تحریر : جاوید حفیظ تاریخ اشاعت     25-05-2026

جنگ، امن اور معیشت

امریکہ ایران جنگ بظاہر دو ملکوں کے درمیان تھی لیکن اس کے اثرات پوری دنیا پر ہیں ۔اپریل کے وسط سے اگرچہ جنگ تو رک گئی مگر آبنائے ہرمز جزوی طور پر بند ہونے کی وجہ سے عالمی اقتصادیات پر منفی اثرات طاری ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں کارپوریٹ کمپنیوں کو اب تک 25 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ حکومتوں کے خسارے اس کے علاوہ ہیں۔ دوسری عالمی جنگ اتحادی ممالک نے جیت لی تھی۔ برطانیہ اس اتحاد کا حصہ تھا۔ فاتح ہونے کے باوجود اس طویل جنگ نے برطانوی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ۔ موجودہ جنگ عالمی اقتصادیات پر اب بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ شرح نمو بیشتر ممالک میں سست ہو گئی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں بے پناہ اضافے نے امریکہ سے لے کر پاکستان تک صارفین کو پریشان کیا ہوا ہے۔ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 27 ممالک نے اپنی معیشت پر جنگ کے اثرات کے باعث مدد لینے کیلئے ورلڈ بینک سے رجوع کیا ہے۔ دنیا میں کئی بار ہوا ہے کہ ایک شخص نے اپنی سوچ اور عمل سے تاریخ کا دھارا موڑدیا۔ یہ بات بھی قرینِ قیاس ہے کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے بہت سے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا‘ نائن الیون کو نیویارک میں دو عمارتیں تباہ ہوئیں۔ ان میں کام کرنے والے 3753لوگ‘ سب کے سب بے قصور تھے‘ وہ امریکہ کی پالیسیوں سے منسلک بھی نہیں تھے۔ اب اسے دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ بین الاقوامی امور سے خوب واقف میرے ایک دوست کہا کرتے ہیں کہ دنیا کو اسامہ بن لادن کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ میں نے پہلی مرتبہ ان کے منہ سے یہ بات سنی تو ششدر رہ گیا کیونکہ میری نظر میں اسامہ بن لادن دہشت گرد تھا۔ میں نے استفسار کیا کہ اپنی بات کی تشریح کریں‘ تو کہنے لگے کہ اسامہ بن لادن کی وجہ سے امریکہ پہلے افغانستان اور پھر عراق میں آیا۔ میں نے جواب دیا کہ افغانستان میں تو امریکہ القاعدہ کی وجہ سے آیا مگر عراق میں وجوہات کچھ اور تھیں۔ جواب ملا کہ نائن الیون کے بعد امریکی افواج افغانستان گئیں تو طالبان کی حکومت جلد ہی تحلیل ہو گئی۔ امریکہ کا اپنی عسکری قوت پر گھمنڈ بہت بڑھ گیا اور پھر عراق پر حملے کیلئے بہانے تراشے گئے۔ مہلک ہتھیاروں کے وجود کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔ ان دونوں جنگوں میں امریکہ اپنے اہداف حاصل نہ کر سکا اور اس کا عالمی قد کاٹھ بہت متاثر ہوا۔ اب وہ اکلوتی سپر پاور نہیں رہا بلکہ ملٹی پولر ورلڈ کا حصہ ہے۔
فی کس سالانہ آمدنی کے لحاظ سے قطر دنیا میں اولین نمبروں پر تھا۔ قطر ایل این جی کا بہت بڑا ایکسپورٹر رہا ہے۔ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث قطر کی گیس برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ قطر کی آمدنی خاصی کم ہوئی ہے۔ گیس برآمدات سے حاصل شدہ آمدن قطر کی جی ڈی پی کا 60 فیصد تھی۔ اپنی بے پناہ دولت کے زور پر قطر نے تاریخ کا سب سے مہنگا فٹ بال ورلڈ کپ کرایا۔ اب صورتحال قدرے مختلف ہے۔ قطر نے پاکستان اور ایران سے اچھے تعلقات کی بنا پر چند گیس کارگو شپ پاکستان بھیجے ہیں لیکن مجموعی برآمدات میں خاصی کمی آئی ہے۔ صرف سعودی عرب اور سلطنتِ عمان کی صورتحال بہتر ہے کیونکہ وہ بحیرۂ احمر؍ بحیرۂ عرب سے بھی برآمد کر سکتے ہیں۔ جبکہ متحدہ عرب امارات کو ایسا کرنے کیلئے فجیرہ تک پائپ لائن بچھانا ہو گی اور بندر گاہ کو بہتر کرنا ہو گا۔
لمبی جنگیں ملکوں کو تباہ کر دیتی اور لوگوں کو ہجرت پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ معاشرے کی ہیئت کو برُی طرح متاثر کرتی ہیں۔ شام میں 13 سال تک خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت جاری رہی۔ میں 1970ء کی دہائی میں دمشق میں تین سال رہا۔ سوشلزم کی جانب مائل حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت قدرے جکڑی ہوئی ضرور تھی لیکن امنِ عامہ کی صورتحال مکمل قابو میں تھی۔ جرائم بہت کم تھے۔ میرے ایک شامی دوست حال ہی میں اسلام آباد سے دمشق واپس گئے ہیں۔ یہاں وہ اسلامک یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے۔ اب دمشق جا کر اسلام آباد کو یاد کرتے ہیں کہ پاکستان میں امورِ زندگانی بہت بہتر تھے۔ تیرہ سالہ خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت نے ایک شاندار ملک کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ میں دمشق کے پوش علاقے ابو رمانہ میں قیام پذیر تھا اور وہاں شام کو سڑکیں روزانہ دھوئی جاتی تھیں۔ اب سنا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ان کاموں کیلئے وسائل درکار ہیں جو شاید اب شام کے پاس نہیں ہیں۔ ویسے بھی لمبی جنگیں رعنائی ٔخیال کو مسخ کر دیتی ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر 1965ء اور 1971ء کی جنگیں ہمیں نہ لڑنا پڑتیں تو شاید آج معاشی اعتبار سے ایشین ٹائیگرز کی صف میں کھڑے ہوتے اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ چین‘ جنوبی کوریا‘ جاپان نے عرصے سے کوئی جنگ نہیں لڑی اور اقتصادی ترقی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ اس ترقی کے اہم فیکٹرز امن‘ منصوبہ بندی اور یکسوئی ہیں۔
اب چلتے ہیں روس یوکرین کی جانب۔ روس نے اس طویل جنگ میں 12 فیصد اضافی رقبہ یوکرین سے ضرور چھین لیا لیکن اسے بھاری قیمت بھی چکانا پڑی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں ساڑھے تین لاکھ روسی فوجی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسلحہ کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔ فائدہ صرف روس کی تیل اور گیس کمپنیوں کو ہوا ہے۔ جنگ میں روس کا پلڑا بھاری ضرور رہا لیکن سپر پاور کا درجہ اسے پھر بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ روس اور امریکہ جنگوں میں اپنے وسائل اور انرجی ضائع کرتے رہے اور چین خاموشی سے ترقی کرتا رہا۔ آج چین اقتصادی طور پر روس سے بہت آگے ہے اور چند برسوں میں امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے صرف تیل اور گیس کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی کیمیاوی کھادیں جو خلیجی ممالک بڑی مقدار میں سپلائی کرتے تھے ان کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ یو این کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر یہ جنگ دو تین ماہ مزید جاری رہتی تو دنیا میں مزید ساڑھے چار کروڑ افراد بھوک کا شکار ہو سکتے تھے۔ روس کا خیال تھا کہ مختصر عرصے میں یوکرین گھٹنے ٹیک دے گا۔ اسی طرح امریکہ کا اندازہ تھا کہ وہ چند روز میں ایران میں اپنی پسند کی حکومت لے آئے گا۔ ایران کا تیل پھر وہیں جائے گا جہاں امریکہ چاہے گا اور چین کو بھی ایران سے تیل لینے کیلئے امریکہ کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ مگر یہ سارے اندازے غلط نکلے کیونکہ ایران وینزویلا سے بہت مختلف ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو ڈھائی ہزار سال پہلے سپر پاور تھا۔
امریکہ اور ایران کے مطالبات میں بڑا خلا تھا۔ پاکستان نے ان تمام تر مشکلات کے باوجود پوری کوشش کی کہ بات چیت جاری رہے‘ مذاکرات سے کوئی حل نکلے۔ حال ہی میں ایک دو اچھی خبریں آئی ہیں۔ سنا ہے کہ امریکہ اسرائیل سے کہہ رہا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کیلئے جنوبی لبنان پر فضائی حملے بند کر دیے جائیں۔ دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ وقتی طور پر نرم کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ ایران محدود مدت کیلئے تیل ایکسپورٹ کر سکے۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ امریکہ اور مغربی ممالک ایران کی مکمل تباہی کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر خدانخواستہ ایران مکمل تباہ ہو جائے تو ایرانی ہوّا دکھا کر خلیجی ممالک کو اسلحہ بیچنے کا عمل رک جائے گا۔ اس جنگ سے جہاں بے پناہ نقصانات ہوئے‘ قیمتی جانوں کا نقصان ہوا‘ وہاں پاکستان کو بڑا فائدہ یہ ہواکہ مختصر سے عرصے میں پوری دنیا میں ہمارا امیج بہتر ہوا ہے۔ مغربی میڈیا اور انڈیا نے پورا زور لگا کر برسوں تک دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان دہشتگردی کی سرپرستی کرتا ہے۔ پھر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد سے دریافت نے اس تاثر کو تقویت دی۔تاہم حکومت اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنے اور صلح کے مذاکرات کرانے پر داد کی مستحق ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved