ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ کو ختم کرانے کے لیے ثالث کا کردار ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ خبریں ابھی تک تو اچھی آ رہی ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس جنگ نے ہمیں تو بھاری معاشی مجبوریوں کی وجہ سے جھنجھوڑنا ہی تھا مگر اس کے منفی اثرات دنیا کے ہر کونے میں دیکھے اور محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ تو ایرانی عوام اذیت کا شکار رہے۔ دہائیوں کی معاشی پابندیوں کے بوجھ نے انہیں پہلے ہی ہلکان کر رکھا تھا اب چالیس دنوں کی بمباری اور پھر بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے جو حال کیا ہے وہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔ ایران نے تزویراتی حکمت عملی کا جو جال پورے خطے میں پراکسیوں کی صورت پھیلایا ہوا تھا‘ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا شکار ہوا۔غزہ میں نسل کشی کی جدید دور میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اب ظلم وبربریت کی وہی کہانی جنوبی لبنان میں دہرائی جا رہی ہے۔ ایران انقلاب کے دن سے اپنے خلاف اٹھتی ہوئی مخالف قوتوں کا اندازہ بخوبی لگا چکا تھا۔ نہ تو خطے کے ممالک نہ امریکہ اور اس کے مغربی حلیف اسلامی انقلاب کے پھیلائو اور رجعت پسند مذہبی رجحان کی ترویج و اشاعت کو برداشت کر سکتے تھے۔ ایک نئے نظریے‘ نئے انقلاب اور اپنے طرز کی وسعت پسندی کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ ایسی سلگتی جنگوں میں اتحادوں کی تلاش‘ نظریے کی صداقت اور اندرونی ہم آہنگی کے ساتھ بھرپور دفاعی تیاریاں بھی اہم ہتھیار رہے ہیں۔ ایران صرف ایک علاقائی ریاست‘ شام کو اپنا حلیف بنا سکا تھا۔ اس کی وجوہات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ فرقہ بندی ایران مخالف اور اُس کے حق میں اسلامی دنیا کے سب معاشروں میں ایک نئی طاقت کے ساتھ جدید دور میں ابھری۔ اسلامی حلقوں میں ایران کے اسلامی انقلاب کی حمایت فرقہ واریت کے جذبوں سے ماورا تھی۔ وہ بھی اپنے ملکوں میں ایسے انقلاب کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے۔ یہ سب باتیں اب فروعی ہیں۔ ان کا تذکرہ ایک تمہید کے طور پر کیا ہے کہ فوکس اُس سرد جنگ پر رکھنا مقصود ہے۔ اس خیال اور سوال کے ساتھ کہ اب اس جنگ کے بعد اس کے شعلے ٹھنڈے پڑیں گے یا چنگاریاں کہیں راکھ میں کسی نئی آگ کو بھڑکا ئیں گی؟
مغرب اور اس کے سیاسی اور دفاعی اتحادیوں نے پہلے اشتراکی اور بعد میں ایرانی انقلاب کو محدود کرنے کی پالیسی اپنائی۔ موجودہ جنگ کا اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے‘ اس طویل جنگ کے دوران دونوں فریقوں کے نظریاتی‘ سیاسی اور تزویراتی حربوں کے بارے میں بہت کچھ جزئیات کے ساتھ لکھا جائے گا۔ ایران کو محدود کرنے کے لیے جو حصار اور اس کے عناصر استعمال ہوئے وہ سوویت یونین اور چین کے خلاف آلہ کاروں سے صرف محل وقوع اور حالات کے لحاظ سے مختلف تھے‘ کئی قدریں ان میں مشترک تھیں۔ ایران کے خلاف بھی اندر سے ابھرتی سماجی اور نظریاتی تحریکوں کو ہوا دی گئی۔ اس کے ساتھ پوری دنیا میں جو رجیم بارے نقشہ کھینچا گیا اُس کے رنگ عین اسی نوعیت کے تھے جو ایک زمانے میں اشتراکی چین اور تب کے سوویت یونین کے متعلق ہوا کرتے تھے۔ اس سرد جنگ کے اثرات کے حوالے سے ایک اور قدرِ مشترک کچھ ممالک میں ایسے گروہوں اور سماجی طاقتوں کو اپنے زیرِ اثر لانا تھا جو مخالف ممالک کی حکومتوں کے لیے فانے کا کام دے سکیں۔ یہاں سب سے بڑا اور بنیادی فرق جدید نظریاتی اور مخصوص مذہبی رجحانات کی صورت ہمیں نظر آتا ہے۔ اشتراکیت جدید نظریہ رہا ہے اور اب بھی جہاں کہیں انقلابی خون جوش مارتا ہے اس کی گرفت محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس وسیع تر علاقائی اتحاد پید اکرنے کی غرض سے مخصوص مذہبی خیالات کی حمایت کوئی نئی بات تو نہیں مگر ہم نے اس نوعیت کی بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی میں ریاستوں کے کردار کو کلیدی دیکھا۔ یہ آگ جو ہمارے معاشروں میں لگی وہ کسی ایک سمت سے ہرگز نہیں تھی۔ عدم اعتماد‘ خوف اور کچھ پرانی تاریخ کے اوراق جس نئے رنگ میں لکھے گئے‘ وہ مرغی اور انڈے والا معاملہ بنتا چلا گیا ہے۔ اس کا حتمی تعین کبھی موافق ترین حالات میں کرنا بھی ممکن نہیں کہ پہلے کیا تھا اور کیا ہوا۔
یہاں کسی ایک کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور نہ اس کی ضرورت ہے۔ اس لیے نہیں کہ سرد جنگوں میں جب تنائو پیدا ہوتا ہے تو ان کے محرکات اسباب میں بھی موجود ہوتے ہیں اور نتائج میں بھی۔ اس گھمن گھیری میں حکومتوں کی نظریں حالاتِ حاضرہ پر رہتی ہیں اور اکثر ان کی پالیسی دور اندیش نہیں ہوتی بلکہ ردعمل کے خلاف ردعمل کی رو میں بہتی رہتی ہے۔ یہی کچھ ہم نے مشرق وسطیٰ میں دیکھا۔ پہلے تو عراق کے صدام حسین کو شہ دے کر اور ا س کی بے پناہ مالی اور عسکری حمایت کرکے ایران کے انقلاب کو دبائو میں رکھنے اور ممکنہ حد تک اُس کا تختہ الٹنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے ساتھ عربوں کا جھکائو اور دفاعی انحصار امریکہ کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ ایران نے بھی غیر ریاستی عناصر کا سہارا لیا کہ مخالفین کو کہیں دور مصروف رکھا جائے۔ لیکن یہ کوئی آسان اور بلاخطر پالیسی نہ تھی۔ ایران اور عربوں کی ایک دوسرے کے خلاف پالیسیوں کا جائزہ لیں تو بداعتمادی‘ شک اور خوف نے دونوں جانب ایسا ذہن بنایا کہ باہمی خلیج بڑھتی ہی چلی گئی۔ آخرکار جو آپ نے ایران کے خلاف جنگ میں ہوتے دیکھا اور جو ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر کچھ عرب ریاستوں میں کر دکھایا اسے آپ برادر کشی نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے۔
سب گرم اور سرد جنگیں ایک دن ہم نے ختم ہوتے دیکھیں اور انقلابوں کی بھاپ بھی ٹھنڈی ہوتی دیکھی ہے۔ چین کا نظریاتی رخ بھی وہاں کی بڑی پارٹی نے تبدیل کرکے اسے دنیا کی بڑی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ سوویت یونین نے اپنے آپ کو کئی طرح کے بوجھ سے ایسا لاد لیا کہ خود ہی گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ اُس کی توسیع پسندانہ روش کو مغرب نے اس کے زوال میں اُس کی کمزوری کے طور پر استعمال کیا اور اس کی مخالف طاقتوں کی زبردست حمایت کی۔ پچھتر سال بعد اشتراکیت ہوا ہو گئی اور سوویت یونین کا ایک نئی ریاست کا تجربہ زمین بوس ہوا۔ ایران کا انقلاب اب دیکھیں پینتالیس سال بعد کیا سمت اختیار کرتا ہے۔ ایرانیوں کا زیادہ تر نقصان معاشی اور عسکری میدان میں ہوا ہے مگر یمن‘ جنوبی لبنان‘ شام اور غزہ میں اس کے اتحادیوں کے لیے سرد جنگ کے جو نتائج نکلے ہیں‘ ان پر ہم بے بسی کے آنسو ہی بہا سکتے ہیں۔ جنگ سرد اور گرم‘ دونوں صورتوں میں ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔
تاریخ ہمیں ہمیشہ غلط ثابت کرتی رہی ہے‘ اس لیے میرا نقطہ نظر بھی غلط ہو سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایران اپنے راستے بدلے گا۔ اس وقت جس چوراہے پر کھڑا ہے‘ یا اسے لا کھڑا کیا گیا ہے‘ جلد یا بدیر اس کا جبر اس کی اندرونی اور خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی صورت دیکھیں گے۔ اگر بداعتمادی‘ شک‘ خوف اور عدم سلامتی جو سرد جنگ اور حالیہ جنگ کے محرکات تھے‘ ختم ہوتے ہیں تو ایران بھی بدلے گا اور دوسروں کو بھی بدلنا ہو گا۔ ہر نوع کی جنگوں کے نتائج ایسے ہی برآمد ہوتے ہیں جن کے بارے میں پہلے سے کچھ کہنا مشکل ہوتا ہے۔ کوئی شک ہے تو امریکہ کے ویتنام اور چین کے ساتھ تعلقات‘ سرمایہ کاری‘ باہمی تجارت اور شراکت داری کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے خطے میں ایک نئے دور کی امید پیدا ہو چکی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved