تحریر : اُم ایمن تاریخ اشاعت     23-05-2026

بنگال میں جمہوریت کی پامالی

جس دھرتی نے سبھاش چندر بوس کی انقلابی سوچ‘ رابندر ناتھ ٹیگور کی آفاقی فلاسفی اور قاضی نذر الاسلام کی باغیانہ شاعری کو جنم دیا آج وہاں کی ہواؤں میں ایک عجیب سی گھٹن اور سناٹا ہے۔ 2026ء کے انتخابی نتائج محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ اس گنگا جمنی تہذیب کا نوحہ ہیں جس نے صدیوں سے بنگال کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھا تھا۔ کولکتہ کے تاریخی چوراہوں پر آج فتح کے شادیانے تو بج رہے ہیں لیکن ان کی گونج میں ان 90لاکھ محرومِ تمنا لوگوں کی سسکیاں دب گئی ہیں جنہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی ہی مٹی میں اجنبی بنا دیا گیا ہے۔ مغربی بنگال کا یہ سقوط محض ایک ریاست کا بی جے پی کے قبضے میں جانا نہیں ہے بلکہ یہ اس آخری سیکولر قلعے کا ہتھیا لینا ہے جو ہندوتوا کی زعفرانی لہر کے سامنے ایک فکری رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ دہائیوں تک بنگال نے اس نظریے کو مسترد کیے رکھا جو انسان کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے لیکن آج کی نئی سیاسی بساط پر وہ تمام اصول مات کھا چکے ہیں جن پر جدید بھارت کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
بنگال کو نظریاتی طور پر تسخیر کرنے کا یہ خواب کوئی نیا نہیں ہے‘ اس کی جڑیں تاریخ کے ان تاریک گوشوں میں پیوست ہیں جہاں استعمار نے پہلی بار تقسیم کرو اور حکومت کرو کا فارمولا آزمایا تھا۔ 1905ء میں جب لارڈ کرزن نے انتظامی سہولت کا لبادہ اوڑھ کر بنگال کی وحدت پر وار کیا تھا تو اس کا اصل مقصد بھی یہی تھا کہ مسلمان اکثریتی مشرقی حصے کو ہندو اکثریتی مغربی حصے سے جدا کر کے بنگالی قومیت کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔ اگرچہ اُس وقت کی عوامی بیداری اور شدید مزاحمت نے انگریز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور 1911ء میں یہ تقسیم منسوخ ہوئی لیکن تفرقے کے جو بیج اُس وقت بوئے گئے تھے انہیں ایک سو بیس سال بعد آج ہندوتوا کی سیاسی مشینری نے بڑی مہارت سے تناور اور زہریلے درختوں میں بدل دیا ہے۔ 1947ء کی تقسیم نے مغربی بنگال کو ایک ہندو اکثریتی صوبے کے طور پر بھارت کا حصہ بنایا لیکن وہاں کے عوام کی اکثریت نے طویل عرصے تک اس فرقہ وارانہ جنونیت کو اپنے معاشرے میں جگہ نہیں دی جو بھارت کے دیگر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ مگر افسوس کہ آج کے نئے بھارت نے وہ کر دکھایا جو برطانوی سامراج بھی نہ کر سکا تھا۔
اس انتخابی معرکے میں جو سب سے بڑا اور ہولناک ہتھیار استعمال کیا گیا وہ سپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کے نام پر کی گئی وہ 'کلینکل سرجری‘ تھی جس نے جمہوری عمل کی روح کو ہی قبض کر لیا۔ تقریباً 90لاکھ ووٹرز جن کی بھاری اکثریت مسلمان طبقے سے تعلق رکھتی تھی‘ کو ایک ہی جنبشِ قلم سے انتخابی فہرستوں سے نکال باہر کیا گیا۔ یہ کل ووٹرز کا تقریباً 10فیصد بنتا ہے‘ اور یہ کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں ہیں۔ مرشد آباد‘ مالدہ اور شمالی دیناج پور جیسے اضلاع میں‘ جہاں ہار جیت کا فیصلہ چند ہزار ووٹوں پر ہوتا تھا‘ وہاں لاکھوں ووٹرز کا اخراج محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک 'سائنسی انجینئرنگ‘ تھی۔ اسے اگر خاموش سیاسی نسل کشی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جب آپ کسی آبادی کے ایک بڑے حصے کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیتے ہیں تو آپ دراصل انہیں سیاسی طور پر زندہ درگور کر دیتے ہیں۔ یہ وہ ہولناک بلیو پرنٹ ہے جس کے ذریعے عوامی رائے کو دبایا نہیں گیا بلکہ اسے پاک (Purify) کر دیا گیا ہے تاکہ زعفرانی پرچم کی برتری کو کوئی چیلنج نہ کر سکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بنگال کے مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی حب الوطنی کا ثبوت اپنی جانیں دے کر دیا لیکن بدقسمتی سے تقسیم کے بعد سے انہیں ہمیشہ ایک ایسے امتحان سے گزارا گیا جس کا کوئی اختتام نہیں۔ آج بی جے پی نے اسی تاریخی عدم تحفظ کو اپنا سب سے بڑا اثاثہ بنا لیا ہے۔ بنگالی مسلمانوں کو ''گھس بیٹھیا‘‘ اور ''دیمک‘‘ قرار دے کر ایک ایسا ماحول تیار کیا گیا جہاں اکثریت کو یہ یقین دلا دیا گیا کہ ان کی تمام معاشی اور سماجی مشکلات کا واحد سبب یہ اقلیت ہے۔ یہ وہی زہریلا بیانیہ ہے جو کسی بھی فاشسٹ نظام کی بنیاد ہوتا ہے جہاں ایک اندرونی دشمن تخلیق کیا جاتا ہے تاکہ عوامی غیظ و غضب کا رخ موڑا جا سکے۔ جب ریاست کا نو منتخب وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری سرعام یہ کہتا ہے کہ اسے جیتنے کے لیے مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں تو وہ دراصل اس جمہوری معاہدے کو پامال کر رہا ہوتا ہے جو ہر شہری کو ریاست کا برابر کا حصہ دار بناتا ہے۔
انتخابات کے فوری بعد کے مناظر کسی بھی مہذب معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ مغربی بنگال‘ جو اپنی رواداری اور کثیر جہتی ثقافت کے لیے مشہور تھا‘ آج وہاں انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹیں بتا رہی ہیں کہ مسلمانوں کی بستیوں کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے‘ ان کے معاشی ذرائع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور خوف کی وہ فضا قائم کر دی گئی ہے جہاں عام آدمی اپنے ہی گھر میں خود کو قیدی محسوس کرتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نئی قیادت کا لہجہ کسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ ایک قابض فوج جیسا ہے۔ جب ایک ذمہ دار عہدے پر بیٹھا شخص اپنے ہی شہریوں کو غزہ کے محصورین سے تشبیہ دے اور انہیں 'سبق سکھانے‘ کی دھمکیاں دے تو سمجھ لیں کہ آئین اور قانون کا دم نکل چکا ہے۔ بنگال کو ایک ایسی تجربہ گاہ میں بدل دیا گیا ہے جہاں شہریت کا معیار اب مٹی سے وفاداری نہیں بلکہ حکمران جماعت کے نظریے سے وابستگی محسوس بن چکا ہے۔
ممتا بینر جی کا سقوط‘ خاص طور پر ان کے اپنے گڑھ بھوانی پور سے‘ کئی ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جن کا جواب اب شاید ہی کبھی مل سکے۔ ایک ایسی لیڈر جو برسوں سے عوامی مقبولیت کے پہاڑ پر بیٹھی تھی‘ وہ اچانک 15ہزار ووٹوں کے مشکوک مارجن سے کیسے ہار گئی؟ ترنمول کانگریس کے الزامات کہ الیکشن کمیشن نے ایک منظم دھاندلی کی‘ اب محض ہارے ہوئے سیاستدان کی فریاد نہیں لگتے۔ بھارت کے وہ تمام ادارے جو کبھی جمہوریت کے ستون ہوا کرتے تھے آج وہ جس تیزی سے ایک مخصوص نظریے کے تابع ہوئے ہیں اس نے انتخابی شفافیت کے پورے تصور کو ہی مشکوک بنا دیا ہے۔ اگر ووٹنگ کے عمل کو ہی مخصوص نظریات کے حامل افراد کے لیے مخصوص کر دیا جائے تو پھر بھارت کو ''دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کہنا محض ایک تاریخی مذاق بن کر رہ جائے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved