اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے غریب عوام تقریباً 80سال سے قربانی کا بکرا بنے ہوئے ہیں اور حکمران عوام کی خون پسینے کی کمائی اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر عیاشی کر رہے ہیں۔ عوام کو پھر سے قربانی کا بکرا بنانے کیلئے حکومت اور آئی ایم ایف میں آئندہ بجٹ کی اہم تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں لاگت کے مطابق اضافہ یا ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے آج تک ہماری اشرافیہ میں شامل طبقات کی بھاری بھرکم تنخواہوں اور مراعات پر سوال نہیں اٹھایا۔آئی ایم ایف نے کبھی نہیں کہا کہ چیئرمین سینیٹ‘ سپیکر قومی اسمبلی‘ وزرا‘ مشیران‘ ممبرانِ پارلیمنٹ‘ سینیٹرزاوربڑے بڑے سرکاری افسروں کی تنخواہیں اور مراعات لاکھوں‘ کروڑوں میں کیوں ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ کیوں ہورہا ہے؟
حکومت کی جانب ہر دفعہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا یہ آخری پروگرام ہو گا مگر جیسے ہی ایک پروگرام مکمل ہونے کے قریب پہنچتا ہے نئے پروگرام کیلئے مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں ملک مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے جبکہ عوام کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ جب معاشی پالیسیاں عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے صرف قرضوں کی واپسی اور حکمرانوں کی موج مستی کو مدنظر رکھ کر بنائی جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام آدمی پر پڑتے ہیں کیونکہ ہمارے حکمرانوں کی طر ف سے وطنِ عزیز پر لادا گیا یہ قرض عام آدمی کو ہی ادا کرنا پڑتا ہے۔ افتخار عارف نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے:
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
ادھر مہنگائی نے آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے‘ ادارۂ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سالانہ مہنگائی کی شرح 14.52 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 64 فیصد‘ ڈیزل میں 61 فیصد‘ آٹے میں 57 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 52 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر بجٹ میں نئے ٹیکس عائد کیے گئے اور پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا تو یہ عوام پر مہنگائی کا ایک اور طوفان بلکہ سونامی مسلط کرنے کے مترادف ہوگا۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محض پانچ روپے فی لٹر کمی کو ریلیف قرار دینا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ یہ کمی مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ حکومت عوام کا صبر نہ آزمائے۔ مہنگائی کا طوفان عوام پر عرصۂ حیات تنگ کیے ہوئے ہے۔
موجودہ حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں عوام پر بار بار پٹرولیم بم چلا کر ان کی تکالیف میں اضافہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہمارے حکمرانوں کو حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والی مہنگائی اتنا بڑا مسئلہ ہی نظر نہیں آرہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ حکومت اب یہ جواز بھی پیش نہیں کر سکتی کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے کیونکہ ہمارے ہمسایہ مما لک چین‘ ایران‘ افغانستان‘ بھارت حتیٰ کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ اگر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مسلسل بڑھائے جارہے ہیں تو اس کی اصل وجہ ٹیکس کا شارٹ فال اور آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہیں جنہیں ہر صورت پایۂ تکمیل کو پہنچانا ہے۔ اسی طرح آئے دن بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام کو مہنگائی کے نئے سونامیوں کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست پر حکمرانی کرنے والے اہلِ اقتدار کو عوام کے گمبھیر سے گمبھیر تر مسائل کا احساس کیوں نہیں؟ اگر اب تک کی کسی بھی حکومت کو عوام کیلئے فلاحی ریاست کے آئینی تقاضے پورے کرنے کا احساس نہیں ہوا تو عوام اپنی آئینی ذمہ داریوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ کیونکر عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں امیر اور غریب طبقات کے مابین خلیج مزید گہری ہورہی ہے اور خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ ملک چاہے جس بھی آزمائش سے گزر رہا ہو‘ ملکی معیشت چاہے دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے‘ باوسیلہ مراعات یافتہ حکمران اشرافیہ طبقات کی بودوباش میں کوئی کمی آتی ہے نہ ہی یہ طبقات ملک کی خاطر اپنی مراعات کی معمولی سی بھی قربانی دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس حکومتی اتھارٹی کا سارا زور بے بس و لاچار غریب عوام پر چلتا ہے جنہیں براہِ راست اور بالواسطہ انواع و اقسام کے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا جاتا ہے اور پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی‘ گیس‘ پانی اور جان بچانے والی ادویات کے نرخ بھی ان کی پہنچ سے دور کر دیے جاتے ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر دہری کر رکھی ہے؛ چنانچہ آج بے وسیلہ عوام ''مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کی عملی تصویر بنے زندہ درگور ہوتے نظر آرہے ہیں‘ جن کی ریاست میں کوئی شنوائی نہیں ۔
کہا جا رہا ہے کہ اگلے تین ماہ کے دوران مزید قیامت ٹوٹنے کا اندیشہ ہے کیونکہ امسال بجٹ میں آئی ایم ایف نے حکومت کو پٹرولیم لیوی کی مد میں 1727ارب روپے جمع کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔ بجلی اور گیس پر ٹیکس ریٹ بڑھا کر تقریباً ساڑھے چار سو ارب ٹیکس اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ سبسڈی ختم کرنے اور نئے ٹیکسز لگانے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ماہانہ آمدن کی حد کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ بینکوں اور دیگر ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ زراعت انڈسٹری اور کاروباری طبقے پر بھی مزید ٹیکس لگانے پر اتفاق ہوا ہے۔ آئندہ ماہ آنے والے بجٹ سے مہنگائی کا ایسا طوفان اٹھنے کا اندیشہ ہے جس کا تصور پہلے کبھی نہ تھا۔
دوسری جانب حکمران اشرافیہ خود شاہانہ زندگی گزار رہی ہے۔ صرف جہازوں پر سرکاری خرچ پر سفر کا سالانہ بل تقریباً سو ارب سے تجاوز کر جاتا ہے۔ ایم پی ایز اور ایم این ایز کی تنخواہوں اور مراعات ‘ اور وزرا اور سرکاری افسروں کی سکیورٹی کے نام پر پروٹوکول کا سالانہ خرچ اربوں روپے ہے۔ ہمارے حکمران سالانہ آٹھ ہزار ارب روپے صرف قرضوں پر سود ادا کر رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود عوام سیاسی جماعتوں کے دیوانے‘ مذہبی جماعتوں کے مستانے‘ (ن) لیگ کے متوالے‘ پیپلز پارٹی کے جیالے اور پی ٹی آئی کے ٹائیگر بنے ہوئے ہیں۔ گھروں میں بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں‘ بیماروں کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کیلئے سفارش ڈھونڈنا پڑتی ہے مگر لوگ یکجا ہونے کو تیار نہیں۔ ملک میں سرکاری سکول اور ہسپتال بھی ٹھیکے پر چل رہے ہیں اور ٹھیکیدار سالانہ اربوں روپے کما رہے ہیں۔ بجلی بنائے بغیر آئی پی پیز کو سالانہ اربوں روپے دے دیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں یہ سسٹم کتنی دیر تک قائم رہ سکتا ہے‘ میرا نہیں خیال کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہو۔ ہم بہت تیزی سے تباہی کی جانب لڑھک رہے ہیں۔ اب حکمرانوں کو چھوڑ کر ہمیں عوامی سطح پر منظم ہو کر مشکلات کا ادراک کرنا ہو گا‘ تب جا کر شاید کچھ بچت ہو جائے تاکہ ہم نہ سہی‘ ہماری نسلیں تو قدرے آسان زندگی گزار سکیں۔ بقول مولانا ظفر علی خان:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved