تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     23-05-2026

حاجی کیلئے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم

یومِ عرفہ سال کا سب سے افضل اور بابرکت دن ہے‘ اس روز اللہ تعالیٰ میدانِ عرفات میں موجود حجاج کے گناہوں کو معاف فرما کر ان پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے۔ حج کا سب سے بڑا رکن وقوفِ عرفہ اسی دن ادا کیا جاتا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں فرماتا‘‘ (مسلم: 1348)۔ غیر حاجیوں کیلئے اس دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ رسولﷺ کا ارشاد ہے: ''یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس کے ذریعے پچھلے سال اور اگلے سال کے گناہوں کو معاف فرما دے گا‘‘ (مسلم: 1162)۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حج انتہائی دشوار اور مشقت بھری عبادت ہے‘ جس میں مناسکِ حج کی ادائیگی کیلئے حاجی کو بہت زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے اور مختلف قسم کی مشقتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں‘ جبکہ وقوفِ عرفہ میں حاجی کی اصل عبادت یہ ہے کہ وہ اس وقت ذکر واذکار‘ استغفار‘ گریہ وزاری اور دعائوں میں گزارے‘ پس اگر حاجی روزہ رکھے گا تو وہ کمزوری اور تھکن کی وجہ سے ان عبادات کو پوری توجہ اور نشاط کے ساتھ ادا نہیں کر سکے گا اور وقوفِ عرفہ اور حج کے اصل مقصد میں کوتاہی اور نقص آ جائے گا‘ اسی بنا پر حاجی کیلئے روزہ نہ رکھنے کو افضل اور مستحب قرار دیا گیا ہے اور اسی حکمت کے پیشِ نظرخود نبیﷺ نے امت پر بھی رحمت ورَأفَت کے پیشِ نظر روزہ نہیں رکھا‘ بلکہ روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ''رسول اللہﷺ نے عرفات میں عرفہ کے دن روزے سے منع فرمایا ہے‘‘ (ابودائود: 2440) (2) حضرت ام فضلؓ بنت حارث بیان کرتی ہیں: انہوں نے میدانِ عرفات میں (شام کے وقت) نبی کریمﷺ کیلئے دودھ کا پیالہ بھیجا‘ آپﷺ اپنی سواری پر وقوف کی حالت میں تھے‘ آپﷺ نے اپنے ہاتھ میں وہ پیالہ لیا اور اُسے پی لیا‘‘ (صحیح بخاری: 5618)۔ تمام لوگوں کے سامنے آپﷺ نے دودھ نوش فرما کر بتا دیا کہ یہاں اس مقام پر حاجی کیلئے روزہ رکھنا مناسب نہیں۔ چونکہ خلفائے راشدینؓ بھی اُمت کے رہبر اور پیشوا تھے اور لوگ اُن کا اتباع اور اقتدا کرتے تھے‘ لہٰذا اُنہوں نے بھی اسی مصلحت کے پیشِ نظر اُس دن روزہ رکھنے سے گریز کیا کہ لوگ انہیں دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کر دیں گے اور اپنے آپ کو مشقت اور دشواری میں ڈالیں گے۔ البتہ اگر کوئی حاجی جسمانی اعتبار سے صحتمند اور طاقتور ہو اور روزے کی وجہ سے اُسے کمزوری محسوس نہ ہوتی ہو اور حج کی عبادات کی بجا آوری میں نقص اور کوتاہی کا بھی کوئی اندیشہ نہ ہو‘ تو اُس کیلئے روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں‘ بلکہ روزہ رکھنا افضل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اَسلاف سے اس دن روزہ رکھنے کی روایات منقول ہیں؛ چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
''حضرت عبداللہ بن زبیر‘ حضرت اُسامہ بن زید اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم عرفہ کے دن عرفات میں روزے کی حالت میں ہوتے تھے اور حضرت حسنِ بصری اسے اچھا سمجھتے تھے اور وہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ بھی اسے پسند کرتے تھے‘‘ (فتح الباری‘ ج: 4‘ ص: 238)۔ بعض اہلِ علم نے عرفہ کے دن حاجی کیلئے روزے کی کراہت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ اُن کیلئے عید کا دن ہے اور عید کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے؛ چنانچہ حضرت عقبہؓ بن عامر بیان کرتے ہیں: نبیﷺ نے فرمایا: ''یومِ عرفہ‘ یوم النحر اور ایامِ تشریق ہم اہلِ اسلام کی عید اور کھانے پینے کے دن ہیں‘‘ (ترمذی: 773)۔ بہرحال عرفہ کے دن روزے کی فضیلت یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ اگلے‘ پچھلے دو سالوں کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اورحضرت عبداللہؓ بن عمر بیان کرتے ہیں: ''ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ یہ روزہ رکھتے تھے اور نبیﷺ اور ہم اسے ایک سال کے روزوں برابر سمجھتے تھے‘‘ (شرح معانی الآثار: 3269)۔ اہلِ سنت کے نزدیک یومِ عرفہ کے روزے اور اس کے علاوہ فضائلِ اعمال سے تعلق رکھنے والے دیگر اعمال کی برکت سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں اور کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے‘ اگر کسی کے صغیرہ گناہ نہ ہوں تو اس کے کبیرہ گناہوں میں تخفیف ہو جاتی ہے اور اگرکبیرہ گناہ بھی نہ ہوں تو اس کے درجات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ کسی کو نوازنا چاہے تو: رحمتِ حق بہا نمی جوید۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے گناہوں کا معاف ہونا تو سمجھ میں آتا ہے‘ لیکن اگلے سال کے گناہ تو ابھی سرزد ہوئے ہی نہیں تو ان کی معافی کا کیا مطلب ہے‘ کیونکہ معافی کا موقع گناہ کے ارتکاب کے بعد آتا ہے۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے: اگلے سال کے گناہوں کے معاف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے اگلے سال گناہوں سے محفوظ فرماتا ہے‘ اس سے ہر حاجی اندازہ لگا سکتا ہے کہ آیا اس کا حج عنداللہ مقبول ہوا یا نہیں‘ یعنی حج کی قبولیت کا اثر آئندہ زندگی میں گناہوں سے اجتناب کی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے۔ نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''اے نبی! آپ کی طرف جو کتاب وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کیجیے اور نماز قائم کیجیے‘ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘‘ (العنکبوت: 43)۔ اس کی تفسیر میں علامہ طبرسی نے حضرت امام جعفر صادق ؒکا یہ قول نقل کیا ہے: ''جو شخص یہ جاننا چاہے کہ آیا اس کی نماز بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی ہے یا نہیں‘ تو وہ اپنا جائزہ لے کہ کیا اس کی نماز نے اسے بے حیائی اور برائی سے روکا ہے‘ سو جس قدر اس کی نماز نے اسے برائی سے روکا ہے‘ اسی قدر اُس کی نماز قبول ہوئی ہے‘‘ (مجمع البیان‘ ج: 7‘ ص: 447)۔
یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے اس قدر اجر وثواب عطا فرماتا ہے جو گزشتہ اور آنے والے سال کے گناہوں کے کفارے کیلئے کفایت کرتا ہے۔ اس دن خوب دعائوں اور توبہ واستغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔ حدیث پاک میں ہے: ''حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور بہترین بات وہ ہے جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے کہی (اور وہ یہ ہے:) لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ‘ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ‘‘ (ترمذی: 3585)۔
دنیا بھر میں طلوع اور غروب کے اوقات مختلف علاقوں کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں‘ اسی حساب سے سحر وافطار کے اوقات کا فرق ہوتا ہے‘ اسی طرح سے ہر مقام کے اعتبار سے نمازوں کے اوقات کا تعیّن ہوتا ہے اور مختلف خطوں کے اعتبار سے قمری مہینوں کا آغاز ہوتا ہے‘ ہر شخص اپنے علاقے کے اوقات کے مطابق نماز پڑھتا ہے‘ رمضان کا آغاز اور اختتام کرتا ہے‘ شبِ قدر میں عبادت کرتا ہے‘ اسی طرح تمام عبادات کا حکم ہے۔ جس طرح پوری دنیا میں جمعہ ایک وقت میں نہیں ہوتا اور نہ ہی قدرت کے بنائے ہوئے نظامِ گردشِ لیل ونہار کی وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے‘ مثلاً: پاکستان میں جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو امریکہ میں رات ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی کو بھی محروم نہیں فرماتا‘ ہر ایک کے لیے جہاں اُن کے اپنے وقت اور تاریخ کے مطابق وہ ساعت آئے گی اُس وقت وہاں پر اللہ کے جو بندے مصروفِ دعا ہوں گے‘ اللہ تعالیٰ کی عطا سے انہیں قبولیت نصیب ہو گی۔ جو لوگ حج پر گئے ہوئے ہیں‘ ان کے لیے یومِ عرفہ وہاں کے مطابق ہوگا اور جو دور دراز ممالک میں مقیم ہیں‘ اُن کے لیے یومِ عرفہ ان کے اپنے جاری کیلنڈر کے مطابق ہو گا۔ مکہ والے وہاں کے مطابق عرفہ کا روزہ رکھیں گے اور دوسرے ممالک والے اپنے اپنے نظام الاوقات کے مطابق رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ شبِ قدر اور جمعۃ المبارک کی ساعتِ قبولیت کی طرح ہر عبادت گزار اور سائل کو نوازے گا۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی کہ بعض لوگ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عطا‘ اس کے کرم اور رحمت کو زمان ومکان میں محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: ''اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے‘‘ (الاعراف: 156) (2) ''سنو! اس کی قدرت ہر چیز پر محیط ہے‘‘ (فصلت: 54)۔ اور کوئی چاہے تو نو ذوالحجہ کے ساتھ سات اور آٹھ ذوالحجہ کے روزے بھی رکھ سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved