مجھے جو انگریزی فلمیں بہت پسند ہیں اور جنہیں میں کئی بار دیکھ چکا ہوں‘ اور اب بھی اگر کیبل پر لگی ہوئی ہوں تو پورے اہتمام کے ساتھ ایسے بیٹھ کر دیکھتا ہوں جیسے پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں‘ ان میں ٹام کروز اور ڈیمی مور کی A Few Good Men شامل ہے۔ مجھے جب بھی کوئی ایسا شخص ملتا ہے جس کی سوچ‘ ذہانت یا کام مجھے اچھا لگے تو میرے ذہن میں اسی فلم کا خیال ابھرتا ہے اور دل میں اس کے لیے عزت بڑھ جاتی ہے۔ پھر ایک بھارتی فلم کا ڈائیلاگ یاد آتا ہے کہ جب اپنا بچہ تکلیف میں ہو تو جانور بھی کانپ اٹھتے ہیں اور اس کے لیے جو بن پڑے وہ کرتے ہیں۔ اصل انسانیت تو یہی ہے کہ آپ دوسرے کے بچوں کے لیے بھی اتنا ہی درد اور خیال رکھیں جتنا اپنے بچوں کے لیے رکھتے ہیں۔
یہ سب خیالات میرے ذہن میں برطانیہ سے آئے عبدالرزاق ساجد سے ملاقات کے دوران ابھرے۔ان سے ہماری ملاقات میجر عامر کے گھر پر ہوئی۔ گھر کیا کہیے وہ تو دوستوں کا ٹھکانہ ہے‘ ایک مہربان سرائے ہے جہاں ہر قسم‘ نسل‘ زبان اور رنگ کے بے تحاشا مسافر آپ کو ملتے ہیں۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر مجھے اکبر بادشاہ کا دور یاد آتا ہے جہاں کسی کا مذہب‘ زبان‘ شکل‘ نسب‘ نسل‘ امارت یا غربت اہم نہیں تھے۔ نہ کوئی برتر تھا نہ کمتر‘ سب برابر تھے۔ میجر عامر کے گھر بھی سب برابر اور اس سرائے کے پختون میزبان کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ اس طرح کا ماحول مجھے میجر عامر سے پہلے اپنے گاؤں والے گھر کا لگتا تھا‘ اور پھر اسلام آباد میں ڈاکٹر ظفر الطاف کا گھر بھی اسی کیفیت کا حامل تھا۔
جب میری شادی ہوئی تو سردی کا موسم تھا۔ بیگم صاحبہ ہمارے گاؤں والے گھر آئیں تو وہاں نعیم بھائی اماں کی پرانی چھوٹی سی کوٹھی (باورچی خانہ) میں لکڑیوں کی آگ جلا کر پورے گاؤں کے لوگوں‘ جن میں خواتین اور مرد سبھی شامل تھے‘ کے ساتھ گپیں لگا رہے تھے۔ سلگتی لکڑیاں‘ سگریٹ اور حقے کا دھواں‘ اوپر سے چائے کے دور چل رہے تھے۔ غریب‘ امیر سب برابر تھے۔ وہ پریشان ہو کر واپس آئیں اور مجھ سے پوچھا: یہ سب کیا چل رہا ہے؟ اس کا مطلب تھا کہ نعیم بھائی اور یہ ہجوم... میں نے کہا: محترمہ ہم بچپن سے یہی دیکھتے آئے ہیں۔ یہ اکبر بادشاہ کا دربار ہے۔ یہاں سب برابر ہیں‘ امیر غریب‘ قصائی‘ میراثی‘ کوٹانہ‘ مہر‘ ملک یا خان‘ سب برابر۔ آپ یا تو اس دربار میں شامل ہو جائیں‘ حقہ پی لیں‘ چائے کے دور میں بیٹھ جائیں یا پھر اپنے کمرے میں رہیں لیکن ہمارے بادشاہ سلامت (نعیم بھائی) کو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ وہ اپنی زندگی اسی طرح جیتے ہیں‘ وہ ان غریبوں میں خوش رہتے ہیں‘ وہ ان سے پیار کرتے ہیں اور یہ ان سے۔
یہی احساسات مجھے ڈاکٹر ظفر الطاف کے ہاں بھی دوپہر کے کھانے پر محسوس ہوتے تھے۔ وہ لوگوں کو کھانا کھلا کر خوش ہوتے تھے۔ صبح سویرے اٹھ کر بلیک کافی پینے کے بعد وہ اخبارات پڑھتے اور اپنی لائبریری کی کتابوں میں گم ہو جاتے۔ ایسے کتاب دوست شاید ہی دیکھنے کو ملیں۔ گیارہ بجے وہ خود خانِ ساماں کے ساتھ کھڑے ہو کر مختلف طرح کے سوپ تیار کرواتے‘ پھر زبردست کھانا تیار ہوتا۔ وہ سب دوستوں کو فون کرتے کہ بھائی جان آ جائیں‘ تندور سے گرم گرم روٹیاں منگوائی جاتیں اور وہ خود ہر دوست‘ کولیگ یا سابقہ ماتحت کی پلیٹ میں سوپ اور سالن ڈالتے اور ان کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھتا۔ اگر اچانک مزید مہمان آ جاتے اور سالن کم پڑنے کا کوئی خدشہ ہوتا تو وہ خود پیاز کے ساتھ روٹی کھا لیتے تاکہ مہمان کو شرمندگی نہ ہو۔ یا مہمانوں کے جانے کے بعد انڈہ پیاز بنا کر کھا لیتے۔ اٹھارہ سال تک یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔ کیا کیا محفلیں ہوتی تھیں‘ کیسے کیسے بڑے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ امیر ہو یا غریب‘ بڑا افسر ہو یا ماتحت‘ سب اس دسترخوان پر برابر تھے۔ وہ بھی مجھے اکبر بادشاہ کا دربار یا دسترخوان لگتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کا دل بھی بادشاہوں جیسا تھا۔ اب اسلام آباد میں یہی ماحول میجر عامر کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں کم از کم ایک وقت میں درجن بھر مہمان ضرور ہوتے ہیں۔ بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ ایک روایتی پختون کا دل اور جیب اتنی کشادہ کیسے ہو سکتی ہے۔ لگتا ہے جو کمائی ہوتی ہے وہ سب کھانے پلانے پر خرچ ہو جاتی ہے۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی مہمان آ رہا ہوتا ہے یا جا رہا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دن مہمان نہ ہو وہ اور ان کی بیگم صاحبہ (ہماری بہن) افسردہ ہو جاتے ہیں۔ اگر کچھ دن غیر حاضری ہو جائے تو اس پختون کا فون آتا ہے: بدبختو کدھر ہو؟ ہم یہاں دسترخوان اور دل سجائے بیٹھے ہیں۔ میجر عامر کے گھر بھی بڑے بڑے لوگوں کو دیکھا اور کم حیثیت لوگوں کو بھی۔ اگر ان کے ڈرائنگ روم میں آنے والی شخصیات کا ذکر شروع کیا جائے تو یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ لیکن ان کا خاص وصف یہ ہے کہ وہ کمزور دوستوں کا ذکر ہمیشہ زیادہ کرتے ہیں‘ کبھی بڑائی یا نمائش نہیں کرتے۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے عمار خان کو دوستوں کی خدمت پر مامور رکھتے ہیں جو سب کے سامنے نہایت ادب سے خدمت کرتا ہے۔ یہ وہ اکلوتا بیٹا ہے جسے لاڈ پیار سے بگاڑا نہیں گیا بلکہ اس کی عاجزی اور انکساری پر رشک آتا ہے۔ والدین نے بچوں کی تربیت کیسے کرنی ہے‘ یہ سیکھنا ہو تو عمار سے ملاقات کافی ہے۔
چند دن پہلے میجر عامر کا فون آیا: ''رؤف بھائی کدھر ہو؟ بڑے دن ہو گئے آپ کا چکر نہیں لگا۔ آج رات برطانیہ سے ایک دوست آئے ہوئے ہیں‘ آپ کو ان سے ملوانا ہے۔ کچھ اور دوست بھی آ رہے ہیں‘ آ جائیں اچھی گپ شپ ہو جائے گی‘‘۔ وہاں عبدالرزاق ساجد سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تفصیلی تعارف ہوا تو دل میں ان کے لیے عزت بڑھ گئی۔ اس محفل میں ہمارے دوست سلیم صافی‘ اعلیٰ پائے کے لکھاری اور صحافی سجاد اظہر‘ چھوٹے بھائی سہیل اقبال بھٹی‘ طارق عزیز‘ نواز کھرل‘ میجر صاحب کے پرانے دوست ائیر کموڈور ایف ایس بھٹی اور کوئٹہ سے خان آف قلات کی فیملی سے تعلق رکھنے والے صحافی شہزادہ ذوالفقار بھی موجود تھے۔ میجر عامر عبدالرزاق صاحب کے بارے میں بتا رہے تھے کہ کس طرح انہوں نے لاہور میں ایک جدید فلاحی ہسپتال قائم کیا ‘ اب اسلام آباد؍راولپنڈی میں بھی ہسپتال بنانے پر آمادہ ہیں۔ میجر عامر کی یہ خوبی ہے کہ وہ دوستوں کی اچھی باتیں ہمیشہ آگے پہنچاتے ہیں۔ اگر کوئی آپ کے بارے میں پیٹھ پیچھے تعریف کرے تو وہ ضرور بتاتے ہیں۔ منفی باتیں نہیں بتاتے۔ اکثر لوگ اتنے کنجوس ہوتے ہیں کہ تعریف سن کر بھی آگے نہیں پہنچاتے مگر شکایت فوراً کر دیتے ہیں۔
ہمارے دوست طارق عزیز کو ابھی چند دن پہلے ریاستی ایوارڈ ملا ہے۔ اس لیے جب وہ اندر آئے تو میجر عامر نے کہا: ‘‘آپ کو مبارکباد دینی ہے یا افسوس کرنا ہے؟'' اس پر قہقہہ لگ گیا کیونکہ جس طرح ایوارڈ کا حال ہوا ہے‘ اب جو مستحق ہیں وہ بھی چھپتے پھرتے ہیں۔ میجر عامر بھی ہمارے پیارے ملتانی ڈاکٹر انوار احمد کی طرح ہیں کہ بندہ بھلے مکمل طور پر ضائع ہو جائے لیکن جملہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ بندہ تو دوسرا بھی مل جاتا ہے مگر جملہ اگر ایک بار ضائع ہو جائے تو پھر اس جیسا کہاں سے آئے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved