
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے؍ سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا؍ سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے؍ کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو؍ کسی لکڑی کے تختے پر؍ گلہری، سانپ بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں؍ سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
مگریہاں کوئی دستور نہیں‘ شہنشاہِ عالم ایک فرمان جاری کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کے چارٹر کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان کے فوجی وینزویلا کے صدر کو اپنے ملک‘ اپنے گھر سے اٹھا لیتے ہیں۔ پابہ جو لاں اسے شہنشاہ کے حضور امریکہ میں پیش کر دیتے ہیں۔ اس لیے کہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی قوت کہنے والا کسی دستور‘ کسی قانون‘ کسی اقوام متحدہ‘ کسی سلامتی کونسل اور کسی عالمی عدالتِ انصاف کو نہیں مانتا۔ وہ برملا کہتا ہے کہ میں وہ کروں گا جو میرا دل چاہے گا۔ دنیا کے کئی عالی دماغ سکالرز‘ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور مجھ جیسے طالبعلم جدید استعماری دور کے بارے میں کچھ عرصے سے اپنی آرا پیش کرتے چلے آ رہے ہیں مگر سپر پاور اور اپنے تئیں ساری دنیا کا مالک و مختار ڈونلڈ ٹرمپ کب ایسی کسی بات کو سننے کی زحمت گوارا کرتا ہے۔ البتہ بیجنگ میں ولادیمیر پوتن اور شی جی پنگ کے دستخطوں سے جاری ہونے والے جامع مشترکہ اعلامیہ میں وہ کچھ کہا گیا ہے جو غالباً چین نے اس سے پہلے کبھی اتنے دو ٹوک اور واضح انداز میں نہیں کہا تھا۔ اس اعلامیے میں سب سے پہلے یہ کہا گیا کہ عالمی قوت امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ کر کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کسی خود مختار ملک پر چڑھ دوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو ایک بار پھر جنگل کے قانون کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ چین اور روس نے علی الاعلان کہا ہے کہ ایک سپر پاور نے استعماری اور یک قطبی قوت کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ ایک عالمی قوت نے بین الاقوامی تجارت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ اعلامیے میں نام تو نہیں لیا گیا لیکن واضح اشارہ امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی طرف ہے۔ چین اور روس نے دیگر ملکوں سے کہا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ان رکاوٹوں کو دور کریں اور یکطرفہ مداخلت کا خاتمہ کریں۔ بعد ازاں کریملن سے اعلامیے کی مزید تفصیلات دنیا کو بتائی گئیں۔ ان تفصیلات کے مطابق ایک بڑی طاقت کی من مانی سے گلوبل سپلائی چین کا تسلسل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سمندروں میں اس یکطرفہ مداخلت سے بحری تجارت بھی شدید نوعیت کے خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔ ملٹری ایڈونچر ازم سے عالمی امن و استقرار تباہ اور خود مختار ملکوں کی سرحدوں کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ کسی ملک کے لیڈروں کا سازشوں اور مخبریوں کے ذریعے قتل نہایت قابلِ مذمت ہے۔ کسی ملک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے داخلی نظام پر حملہ آور ہو وہاں رجیم چینج کی کوشش کرے۔
کریملن سے جاری کی گئی وضاحت میں واضح کیا گیا کہ دوسری عالمی جنگ میں دنیا نے ناقابلِ تصور تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا تھا۔ ایسی تباہی سے دنیا کو مستقبل میں محفوظ رکھنے کیلئے یو این او کا چارٹر بنایا گیا جس پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ اس چارٹر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی سرحدوں کے تقدس کو پامال کیا جائے گا۔ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھنے والے ملک کا صدر جس انداز میں دوسرے ملکوں کی خود مختاری کو پامال کر رہا ہے‘ اس سے عالمی امن کیلئے قائم ہونے والے نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکہ نے تخفیفِ اسلحہ کے معاہدے پر دستخط کیے مگر اس کے باوجود وہ طرح طرح کے ہولناک میزائل اور تباہ کن فضائی ہتھیار بنا رہا ہے۔ یہ امریکی کارروائی اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل دنیا کے ساتھ کیے گئے کسی عہد و پیمان کی پاسداری نہیں کرتے۔ غزہ پر مسلط کی جانے والی جنگ کے دوران دنیا کے ہر چارٹر اور اخلاقی ضابطے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہزاروں فلسطینی بچوں کو قتل کر دیا۔دوسری جانب امریکہ نے ایران پر حملوں کے آغاز ہی میں ایک پرائمری سکول پر حملہ کرکے 168 بچیوں کو شہید کر دیا۔ اس پر دنیا بھر میں شدید احتجاج ہوا‘ اب واشنگٹن میں بھی اس ہولناک جنگی جرم کی تحقیق ہو رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی 40 روزہ جنگ کے بعد ایران کی بہترین جنگی حکمت عملی اور اس کی طرف سے اسرائیل اور خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملوں کو دیکھ کر امریکہ ایران کے ساتھ ''مذاکرات‘‘ کر رہا ہے۔ اگر امریکہ کی طرف سے یہ مذاکرات نیک نیتی سے کیے جاتے تو اب تک کامیابی سے ہمکنار ہو چکے ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف پاکستان کی ثالثی کی تعریف کرتے ہیں اور دوسری طرف مسلسل ایران کو دھمکیاں دیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم‘ فیلڈ مارشل‘ وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ نے شٹل ڈپلومیسی کی تاریخ میں نئے ابواب رقم کیے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک مرتبہ پھر ایران کا دورہ کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے بجائے اپنا حکم چلانے اور رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں اسی لیے مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے۔ اب جنگیں سائبر سپیس‘ بیلسٹک اور ہائپر سانک میزائلوں سے لڑی جا رہی ہیں۔ ایران کے پاس اتنے تباہ کن جدید ہتھیار نہیں جتنے امریکہ کے پاس ہیں مگر ایران نے اپنے محدود ذرائع اور امریکہ کی طرف سے ہزار نوعیت کی پابندیوں کے باوجود ڈرونز اور میزائل بنا ئے ہیں۔ حالیہ جنگ کے دوران امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے اندر اپنے جدید اسلحہ سے دشمن کو وہ نقصان پہنچایا جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔ اب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے مزید فضائی ہتھیار بنا لیے ہیں۔ امریکی صدر کے دورۂ چین کے فوری بعد روسی صدر پوتن کا بیجنگ کا دورہ عالمی منظر نامے پر دور رس نتائج کا حامل ہو گا۔
روس اور چین کے مشترکہ اعلامیے سے دنیا کو بالعموم اور ہمارے خطے کو بالخصوص ایک نیا حوصلہ ملا ہے۔ دونوں عالمی قوتوں نے دنیا کو گواہ بنا کر بتا دیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کی تباہی کے بعد امنِ عالم کیلئے جو بین الاقوامی فورم بنایا گیا تھا امریکہ اس کے چارٹر اور پروگرام کا احترام نہیں کر رہا۔ اگر خدانخواستہ ایک بار پھر دنیا تباہی سے دوچار ہوتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہو گی۔ چین مظلوم ملکوں کی حمایت میں عملی قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر اس کرۂ ارضی پر کوئی دستور یا قانون ضابطہ نہیں رہنے دیا۔ اب روس اور چین دیگر ملکوں کو ساتھ ملا کر دنیا کو کوئی دستور دیں‘ بقول زہرا نگاہ: سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ میرے مولا اس کرۂ ارض پر کوئی ایسا دستور نافذ کر کہ جس کے بعد کوئی طاقتور اپنی من مانی نہ کر سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved